ڈاکٹر عبدالحمید: میدان تعلیم کے مجاہد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معلمین کو رحمت عالمﷺ سے نسبت خاص حاصل ہے کہ وہ تعلیم و تربیت کے ارفع فرض کو پورا کرنے پر فائز ہیں۔ وہ معاشرہ سازی میں ایک ستون کی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ ان کی تیار کردہ افرادی قوت نے مستقبل میں معاشرے کی باگ ڈور سنبھالنا ہوتی ہے۔ بلاشبہ ایک استاد کی طرف سے عطا کیا گیا تعلیم و تربیت کا نورانکے طلبہ کی تمام زندگی کو منور کر دیتا ہے۔

لیکن بعض اوقات استاد کی کاوشیں کمرہ جماعت سے ماورا اور کہیں زیادہ ہمہ جہت ہوتی ہیں۔ اگر ایک استاد اپنی تدریس کو اوڑھنا بچھونا بنا لے اوربچوں کے حق تعلیم کے لیے بذریعہ قلم و کلام عملی جہاد میں اپنی تمام زندگی صرف کر دے۔ تو ایسا نابغہ روزگار استاد بلاشبہ بیک وقت مجاہد بھی ہوتا ہے اور قلندر بھی۔

اور اگر ایک معلم اپنی فروغ علم کی شمع اپنے متعلمین میں بھی منتقل کر دے۔ تنہا شروع کیے گئے سفر کو ہمنواوں، دوستوں اور شاگردوں کے قافلے کی شکل دینے میں کامیاب ہو جائے۔ ایسا عظیم تعلیمی لیڈر تو وقت کا دھارا بدل دینے کی طاقت رکھتا ہے۔ ایسے معلم کا فیض آنے والے زمانوں میں بھی جاری رہتا ہے۔ 5 اکتوبر کوایسے ہی اساتذہ کرام کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے عالمی یوم معلمین منایا گیا۔

میں اس یوم معلمین کے موقع پر اپنے ایک استاد محترم کو سلام پیش کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے ساری زندگی شمولیاتی تعلیم کے فروغ کے لیے جہاد میں صرف کی۔ وہ قابل احترام استاد ہیں پروفیسر ڈاکٹرعبدالحمید۔ انہوں نے جامعہ پنجاب کے محکمہ خصوصی تعلیم کے سربراہ اور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی کے سکول آف سوشل سائنسز کے ڈین کے طور پر گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ اور تعلیم و تدریس کا یہ شاندارسیل رواں اپنی تمام تر قوت کے ساتھ آج بھی علم کے طالبین کو رہنمائی فراہم کر رہا ہے۔

میں بالواسطہ طور پر تو ڈاکٹر عبدالحمید کی سٹوڈنٹ اپنی پیشہ وارانہ زندگی کے بہت آغاز سے تھی لیکن ان کی باقاعدہ شاگرد بننے کا اعزاز پہلی بار 2009 میں ملا۔ اس دن سے ان کے علم، وژن، استدلال اور پختہ عزم سے فیض حاصل کرنے کا سفر بلا تعطل جاری ہے۔

پاکستان میں جب بھی شمولیاتی تعلیم کی تاریخ لکھی جائے گی، ڈاکٹر عبدالحمید کا نام اس کے بانیوں اورمضبوط ترین داعیوں میں ہوگا۔ شمولیاتی تعلیم کو عام فہم انداز میں بیان کیا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ تمام بچوں کو ان کے انفرادی اختلافات سمیت قبول کیا جائے۔ اورمتنوع قابلیتوں، معاشی، معاشرتی، لسانی، مذہبی اور جغرافیاتی پس منظر رکھنے والے طلبہ کو بٖغیر کسی تفریق کے ایک ہی مدرسہ میں تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جائے۔

ایک ماہر تعلیم کے طور پر ڈاکٹر صاحب نے شمولیاتی تعلیم کے ماہر اساتذہ کی کئی نسلوں کی آبیاری کی۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس وقت خصوصی اور شمولیاتی تعلیم کے جو بھی ماہرین ملک میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں وہ بلاواسطہ یا بالواسطہ طور پر ڈاکٹر صاحب کے شاگرد ہیں تو یہ غلط نہ ہو گا۔

سر نے ہمیشہ ہم طالبعلموں کو یہ سیکھا یا کہ معاشرتی اور تعلیمی ضروریات کا نبض شناس ہونے کے لیے ایک استاد کا ایک ماہر محقق ہونا اشد ضروری ہے۔ استاد محترم کی نہ صرف ذاتی طور پر بطور محقق گرانقدر خدمات ہیں، بلکہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کی لاتعداد تحقیقات ان کی زیرنگرانی مکمل ہوئی ہیں۔ اس طرح انہوں نے ملکی سطح پر تحقیق کے بنجر میدان کی آبیاری میں اور اس کو زرخیز بنانے میں شاندار خدمات سرانجام دی ہیں۔ یہ سفر ماشا اللہ بھرپور جوش و جذبے سے ہنوز جاری ہے۔

ڈاکٹر صاحب میں ایک لیڈر کے دلیری، صاف گوئی اور عزم جیسے خصایص بدرجہ اتم موجود ہیں۔ ان سے گفتگو کی جائے تومعلوم ہوتا ہے کہ محتلف ادوار میں انہوں نے نا مساعد حالات، متعلقہ اداروں میں آگاہی کی کمی، پیشہ وارانہ سیاست اور اہل منصب میں وژن کے فقدان جیسے بہت سے مسائل کا سامنا کیا۔ لیکن شمولیاتی تعلیم کی اہمیت، ضرورت اور ترویج کے بارے میں ان کا عزم کبھی متزلزل نہیں ہوا۔ انہوں نے گزشتہ تین چار دہائیوں میں ہونے والی تمام متعلقہ پالیسی سازی میں نہ صرف حصہ لیا بلکہ خصوصی بچوں کے یکساں حق تعلیم کے لیے آواز بھی بلند کی۔

اس وقت یکساں قومی نصاب کے سلسلے میں بننے والی ’شمولیاتی تعلیم کی کمیٹی ”کے سربراہ کی حیثیت سے وہ اپنے خواب کو حقیقت بنانے میں عملی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کی انتھک اور بے لوث خدمات کا ثمر ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے ہاتھوں سے اپنی عمر بھر کی جہد مسلسل کو عملی شکل دینے کا موقع فراہم کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر عبدالحمید کے الفاظ میں ”اسلام میں تعلیم حاصل کرنا ہر مرد و عورت پر فرض ہے۔ اس میں کسی بھی جسمانی، ذہنی یا معاشی مسائل کی بنیاد پر تخصیص نہیں کی گئی۔“ اسلام جو کہ دین فطرت ہے اگر اس میں علم کو سب پر فرض کیا گیا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ خالق کائنات نے اپنی اشرف المخلوقات کو سیکھنے کی صلاحیت بدرجہ اتم عنایت فراہم کی ہے۔ اور مناسب تدریسی ماحول اور معاونات کی فراہمی کی صورت میں ہر طالب علم سیکھنے اور ترقی کرنے کی قابلیت رکھتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •