شاہ عبدالعزیز ابن سعود اور علامہ اسد کے سچے خواب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

علامہ محمد اسد ( 1992 تا 1900، پیدائشی نام لیوپولڈ وائس) کا تعلق پولینڈ سے تھا اور زندگی کے ابتدائی ایام اپنے خاندان کے ہمراہ ویانا میں گزارے۔ ان کے بارے میں مولانا مودودی نے کہا تھا، ”میرا خیال یہ ہے کہ دور جدید میں اسلام کو جتنے غنائم یورپ سے ملے ہیں، ان میں یہ سب سے زیادہ قیمتی ہیرا ہے۔“ علامہ محمد اسد نے اپنی جوانی کے کئی سال، ایک جرمن اخبار فرینکفرٹ سائٹنگ سے منسلک رہ کے، ایک صحافی کی حیثیت سے مشرق وسطیٰ میں گزارے اور پہلی جنگ عظیم کے بعد بہت عرصے تک سعودی عرب میں شاہ عبد العزیز، آل سعود کے یہاں مہمان کے طور پر رہے۔

ذیل میں ان کی کتاب روڈ ٹو مکہ کے باب ”خواب“ سے کچھ اقتباسات کا اردو ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے۔

ایسے غیر رسمی موقع پر شاہ عبد العزیز ہر اس معاملے پر جو انھیں پیش آیا ہو، کھل کر بات کرتے تھے۔ مثال کے طور دنیا کے دور دراز ممالک میں کیا ہو رہا ہے، یا کسی نت نئی ایجاد کے بارے، جو ان کے علم میں لائی گئی ہو، یا عوام، روایات اور اداروں کے بارے میں، غرض ہر موضوع پر بات ہوتی تھی۔ ایک ایسی ہی غیر رسمی ملاقات پر، جو عشا کی نماز کے بعد شاہ عبد العزیز کے کمرے میں ہوئی، شہزادہ ابن سعود نے مجھے گفتگو کے آغاز میں مخاطب کرتے ہوئے کہا، ”اے محمد! آج مجھ سے کسی نے تمھارے بارے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسے یوں لگتا ہے، جیسے تم ایک سچے مسلمان نہیں ہو، بلکہ ایک مسلمان کے روپ میں انگریزوں کے جاسوس ہو۔ مگر پریشان نہ ہونا۔ میں نے اسے قائل کر لیا ہے کہ تم ایک سچے مسلمان ہی ہو۔“

میں نے اپنی تجسس بھری ہنسی روکنے کی نا کام کوشش کرتے ہوئے، ابن سعود سے کہا، ”یہ آپ نے میرے لیے بہت رحم دلی کا معاملہ کیا، اللہ آپ کی عمر دراز کرے۔ مگر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ کو میرے مسلمان ہونے کا اتنا پکا یقین ہو۔ کیا ایسا نہیں ہے کہ انسان کے دل کا حال صرف اللہ جانتا ہے؟“

”یہ درست ہے“ امیر سعود نے اتفاق کرتے ہوئے کہا، ”لیکن تمہارے معاملے میں مجھے ایک خاص بصیرت عطا ہوئی ہے۔ اور یہ بصیرت مجھے پچھلے ہفتے ایک خواب کے ذریعے ملی۔ میں نے خواب میں خود کو ایک مسجد کے سامنے کھڑے پایا اور میں اس کے مینار کو دیکھ رہا تھا۔ اچانک ایک آدمی اس مینار کی ڈیوڑھی میں آیا، اپنا ہاتھ آواز لگانے کے انداز میں منہ کے آگے رکھا اور اذان دینا شروع کی۔ اللہ اکبر۔ اللہ اکبر۔ اور جاری رکھی، یہاں تک کے وہ لا الہ الا اللہ تک پہنچ گیا۔ پھر میں نے ذرا غور سے دیکھا تو وہ تم تھے۔ جب میں جاگا تو مجھے پکا یقین ہو چکا تھا، اگر چہ میں نے کبھی اس پر شک نہیں کیا تھا، کہ تم ایک سچے مسلمان ہو؛ کیوں کہ ایک خواب جس میں اللہ کا نام بلند آواز سے پکارا گیا ہو، وہ دھوکا نہیں ہو سکتا۔“

اپنے ایمان کی امیر سعود کے منہ سے اس غیر مشروط گواہی، حیران کن خواب کے بیان اور رد عمل میں شاہ عبد العزیز کی اشارتاً تائید سے میں بہت متاثر ہوا۔ اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ابن سعود نے کہا، ”بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ اللہ تعالی خوابوں کے ذریعے مستقبل یا حال میں ہونے والے واقعات کے بارے ہمارے دلوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔ او محمد! کیا تمھیں کبھی ایسے خواب کا تجربہ نہیں ہوا؟“

”اے امام! بہت عرصہ پہلے یقیناً ایسا ہوا ہے۔ یہ وہ وقت تھا، جب میں نے مسلمان ہونے کے بارے کبھی سوچا بھی نہیں تھا اور نا ہی کسی مسلمان ملک میں ابھی قدم رکھا تھا۔ تب میری عمر شاید انیس سال تھی اور میں ویانا میں اپنے والد کے گھر پر رہتا تھا۔ اس وقت میں انسان کی باطنی زندگی (یہ نفسیاتی تجزیے کی وہ قریبی تعریف تھی، جو میں شاہ کے سامنے پیش کر سکا) میں بہت دلچسپی رکھتا تھا۔ میرا معمول تھا کہ میں اپنے بستر کے ساتھ ایک قلم اور کاغذ رکھتا، تا کہ جو بھی خواب آئے، میں آنکھ کھلتے ہی اسے لکھ لیتا۔ اس مشق سے مجھے اندازہ ہوا کہ میں اپنے خواب کو ہمیشہ کے لیے یاد رکھ سکتا تھا۔

ایک خواب میں، میں نے اپنے آپ کو برلن میں پایا۔ میں نے دیکھا کہ میں اس ریل میں سفر کر رہا ہوں، جو انھوں نے وہاں زیر زمین بنائی ہے۔ یہ ریل، بسا اوقات زیر زمین سرنگوں سے گزرتی ہے اور بہت جگہوں پر سڑکوں کے اوپر بنے اونچے پلوں پر چلتی ہے۔ ریل کی بوگی مسافروں سے کھچا کھچ بھری تھی۔ لوگ اتنے زیادہ تھے کہ بیٹھنے کی کوئی جگہ نہیں تھی اور کھڑے ہوئے لوگ ایسے پھنس کر کھڑے تھے، کہ اپنی جگہ سے ہلنے کی بھی گنجائش نہیں تھی۔ بوگی میں صرف ایک بلب تھا، جس کی روشنی ماند پڑی ہوئی تھی۔ کچھ دیر بعد ریل ایک سرنگ سے نکلی تو بجائے اس کے کہ وہ ایک پل پر آتی، ہم نے اسے ایک مٹی سے اٹے بیابان میں پایا۔ ریل کے پہیے مٹی میں دھنس چکے تھے، جس کی وجہ سے وہ آگے سفر کر سکتی تھی اور نا ہی واپس جا سکتی تھی۔

مجھ سمیت سارے مسافر بوگی سے باہر آئے، اور ادھر ادھر دیکھنے لگے۔ ہمارے ارد گرد تا حد نظر ایک خالی بیابان تھا، جس میں کوئی گھر، درخت، جھاڑی حتی کے پتھر تک نہ تھا۔ اس غیر یقینی صورت حال کی پریشانی نے مسافروں کے دلوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ اب، جب کہ ہم اس بیابان میں کھو چکے تھے، اپنا راستہ کہاں تلاش کرتے اور انسانوں کی دنیا کی طرف کیسے واپس آتے۔ صبح صادق کے وقت جیسی ایک سرمئی روشنی نے پورے بیابان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔

لیکن کسی بھی طرح، میں لوگوں کی اس مایوسی اور تذبذب میں شراکت دار نہیں تھا۔ میں نے اطمینان سے اس ہجوم سے اپنا راستہ نکالا اور ان سے چند قدم دور ہی ایک اونٹ کو دیکھا، جو زمین پر بیٹھا ہوا تھا۔ اس پر زین کسی ہوئی تھی۔ ایسے ہی اونٹ اے امام میں نے بعد میں آپ کے ملک میں دیکھے۔ اور اونٹ کی پشت پر ایک چھوٹے بازو والی سفید دھاری دار عبایہ میں ملبوس ایک شخص بیٹھا تھا۔ اس کے عمامے کا کپڑا اس کے چہرے کو ڈھانپے ہوئے تھا کہ میں اس کے خد و خال نہیں دیکھ سکتا تھا۔ میرے دل میں ایک دم یہ یقین پیدا ہو گیا تھا کہ یہ اونٹ میرا انتظار کر رہا ہے اور یہ سوار میرا راہنما ہے۔ اس لیے بغیر کوئی بات کہے، میں اونٹ پر اس کے پیچھے سوار ہو گیا، جیسے یہاں لوگ اونٹ پر سفر کرتے ہیں۔ اگلے ہی لمحے اونٹ اپنی جگہ سے اٹھا اور آگے کی طرف آرام دہ مگر تیز چال کے ساتھ روانہ ہوا۔ اس کے ساتھ ہی میں نے اپنے اندر ایک انجانی خوشی محسوس کی۔ اس تیز اور آرام دہ سفر کی ابتدا میں مجھے گھنٹے، دن، ہفتے اور مہینے گزرنے کا اندازہ رہا، مگر پھر میں وقت کے بہاو کا اندازہ کرنے سے معذور ہو گیا۔ اور اونٹ کے ہر قدم کے ساتھ میری اندرونی خوشی بڑھتی ہی رہی، حتی کہ میں نے محسوس کیا کہ جیسے میں ہوا میں تیر رہا ہوں۔

آخر کار ہمارے دائیں طرف افق پر سرخ روشنی تھی، جیسی کہ سورج نکلنے سے پہلے ہوتی ہے۔ لیکن ایک اور روشنی جو میں نے دیکھی، وہ ہمارے سامنے کے افق پر تھی، جو دور ایک دروازے سے آ رہی تھی۔ یہ خنک سفید روشنی تھی اور جوں جوں ہم اس کے قریب آ رہے تھے، اس کی شدت میں اضافہ ہو رہا تھا۔ اس روشنی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی میری خوشی اس قدر بڑھ چکی تھی، جسے میں بیان کرنے سے قاصر ہوں۔ جیسے جیسے ہم اس دروازے اور روشنی کے پاس پہنچے۔ مجھے کہیں سے ایک آواز آئی، ”یہ انتہائی مغرب کا شہر ہے“ اور میری آنکھ کھل گئی۔

”اللہ اکبر۔“ ابن سعود پکار اٹھے، جب میں نے اپنی بات ختم کی۔ ”اور کیا تمھارے اس خواب نے تمھیں نہیں دکھایا کہ تمھاری منزل اسلام ہی ہے؟“

میں نے اپنا سر انکار میں ہلاتے ہوئے کہا، ”آپ کی عمر دراز ہو، نہیں! میں یہ کیسے جان سکتا تھا؟ میں نے تو اسلام کے بارے میں کبھی سوچا تک نہیں تھا اور نا ہی کبھی کسی مسلمان سے ملا تھا۔ یہ اس خواب کے سات سال بعد کی بات ہے، میں اس خواب کو بھول چکا تھا، جب میں نے اسلام قبول کیا۔ یہ خواب مجھے ابھی کچھ دن پہلے ہی یاد آیا، جب مجھے اپنے پرانے کاغذات میں وہ کاغذ ملا، جہاں میں نے یہ خواب آنکھ کھلتے ہی لکھ لیا تھا۔“

”او میرے بیٹے، حقیقت میں اللہ نے اس خواب کے ذریعے تمھیں، تمہارے مستقبل کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔ اگر چہ کہ تمھیں اس کا اندازہ نہیں ہو سکا۔ لوگوں کے ہجوم کے ساتھ تمہارا ایک بے سمت بیابان میں پہنچنا اور لوگوں کی مایوسی اور تذبذب۔ کیا انھیں لوگوں کے بارے میں قرآن کی پہلی سورہ یہ نہیں کہتی کہ“ جو گمراہ ہوئے؟ ”اور اونٹ اور اس کا سوار جو تمہارا انتظار کر رہے تھے، کیا یہ وہ راستہ نہیں تھا، جسے قرآن نے کئی جگہ پر صراط مستقیم کہا؟ اور وہ سوار جس سے تمہاری بات نہیں ہوئی اور تم جس کا چہرہ نہیں دیکھ سکے، وہ حضور نبی کریمﷺ کے علاوہ کون ہو سکتا ہے؟ آپﷺ کو آدھے بازوؤں والی عبایہ بہت پسند تھی۔ اور کیا ہماری بہت سی کتابیں ہمیں نہیں بتاتیں کہ آپﷺ جب کسی غیر مسلم یا اس شخص، جس نے ابھی اسلام قبول نہیں کیا، اس کے خواب میں آتے ہیں، تو آپ کا چہرہ ہمیشہ ڈھکا ہوتا ہے۔ اور وہ خنک سفید روشنی جو تمھیں اپنے سامنے افق پر نظر آئی، وہ ایمان کی روشنی کے علاوہ اور کیا ہو سکتی ہے کہ جو جلائے بغیر دل کو روشن کرتی ہے۔ تم اپنے خواب میں اس روشنی تک نہیں پہنچ سکے، جیسا کہ تم نے ہمیں بتایا کہ اس خواب کے کئی سال کے بات، تم اسلام کی سچائی کی طرف مائل ہوئے تھے۔“

”آپ شاید ٹھیک فرماتے ہیں۔ آپ کی عمر دراز ہو۔ مگر وہ“ انتہائی مغرب کا شہر ”جس کی طرف وہ دروازہ تھا، اس سے کیا مراد ہے؟ کیوں کہ آخر کار میرا اسلام کا قبول کرنا، مجھے مغرب کی طرف تو نہیں لے کر گیا، بجائے اس کے، میں تو مشرق کی طرف آیا ہوں، جو کہ مغرب سے متضاد سمت ہے۔“

ابن سعود کچھ دیر تک پر فکر انداز میں سر جھکائے خاموش رہے اور پھر اپنا سر اسی خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ اٹھایا، جو مجھے بہت پسند تھی، اور بولے، ”کیا اس کا مطلب یہ نہیں ہو سکتا اے محمد! کہ تمھارا اسلام تک پہنچ کر قبول کرنا، تمہاری زندگی میں مغرب کا آخری نکتہ ہو گا۔ اور اس کے بعد مغرب کی زندگی تمھارے لیے ختم ہو جائے گی؟“

اس کے بعد شاہ عبد العزیز دوبارہ بولے، ”اللہ کے سوا کوئی شخص مستقبل کا حال نہیں جانتا، مگر بعض اوقات وہ ہمیں ہمارے خواب کے ذریعے ہمارے مستقبل کے بارے میں آگاہ کرتا ہے۔ مجھے خود دو یا تین مرتبہ ایسے خواب آئے، جو بعد ازاں سچ ہوئے۔ آج میں جو کچھ بھی ہوں، ایک ایسے ہی ایک خواب کی وجہ سے ہوں۔ میں اس وقت سترہ سال کا تھا۔ ہم اس وقت کویت میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھے، مگر میں یہ سوچ سوچ کر کڑھتا رہتا کہ کیسے وہ ابن رشید میرے وطن پر قبضہ کر کے حکومت کر رہا ہے۔ بہت دفعہ میں نے اپنے والد سے کہا، بابا! لڑیں اس ابن رشید سے اور نکال دیں اسے اپنے ملک سے۔ ہمارے تخت کا حق دار ہم سے زیادہ کوئی نہیں ہے۔ لیکن میرے والد ہمیشہ میرے پر جوش دعوے سے صرف نظر کرتے اور کہتے کہ محمد ابن رشید عرب دنیا کا سب سے طاقتور حکمران ہے، جس کی سلطنت شمال میں شام کے ریگزاروں سے لے کر انتہائی جنوب تک پھیلی ہے اور عرب دنیا کے تمام بدوی قبائل اس کے آہنی پنجے کے سامنے لرزتے ہیں۔

لیکن ایک رات میں نے ایک عجیب خواب دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ میں ایک ریگزار میں اپنے گھوڑے پر سوار ہوں اور میرے سامنے وہ بوڑھا محمد ابن رشید جو ہمارے تخت پر قابض ہے، وہ بھی گھوڑے پر سوار ہے۔ ہم دونوں نہتے ہیں مگر ابن رشید کے ہاتھ میں ایک روشن لالٹین ہے۔ جب اس نے مجھے دیکھا تو ایک دشمن سمجھ کر اس نے گھوڑے کو ایڑ دی اور بھاگ نکلا۔ میں اس کے پیچھے بھاگا اور پہلے اسے عبایہ سے پکڑا، پھر اس کا بازو دبوچا اور آخر میں نے اس کے ہاتھ میں موجود لالٹین کو بجھا دیا۔ جب میں جاگا تو مجھے یقین تھا کہ میری قسمت میں ابن رشید سے تخت چھیننا لکھا ہے۔ ”

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •