دماغی صحت کا عالمی دن اور کورونا کے اثرات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان سمیت دنیا بھر میں دماغی صحت کا بین الاقوامی دن 10 اکتوبر کو منایا جائے گا۔ عالمی ادارہ صحت اور ورلڈ فیڈریشن آف مینٹل ہیلتھ کے باہمی اشتراک سے یہ دن ہر سال 10 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ پہلی مرتبہ یہ دن 1992 ء کو دنیا بھر میں منایا گیا تھا، جس کے بعد سے اب تک ہر سال عالمی سطح پر دماغی صحت کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کے منانے کا بنیادی مقصد دماغی صحت اور ذہنی تناؤ کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے۔ ہر سال اس دن کے لئے کوئی خصوصی موضوع منتخب کیا جاتا ہے۔ رواں سال 10 اکتوبر کو منائے جانے والے دماغی صحت کے عالمی دن کا موضوع ”دماغی صحت سب کے لئے، زیادہ سرمایہ کاری، زیادہ دستیابی“ منتخب کیا گیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق ایک بلین کے قریب لوگ دماغی امراض کا شکار ہیں جس میں سرفہرست دماغی مرض ڈپریشن ہے۔ ہر پانچ بالغ یا نابالغ میں سے ایک ڈپریشن کے مرض میں مبتلا ہے اسی طرح شیزوفرینیا بھی ایک خطرناک دماغی مرض ہے جس میں مبتلا افراد اپنی عمر سے دس سے بیس سال پہلے ہی موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں اس کے علاوہ دماغ کی دیگر بیماریاں بھی خطرناک ہیں جن میں اینگزائٹی یا پینک، کنورزن ڈس آرڈر، سائکوٹک ڈس آرڈر، اوبسیسوکمپلزوڈس آرڈرشامل ہیں۔

دماغ کے عدم توازن کی وجہ سے دماغی امراض جنم لیتے ہیں جن کا اگر بروقت علاج نہ کرایا جائے تو دماغی امراض میں مبتلا ا فراد اپنی جان تک لینے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ عالمی ادارہ صحت نے خودکشی پر ہونے والی دس سال کی تحقیق اور ڈیٹا اکٹھا کرنے کے بعد رپورٹ جاری کی ہے کہ دنیا بھر میں ہر سال آٹھ لاکھ افراد خودکشی کر کے اپنے ہی ہاتھوں اپنی جان گنوا بیٹھتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ہر 40 سیکنڈ میں ایک انسان خودکشی کرتاہے۔ خود کشی معاشرے کا ایک ایسا مسئلہ سمجھا جاتا ہے جس پر لوگ بات کرنے سے بھی کتراتے ہیں اس طرح وہ یہ جان ہی نہیں پاتے کہ خودکشی کا تصور کیسے اور کیوں پیدا ہوتا ہے اور اس سے کیسے بچا جائے؟ اگرخودکشی کرنے والے کا مناسب وقت پر علاج کرالیاجائے تو اس میں زندہ رہنے کی امید پیدا ہوجاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں خودکشی کرنے والوں میں زیادہ تر 15 سال سے 29 سال تک کی عمر کے افراد شامل ہیں جبکہ 70 سال سے زائد عمر کے افراد کا اپنی جان لینے کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔ صحت کے ماہرین کے مطابق پاکستان مین بھی 5 کروڑ افراد ذہنی امراض کا شکار ہیں جن میں بالغ افراد کی تعداد ڈیڑھ سو سے ساڑھے تین کروڑ کے قریب ہے۔

عالمی ادارادارے کی رپورٹ کے مطابق ہر سال آٹھ لاکھ افرادخودکشی کرلیتے ہیں جس کی بنیادی وجہ ڈپریشن ہے اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو خدشہ ہے کہ سن 2030 تک ڈپریشن دنیا کا سب سے بڑا مرض بن جائے گا۔ اس سال دماغی صحت کا عالمی دن ان حالات میں آ رہا ہے جبکہ ہر شخص کورونا وبا کے باعث کسی نہ کسی طرح دماغی امراض میں مبتلا ہے۔ کورونا وبا کے باعث موت کاخوف، گھروں میں خود کو بند کر دینا، کاروبار اورملازمتیں ختم ہونا، تعلیم کا سلسلہ رک جانا، حیرت انگیز طور پر دنیا بھر میں لاک ڈاؤن، پروازیں بند، ٹرین وہر قسم کی ٹریفک بند جیسے ماحول نے ہر شخص، بچے، بوڑھے، خواتین کو ذہنی مریض بنا کر رکھ دیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کو اب یہ بھی تشویش ہے کہ دماغی امراض میں مبتلا افراد کی تعداد پہلے سے کئی گنا مزیدبڑھنے کا اندیشہ ہے اسی لئے عالمی ادارہ صحت پہلی مرتبہ دماغی صحت سے متعلق عالمی سطح پر 10 اکتوبر کو ایک بہت بڑا آن لائن پروگرام پیش کر رہا ہے جس میں عالمی لیڈر، دماغی صحت کے ماہرین، عالمی ادارہ صحت کے ماہرین اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی مشہور شخصیات شرکت کریں گی۔ لائیو پروگرام کے دوران بین الاقوامی لیڈرز بتائیں گے کہ وہ کیوں دماغی صحت کو اولیت دے رہے ہیں۔ پروگرام میں مشہور آرٹسٹ اپنی کامیابی کے لئے کی جانے والی جدوجہد کا حوالہ دیتے ہوئے لوگوں کو دماغی صحت سے متعلق مشورہ دیں گے جبکہ تنقید کا نشانہ بننے والے موسیقاراپنی مشہورہونے والی موسیقی پیش کر کے یہ پیغام دیں گے کہ تنقید برداشت کر کے وہ اس قابل بھی ہوئے کہ لوگوں نے ان کی موسیقی کو بے حد پسند کیا۔ یہ لائیوپروگرام پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق شام سات بجے ڈبلیو ایچ او کے سوشل میڈیا چینلز فیس بک، ٹویٹر، لینکڈان، یوٹیوب، اور ٹک ٹاک سے براہ راست پیش کیا جائے گا جو تقریباً تین گھنٹے جاری رہے گا۔ پروگرام کے دوران سوال و جواب کا سیشن بھی ہوگا جس میں دنیا بھر سے کوئی بھی لائیوپروگرام میں اپنے دماغی مرض سے متعلق ماہرین سے سوالات پوچھ کر رہنمائی لے سکتا ہے۔ دماغی امراض سے نجات پانے کے لئے ہمیں مثبت سوچ اپنانا ہوگی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •