نیب کا لاہور کے ہر چوک پر ڈھول بجا کر نواز شریف کی طلبی کا اعلان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد کا موسم انگڑائی لے رہا ہے پت جھڑ کا موسم آخری سانسیں لے رہا ہے جھاڑے کی آمد آمد ہے مگر سیاسی لحاظ سے موسم گرم ہے عدالتوں میں اہم کیسز کی سماعت ہو رہی ہے۔ آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں گزرے روز غدار قرار دینے والے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے ایک اہم کیس کی سماعت ہوئی کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے کی۔

عدالت نے ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنسز میں سزا کے خلاف سابق وزیر اعظم نواز شریف کی اپیلوں میں مسلسل عدم پیشی اور ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی بھی تعمیل نہ ہونے پر سابق وزیر اعظم کا اشتہار جاری کر دیا۔ گزشتہ روز سماعت کے دوران ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب جہانزیب بھروانہ، ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر عدالت پیش ہوئے۔

اس موقع پر ویڈیو لنک کے ذریعے برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کے فرسٹ سیکرٹری دلدار علی ابڑو اور قونصلر عبدالحنان عدالت پیش ہوئے فرسٹ سیکرٹری دلدار علی ابڑو سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے حلف لیا جس کے بعد انہوں نے بیان کے دوران مختلف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ 17 ستمبر کو نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری موصول ہوئے۔

اسی روز وارنٹ گرفتاری رائل میل کے ذریعے نواز شریف کی رہائش گاہ پر بھجوائے گئے۔ وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کے لیے قونصلر اتاشی راؤ عبدالحنان نواز شریف کی رہائش گاہ گئے۔ نواز شریف کے ملازم یعقوب نے وارنٹ گرفتاری وصول کرنے سے انکار کیا۔ رائل میل کے ذریعے بھجوائے گئے وارنٹ گرفتاری کی ڈیلیوری کی رسیدیں موجود ہیں۔ پاکستانی ہائی کمیشن کے فرسٹ سیکرٹری نے ٹریکنگ نمبر اور آن لائن رسیدیں بھی پیش کر دیں۔ دوسرے گواہ کونسلر راؤ عبدالحنان نے حلف کے بعد بیان دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی رہائش گاہ پر ایڈی نے وارنٹ گرفتاری وصول کرنے سے انکار کیا ایڈی کو کہا کہ کسی کو بلائیں جس پر یعقوب نامی شخص آیا اور اس نے دستاویزات کی نوعیت معلوم کی میں نے دستاویزات کی نوعیت بتانے سے منع کیا یعقوب نامی شخص نے دستاویزات وصول کرنے سے انکار کر دیا۔

یعقوب نے کہا کہ مجھے کسی قسم کے کاغذات وصول کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ 17 ستمبر اور 28 ستمبر کو دو مرتبہ وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کے لیے ایون فیلڈ اپارٹمنٹ گیا جس کے بعد وزارت خارجہ امور کے ڈائریکٹر یورپ محمد مبشر خان نے بیان ریکارڈ کرانے سے قبل سچ بولنے اور عدالت سے کچھ نہ چھپانے کا حلف لیا اور کہا کہ نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری کی نقول میرے پاس موجود ہیں۔

انھوں نے اپنی بات جاری رکھے ہوئے کہا کہ نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری دو اپیلوں میں اس عدالت نے جاری کیے وارنٹ گرفتاری ڈاک کے ذریعے وصول ہوئے تھے۔ جو کورنگ لیٹر کے ساتھ ڈپلومیٹک بیگ میں بھجوائے گئے ڈاک وصول کرنے اور بھجوانے کا رجسٹر میں اندراج کیا گیا۔ ڈپلومیٹک بیگ بھجوانے کا نمبر اس وقت معلوم نہیں جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ کو وہ نمبر بھی عدالت کو بتانا ہو گا۔ محمد مبشر خان نے کہا کہ کورنگ لیٹر کے ساتھ بذریعہ فیکس اور ڈپلومیٹک بیگ کے ذریعے وارنٹ بھجوائے گئے۔

اس موقع پر عدالت نے وزارت خارجہ امور کے ڈائریکٹر یورپ کو آج ہی متعلقہ دستاویزات جمع کرانے کی ہدایت کی جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کتنی دیر میں دستاویزات لے کر آ جائیں گے؟ جس پر مبشر خان نے کہا کہ دو سے تین گھنٹوں میں دستاویزات لے آؤں گا۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ کا آفس کدھر ہے؟ کیا آپ نے دستاویزات یو کے سے لانی ہیں۔ جس پر مبشر خان نے کہا کہ میں ایک گھنٹے تک دستاویزات لے آتا ہوں۔ جس پر عدالت نے کیس کی سماعت میں وقفہ کر دیا گیا۔ ڈیڑھ گھنٹے بعد دوبارہ سماعت شروع ہونے پر فارن آفس کے ڈائریکٹر یورپ محمد مبشر خان متعلقہ دستاویزات جن میں وارنٹ وصولی کے بعد لندن بھجوانے کے علاوہ لندن سے کاغذات کی واپسی کا ریکارڈ شامل تھا۔ عدالت پیش کر دیا اور بتایا کہ نواز شریف کے دو وارنٹ گرفتاری موصول ہوئے ان کے ڈائری رجسٹر لے آیا ہوں 17 ستمبر کو موصول ہونے والی ڈاک کی وصولی کا ڈائری نمبر 8790 تھا۔

اس موقع پر عدالت نے استفسار کیا کہ یہ دفتر خارجہ کو موصول ہو گیا اب اس کے بعد کیا ہوا؟ مبشر خان نے بتایا کہ رجسٹر پر اندراج کے علاوہ کمپیوٹر پر بھی اس کی انٹری کی جاتی ہے۔ ریکارڈ دیکھنے کے بعد عدالت نے ہدایت کی کہ اس کی مصدقہ نقول عدالت جمع کرا دی جائیں اور استفسار کیا کہ اب بتائیں آگے کیا ہو گا؟ جس پر ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل جہانزیب بھروانہ نے کہا کہ اگلا مرحلہ نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کا ہے۔ وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کے عمل میں شریک تین افراد نے بیانات ریکارڈ کرا دیے۔ یہ بات واضح ہے کہ نواز شریف نے جان بوجھ کر وارنٹ گرفتاری وصول نہیں کیے، ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب سردار مظفر نے کہا کہ دستاویز شواہد سے واضح ہے کہ نواز شریف جان بوجھ کر مفرور ہیں، نواز شریف کو اشتہاری قرار دیا جائے، جس پر عدالت نے کہا کہ اگر اشتہار جاری کرنے ہیں تو اس صورت میں اخراجات کون اٹھائے گا؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ اشتہارات کے اخراجات ریاست ہی اٹھائے گی، عدالت نے کہا کہ ریاست سے مراد کیا ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور وفاقی حکومت ہے؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے کہا کہ جی اشتہارات ہم جاری کریں گے، نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ایون فیلڈ ریفرنس کی دوسری اپیلیں 9 دسمبر کو سماعت کے لئے مقرر ہیں۔

جس پر عدالت نے کہا کہ ان اپیلوں کو ابھی چھوڑ دیں شواہد مکمل ہو چکے آج کی جو کارروائی ہے اس کو آگے کیسے چلایا جائے؟ جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ اگر عدالت سمجھتی ہے کہ طریقہ کار مکمل ہو چکا ہے تو نواز شریف کو اشتہاری قرار دے سکتی ہے۔ عدالت نے پراسیکیوٹر نیب سے استفسار کیا کہ اگر عدالت شواہد سے مطمئن ہو چکی تو اس کے بعد آگے کیا کارروائی ہو گی؟

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ اس سے اگلا مرحلہ اشتہار جاری کرنے کا ہے۔ جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ اشتہار کے بعد کتنے دن کا وقت ہوتا ہے؟ جس پر نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ اشتہار کی اشاعت کے بعد 30 دن کا وقت دیا جائے گا جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ اشتہاری قرار دینے کے لئے کتنے اخبارات میں اشتہار جاری کرنا ضروری ہے؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے تین اخبارات کے نام لیتے ہوئے بتایا کہ یہ لندن سے بھی شائع ہوتے ہیں جس پر عدالت نے ایک انگریزی اور ایک اردو دو اخبارات میں اشتہار جاری کرنے کا حکم دیا اور ہدایت کی کہ وفاقی حکومت دو روز میں اشتہار کے اخراجات جمع کرانے جبکہ آئندہ سماعت اشتہار اشاعت کے 30 دن بعد مقرر کردی جائے گی۔
ازاں بعد نیب پراسیکیوٹر جہانزیب بھروانہ کا کہنا تھا کہ لاہور کے ہر چوک چوراہے پر ڈھول بجا کر نواز شریف کی طلبی کی منادی کروائی جائے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بشارت راجہ

بشارت راجہ شہر اقتدار سے پچھلی ایک دہائی سے مختلف اداروں کے ساتھ بطور رپورٹر عدلیہ اور پارلیمنٹ کور کر رہے ہیں۔ یوں تو بشارت راجہ ایم فل سکالر ہیں مگر ان کا ماننا ہے کہ علم وسعت مطالعہ سے آتا ہے۔ صاحب مطالعہ کی تحریر تیغ آبدار کے جوہر دکھاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وسعت مطالعہ کے بغیر نہ لکھنے میں نکھار آتا ہے اور نہ بولنے میں سنوار اس لیے کتابیں پڑھنے کا جنون ہے۔

bisharat-siddiqui has 131 posts and counting.See all posts by bisharat-siddiqui