مسکراہٹ کا جادو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند دہائیاں قبل پہلی مرتبہ ملک سے باہر جانے کا موقع ملا۔ مجھے برطانیہ میں جاب مل گئی تھی۔ اس وقت تک میں نے ساری تعلیم پاکستان ہی میں مکمل کی تھی اور خدا کے فضل سے با قاعدہ ایک سپیشلسٹ بن چکا تھا۔ میرے جیسے پینڈو نے جب ایک مہذب ملک میں پہلا قدم رکھا تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ سڑکیں یا گاڑیاں اور نت نئے مشینی آلات جہاں ایک طرف مجھے مرعوب کر رہے تھے دوسری طرف کئی طریقے سے مجھے کلچرل شاک مل رہے تھے۔ اب تو چوں کہ دنیا سکڑ کر ایک گاؤں بن چکی ہے، اس لئے ہمارے بچے بھی دنیا کے کونے کونے سے واقف ہو چکے ہیں اور مختلف ممالک کے نہ صرف انفرا سٹرکچر سے مانوس ہیں بلکہ ان کے معاشرتی عادات کے بارے میں بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔ میں انٹر نیٹ سے قبل کی دنیا کا ذکر کر رہا ہوں، جب ولایت ہمارے لئے سمندر پار کا ایک جادوئی خطہ ہوتا تھا۔

پہلے چند ہفتے مجھے ایک الجھن یہ ہوتی تھی کہ میں جب کسی سے آنکھیں چار کرتا تو وہ مسکرا دیتا۔ میں فوراً اپنے لباس پر نظر دوڑاتا کہ شاید ٹائی کی گرہ غلط لگائی ہو۔ یا شرٹ کا کوئی بٹن کھلا رہ گیا ہو۔ کہیں میرے منہ پر خون تو نہیں لگا ہوا۔ اسی ادھیڑ بن میں شروع کے دن گزرتے گئے۔ ایک دن میں نے وارڈ میں نرسنگ کاؤنٹر پر دو نرسوں کی گفتگو سنی۔ کسی کے بارے میں کہہ رہی تھیں کہ وہ تو یوں منہ بسورے رکھتا ہے کہ کسی سے نظر ملاتے وقت مسکراتا تک نہیں۔ تب میں آس پاس نظر دوڑانا شروع کی تو دیکھا کہ سبھی لوگ ایک دوسرے سے نظر ملتے ہی سب سے پہلے مسکراہٹ کا تبادلہ کرتے ہیں۔ ایک جگہ تو میں نے ایک دیوار پر یہ تحریر بھی دیکھی:

If you see someone without a smile، give him yours
یعنی ”اگر تم کسی کو مسکراہٹ کے بغیر دیکھو، تو اسے اپنی مسکراہٹ دے دو“ ۔

یوں میں اپنے پہلے تہذیبی دھچکے سے سنبھلا۔ کیوں کہ شاید دھوپ کی تمازت سے ہمارے ہاں تو ہر وقت ماتھے پر بل پڑے ہوتے ہیں۔ بے وجہ مسکرانے والے کو پاگل ہی سمجھا جاتا ہے۔ اور مجھے یاد ہے کہ میرے بچپن میں کئی بار لوگوں میں اس بات پر ہاتھا پائی تک ہوئی کہ ’وہ مجھے دیکھ کر مسکراتا ہے‘ ۔

مسکراہٹ شاید وہ پہلی انسانی جبلت ہے، جو وہ پیدا ہونے کے بعد اختیار کرتا ہے۔ بچہ جب اپنے اردگرد لوگوں کو پہچاننا شروع کرتا ہے تو یہی مسکراہٹ ہی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بچہ کسی کو دیکھ کر پہچان رہا ہے یا اسے مل کر خوشی ہو رہی ہے۔ اور یہی تجربہ آپ چلتے چلتے رستے میں کر سکتے ہیں۔ وہ سامنے ایک شخص کے کندھے پر ایک بچہ سوار جا رہا ہے۔ آپ کے ساتھ آنکھیں ملتی ہیں۔ آپ اسے مسکرا کر دیکھتے ہیں۔ وہ بچہ اب بار بار آپ ہی کی طرف دیکھے گا اور مسکرائے گا۔ آپ بس یا ریل میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ سامنے سیٹ پر کسی بھی بچے کو ایک دفعہ مسکرا کر دیکھیں، وہ بار بار چھپا چھپائی کر کے آپ کے ساتھ فری ہونے کی کوشش کرے گا۔ یہ بین الاقوامی زبان ہے خوش آمدید کہنے کا۔ اسے آپ دنیا کے کسی کونے میں بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

مہذب اقوام ہمیشہ ان عادات کو نہ صرف اختیار کرتی ہیں بلکہ اس کی ترویج کی کوشش بھی کرتی ہیں، جو معاشرتی زندگی پر اچھا اثر چھوڑتی ہیں۔ مسکراہٹ ان میں سے ایک ہے۔ یہ عادت ہمارے ماحول میں بھی تناؤ کم کرنے کا باعث بن سکتی ہے، اگر اسے ہم اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں۔ آپ ٹریفک کے رش میں پھنسے ہوئے ہیں اور دل ہی دل میں حکومت، لوگوں، ٹریفک پولیس اور اپنی قسمت کو کوس رہے ہیں۔ ہارن پر ہارن بجائے جا رہے ہیں۔ لیکن اس سے آپ کا اپنا پارہ ہی اونچا ہو رہا ہے۔ آپ اگے کھڑی ہوئی ویگن پر نظر ڈالیں تو پیچھے بیٹھے ہوئے بچے آپ کی طرف ایک نظر ڈالتے ہیں۔ آپ جواباً مسکرا دیجیے، پھر دیکھئے کہ وہ کیسے بار بار مڑ کر آپ کو اپنی مسکراہٹ اور ہنسی سے اس سارے تناؤ سے نکالتا ہے۔ ایک بچہ دوسرے بچے کی توجہ آپ کی طرف دلاتا ہے۔ جب ٹریفک روانہ ہوتی ہے تو یہی بچے آپ کو مڑ مڑ کر دیکھتے ہیں اور مسکرا کر آپ کی ساری تھکاوٹ دور کر دیتے ہیں۔ کہاں وہ کوسنے اور کہاں یہ کہ آپ کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی ہے، کیوں کہ مسکراہٹ ایک وبا کی طرح پھیلتی ہے۔

کبھی مسلمان قوم کا شمار دنیا کے مہذب ترین اقوام میں ہوتا تھا۔ لوگ دور دور سے بغداد اور ہسپانیہ یہی تہذیب سیکھنے آتے تھے۔ مسکراہٹ کوئی نئی چیز نہیں۔ ہمارے اپنے پیارے پیغمبر ﷺ نے فرمایا تھا کہ صدقہ دیا کرو اور سب سے آسان صدقہ ایک دوسرے سے مسکرا کر گفتگو کرنا ہے۔ اب اسی فرمان پر عمل وہ کر رہے ہیں جو ہماری نظروں میں گرے ہوئے ہیں۔ لیکن اسلام کے انہی اصولوں پر عمل کر کے دنیا ترقی کر رہی ہے اور ہم نے ماتھے پر تیوریاں چڑھا کر دنیا میں اپنا ایک منفی تاثر پھیلایا ہوا ہے۔

یہی ہتھیار موجودہ کارپوریٹ کلچر کے ہاتھ آیا تو اسے کسٹمر کیئر کے نام سے پروموٹ کیا جا رہا ہے۔ دنیا کے سکڑنے کی وجہ سے آپ مہذب معاشروں کا یہ پہلو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے فرینچائزز میں دیکھ سکتے ہیں۔ خواہ وہ پیژا کا ریسٹورنٹ ہے یا برگر کی دکان۔ اگر ملٹی نیشنل کا فرینچائز ہے تو وہاں آپ کو سارے کام کرنے والے مسکرا کر بات کرتے ہوئے ملیں گے۔ اگر ملکی برانڈ ہے تو آپ وہی سب کچھ اور شاید سستا بھی میسر ہو لیکن کوئی آپ کو مسکرا کر سروس نہیں دے گا۔ مجھے یقین ہے کہ ان ملٹی نیشنل کمپنیوں کو اپنے سٹاف کو ٹریننگ کے دوران میں سب سے مشکل یہی مرحلہ ہو گا کہ وہ اپنے کارکنوں کے چہرے پر مسکراہٹ کیسے سجائیں۔

میرے پیشے میں یہ عادت ایک نہایت ہی موثر آلہ بن جاتا ہے جب درد سے بلبلاتے ہوئے مریض یا برسوں کے بیمار میرے پاس آتے ہیں۔ عوام کو اگر ڈاکٹروں اور صحت کے دوسرے عملے سے ہزار شکایات ہیں تو یہ سب اس وقت بلبلے کی طرح بیٹھ جاتی ہیں جب کوئی ان سے مسکرا کر بات کرتا ہے۔ مریض کی آدھی بیماری تو وہیں ختم ہو جاتی ہے اور پھر وہ ڈاکٹر اور نرس کی بات سنتا بھی خوشی سے ہے اور عمل بھی کرتا ہے۔ علاج معالج میں پیچیدگیاں عام ہیں اور وہ امریکا جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی پائی جاتی ہیں۔ ہمارے مریضوں کے رشتہ دار بعض اوقات مرنے مارنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں لیکن میں نے کبھی یہ نہیں دیکھا کہ انہوں نے عملے کے کسی ایسے رکن سے بد تمیزی کی ہو، جس نے ان سے خوش اخلاقی سے بات کی ہو اور مسکراہٹ سے پیش آیا ہو۔

اسی مسکراہٹ کے ساتھ آپ کسی کو سخت سے سخت بات بھی کہہ کر بلا کسی تلخی کے چھوٹ جاتے ہیں، لیکن بہترین مشورہ بھی ماتھے پر بل ڈال کے دیں، تو کوئی اچھا اثر نہیں چھوڑتا۔ ہماری نئی نسل ایس ایم ایس اور سوشل میڈیا پر تو مسکراہٹ کے لئے مخصوص نشانات تو شاید زیادہ ڈالتی ہے۔ خدا کرے یہ مسکراہٹ ہم سب کے چہرے پر بھی سج جائے۔

Latest posts by ڈاکٹر عبید اللہ عبید (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •