بھنگ کی کاشت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس نے اپنے سیکرٹری سے پوچھا، ”کراچی کی کیا صورت حال ہے؟“
سیکرٹری نے جواب دیا، ”سر کراچی ڈوب رہا ہے۔“
”تو ہماری حکومت اس بارے میں کیا کر رہی ہے؟“
”سر ہم نے اس بارے میں بیان جاری کر دیا ہے۔“

اس نے اطمینان کی گہری سانس لی، اور کارکردگی کو سراہا۔ پھر اس نے پوچھا، ”گندم اور آٹے کی کیا صورت حال ہے؟“
”سر مافیا نے گندم اسٹاک کر کے قیمت دُگنی کر دی ہے۔“
اس نے تقریباً چلاتے ہوئے پوچھا، ”ہم نے اس بارے میں کیا کیا ہے؟“
”سر! ہم نے باہر سے ہنگامی طور پر گندم امپورٹ کر لی ہے، کچھ ارب روپوں کا نقصان ضرور ہوا ہے، مگر مافیا کا سد باب کر دیا گیا ہے۔ دُگنے ریٹ ہی پر سہی، لیکن عوام کو آٹا اور گندم مل رہے ہیں۔“

اس نے ایک بار پھر اطمینان کا ٹھنڈا سانس بھرا اور سیکرٹری کی تعریف کی۔ پھر اس نے پوچھا، ”چینی کی قیمتوں کا کیا بنا؟“
سیکرٹری نے شرماتے ہوئے جواب دیا، ”سر، مافیا کی وجہ سے چینی 55 روپے سے بڑھ کر 110 روپے میں مل رہی ہے؟“
اس نے تلملا کر قدرے تیز آواز میں پوچھا، ”تو ہماری حکومت نے کیا اقدام کیا؟“
سیکرٹری نے ہچکچاتے ہوئے جواب دیا، ”سر ہم نے مافیا کی رپورٹ تو پبلش کر دی ہے، اور چینی سکینڈل میں ملوث وزرا کی وزارتیں بھی تبدیل کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ سارے ڈی سی اوز کو جرمانے کرنے کا بھی حکم جاری کر دیا گیا ہے۔“

اس نے خوش ہوتے ہوئے ایک بار پھر اطمینان کی سانس لی اور اپنے وزرا کی کارکردگی کی تعریف کی۔ پھر اس نے کچھ سوچتے ہوئے استفسار کیا: ”دواؤں کے اسکینڈل کا کیا بنا؟“
”سر! فقط 30 ارب کی کرپشن ہوئی تھی۔ ہم نے ظفر مرزا سے استعفی لے لیا ہے اور اسے فوراً باہر دفع کر دیا ہے۔ ہم میڈیسن مافیا کے دباؤ میں بالکل بھی نہی آئے، محض 94 ادویات کی قیمتوں میں 7 فی صد سے لے کر 294 فی صد تک کا اضافہ ہوا ہے، جس سے ادویات کی سپلائی بحال ہو گئی ہے اور عوام آپ کی لیڈر شپ سے بہت مطمئن ہے۔“

اس نے حسب معمول اطمینان کا اظہار کیا، پھر بے چینی سے پہلو بدلتے ہوئے قدرے غمگین لہجے میں پوچھا، کشمیر کے معاملے کا ہوا؟“
”سر اگر چہ کشمیری لوگ، ایک سال سے کرفیو کی زد پر ہیں اور انڈیا نے کشمیر پر خاصی جارحانہ پالیسی اختیار کر رکھی ہے، لیکن آپ نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے، جس طرح کشمیر کو اپنے ملک کے نقشے میں شامل کیا ہے اور عسکری ملی نغمہ ریلیز کرایا ہے، اس سے کشمیر کا مسئلہ تو تقریباً حل ہو ہی گیا ہے اور دنیا آپ کی لیڈر شپ کی معترف بھی ہو چکی ہے۔“

اس نے خوش ہوتے ہوئے اپنی نظریں آسمان کی طرف اٹھائیں اور کہا، ”شکر ہے کہ کشمیر کے معاملے میں اللہ نے مجھے سرخرو کر دیا ہے۔“ پھر قدرے پریشانی کے عالم میں پوچھا، ”کورونا سے بے روز گار، غریب، مزدوروں اور دیہاڑی دار لیبر کا کیا بنا؟“
سیکٹری نے جواب دیا، ”سر ہم نے 3 ماہ پہلے ان کو 12 ہزار کی امداد دی ہے، جو ان کے لئے تا حیات کافی ہے۔“
اس نے ایک بار پھر اطمینان کا سانس لیا۔ الغرض، وہ پی آئی اے، ریلویز، اور اسٹیل مل کے خسارے سے لے کر پیٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتوں، کرپشن، اداروں کی کارکردگی اور امن و امان کی صورت احوال پر سوال کرتا رہا اور سیکرٹری کے جوابات سے مطمئن بھی ہوتا رہا۔

پھر اچانک اس نے گہری سانس لیتے ہوئے پوچھا، ”ملنگوں اور بھنگیوں کی کیا صورت حال ہے۔“
سیکرٹری نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا، ”سر ملنگوں اور بھنگیوں کے حالات بہت خراب ہیں۔ نشے کے حصول کے لئے ان کو خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔“

”کیا میں ملنگوں اور بھنگیوں کا وزیر اعظم نہیں ہوں؟“
”بے شک آپ ملنگوں اور بھنگیوں کے بھی وزیر اعظم ہیں۔“ سیکرٹری نے مودبانہ انداز میں جواب دیا۔
اس نے پر عزم لہجے میں فرمان جاری کیا، ”پھر فوراً کابینہ کا ہنگامی اجلاس بلاؤ۔ اس ملک کے چپے چپے پر بھنگ کی کاشت ہو گی۔“
(ایک ملک کے وزیر اعظم کی پرسنل ڈائری سے)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
مسعود اختر باجوہ کی دیگر تحریریں