ہوا کے دوش پہ رکھے ہوئے چراغ ہیں سب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب کسی معاشرے میں کسی بھی حوالے سے کوئی خاص صورت حال جنم لیتی ہے تو اس صورت حال میں حصہ لینے والے تمام بنیادی شرکا اسے اپنے خیالات اور تصورات کے مطابق مخصوص سمت میں لے جا کر مخصوص نتائج کے حصول کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ ایسا ہونا فطری اور منطقی بھی ہے اور سماجی روایات کے اعتبار سے، جائز بھی۔

یہاں یہ وضاحت (اور اس کی تفہیم) نہایت ضروری ہے کہ اختلاف رائے انسانی مزاج میں موجود خصوصیات کا ایک اہم جز ہے اور اس کا امکان زندگی کے ہر عمل، ہر پہلو، ہر سطح اور ہر مقام پر اپنی جگہ بنا سکتا ہے۔ عمومی طور پر ہمارے معاشرے میں فکری مغالطے کی وجہ سے اختلاف کو منفی تصور کر لیا جاتا ہے، حا لا نکہ جبلی طور پر، اسے منفی تصور کرنا، بہ ذات خود ایک منفی سو چ کے مترادف ہے۔ انسان ابھی تلک روبوٹ کا مما ثل نہیں ہوا کہ اس کی کوڈنگ اور ڈی کوڈنگ کی جا سکے۔ لہٰذا، اس کے فطری ارتقا کے لیے ، اس سانس لینے اور سوچ رکھنے والے وجود کو آزادانہ اپنی رائے رکھنے اور اس کے بر ملا اظہار کا پورا موقع ملنا چاہیے۔

ہر زمانے کی طرح عہد حاضر میں بھی افراد کو ہم خیال اور ہم آواز بنانے کی خواہش اور پھر اس حوالے سے دستیاب وسائل کا استعمال، مطلوبہ تشہیر اور ممکنہ تسخیر کے وہ سلسلے ہیں، جن سے ہر فریق اپنی طرف توجہ مبذول کرانا چاہتا ہے۔ یہ عمل بجا طور پر، صحت مندانہ اور دانشمندانہ رجحان کا عکاس کہا جا سکتا ہے اور معا شرے میں مسابقت اور شراکت کی فراخدلانہ روایت کا نمائندہ بھی!

اب تسلیم کرنے والی بات یہ ہے کہ ان تمام تر کوششوں کے باوجود افراد میں اختلاف رایئے ہمہ وقت موجود رہتا ہے جو دراصل ان کے علم و آگہی، ذہنی پختگی، معاشرتی پس منظر، ذاتی ترجیحات اور ان تمام عناصر کی یکجائی سے جنم لینے والے ( شعوری یا لا شعوری ) مفادات کی ترجمانی کرتا ہے۔

یہی وہ اختلاف رائے ہے جس کے سبب ضروری نہیں کہ کسی بھی سفر اور اس کے لئے منزل کے انتخاب اور راستوں کے چناؤ میں افراد کے درمیان لازما ”سو فیصد ( یا کسی بھی درجے تک ) اتفاق رائے ہو۔ لہٰذا یہ افراد پر منحصر ہے کہ وہ اپنی پسند سے، اپنا کردار ادا کرنے کے لئے، پیش قدمی کا، کیا فیصلہ کریں۔ وہ کسی بھی کشمکش اور اختلافی صورت حال میں، خود کو کس صف میں کھڑا دیکھنا چاہتے ہیں، یہ قطعی طور پر ان کا اور ان کے فکری جھکاؤ اور ذہنی سجاو کا معا ملہ سمجھا جانا چا ہیئے۔

یہاں توجہ طلب بات یہ ہے کہ فریقین اپنے اپنے نقطہ ہائے نظر کو نمایاں کرنے، اسے وسعت دینے اور مقبولیت سے ہمکنار کرنے کے لیے ممکنہ تمام توانائی کے استعمال میں اصولی طور پر حق بہ جانب ہیں، بہ شرطیکہ وہ اس کے ساتھ ساتھ اپنی سماجی حیثیت اور اس حوالے سے متعین، ذمہ داریوں اور حدود کی اہمیت اور اس کے ( بالواسطہ اور بلاواسطہ، فوری اور دور رس، نمایاں اور پوشیدہ ) متوقع اثرات کا قبل از وقت احاطہ کرنے کا نہ صرف ہنر جانتے ہوں بلکہ اس کے اطلاق پر آمادہ بھی ہوں۔

ایسی صورت حال کا یہی، سب سے، کٹھن، آزمائشی اور حقیقتاً فیصلہ کن مرحلہ قرار دیا جا سکتا ہے کیوں کہ اس کے لئے خود کو مفادات سے علیحدہ رکھ کر بہبود عامہ کی خاطر، پیش نظر چیلنجز کا حقیقت پسندانہ ادراک کرتے ہوئے، بصیرت اور معا ملہ فہمی کے ساتھ بہتر امکانات کی طرف جا یا سکتا ہے۔

مفادات سے بالا رہ کر چیزوں کو دیکھنے کے لئے اولین شرط یہی ہے کہ ”چشم بند“ ( blinkers ) اتار پھینکا جائے اور ماضی کے تجربات کو آئنہ بناتے ہوئے، حال کے خد و خال صحیح تناظر میں دیکھے جائیں تاکہ مستقبل میں، نتائج سے نظریں ملانا آسان ہو۔

کبھی کبھی جو دکھائی دے رہا ہوتا ہے، وہ، وہ نہیں ہوتا جیسا دیکھنے کی خواہش ہوتی ہے اور کبھی کبھی جو دکھائی نہیں دے رہا ہوتا، وہ، وہ نکل آتا ہے جس کی منصوبہ بندی نہیں ہوتی۔

آندھی میں ہوا کا رخ، کب کیا شکل اختیار کرے، نہیں معلوم، اس کی پیش بندی، صرف اور صرف یہ ہے کہ انا پرستی، ہٹ دھرمی، خود پسندی، کے بہ جائے سوجھ بوجھ، وسیع النظری، کشادہ دلی، اور سب سے بڑھ کر خود شناسی کو زاد راہ بنایا جائے تاکہ چراغ روشن رہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •