کیا باسمتی ہم سے چھن جائے گی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپ کے پاس گاؤں میں رہنے کی کیا وجہ ہے؟ میں نے ایک بار اپنے دادا جی سے پوچھا۔ آپ کی ساری اولاد شہر میں بس چکی۔ باغ کی دیکھ بھال اب آپ سے ہو نہیں سکتی۔ طبیعت خراب ہو جائے تو وہی نیم حکیم، نیم ڈاکٹر۔ ان کی آنکھوں میں انار کے پھولوں جیسے رنگ بھر گئے، محبت کی ہریاول ان کے سفید دراز بالوں کے گرد حاشیہ بنا کر اتر آئی۔ بولے! تم جس راستے سے آئے ہو وہاں چاول کی فصل پکنے کو تیار ہے۔ اس کی خوشبو سے ملے؟

نمدار مٹی میں اگے دھان کی باس، وہ باس جو انسان کا وجود خوشبو سے بھر دے۔ میں نے ہاں میں جواب دیا۔ بولے تمہارے شہر میں امرود کے پیڑ پر طوطے آتے ہیں نہ آسمان پر تارے، دھان کی مہک کے بنا میں کیسے جیوں گا۔ کیوبا پوری دنیا میں مخصوص تمباکو والے سگار کے لئے مشہور ہے، دنیا کے بہت سے ملکوں نے کیوبا سے اس کے تمباکو کا بیج منگوا کر اپنے ہاں کاشت کیا۔ کیوبا سے کاریگر منگوا کر اسی طریقے سے سگار تیار کیا گیا۔

ہر چیز کا ناپ تول پورا رکھا گیا۔ جونہی پہلا کش لیا بدمزہ ہو گئے۔ معلوم ہوا کچھ علاقوں کی پیداوار بعض خاص علاقوں کی مٹی اور آب و ہوا کی وجہ سے باقی ممالک اور علاقوں سے اعلیٰ ہو جاتی ہے۔ جدید تجارتی اصطلاح میں اسے جیوگرافیکل آئیڈنٹیفکیشن (جغرافیائی شناخت) کہتے ہیں۔ باسمتی چاول برسہا برس سے بھارت اور پاکستان کے ان علاقوں میں پیدا ہوتا ہے جو راوی، ستلج اور چناب کے پانیوں سے سیراب ہوتے ہیں۔ پنجاب کے ان پانیوں میں کوئی ایسا عطر گھلا ہوا ہے کہ باسمتی چاول ایک گھر میں پکتا ہو تو خوشبو پورے محلے میں اڑتی پھرتی ہے۔

تھائی لینڈ، ملائیشیا اور انڈونیشیا جیسے کتنے ہی ملک ہیں جو دھان کاشت کرتے ہیں، آسٹریلیا اپنی ٹیکنالوجی اور سائنسی مہارت کو بروئے کار لاتا ہے لیکن وہ باسمتی نہیں اگا سکے۔ باسمتی میں خاص کیمیائی عنصر Acetylاور Pyrroline ہوتے ہیں ان کی وجہ سے باسمتی کی خوشبو دیگر چاولوں کی نسبت 12 گنا زیادہ اور معطر ہوتی ہے۔ گزشتہ سال بھارت نے دنیا بھر میں باسمتی چاول کی 65 فیصد مارکیٹ کو چاول فراہم کیا۔ باقی 35 فیصد باسمتی پاکستان نے برآمد کی۔

پاکستان سالانہ سوا سے ڈیڑھ ارب روپے کے باسمتی چاول یورپ اور خلیج کی مارکیٹ کو فراہم کرتا ہے۔ بھارت میں کچھ برسوں سے یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ برصغیر کے مشترکہ نباتاتی، غذائی اور اجناسی ورثے کو نئے بین الاقوامی قوانین کی مدد سے اپنے نام کروا لیا جائے۔ نیم، سرسوں، ہلدی اور باسمتی ایسے ہی نام ہیں جن کو بھارت اپنی جغرافیائی شناخت کے ساتھ رجسٹر کروانے کی فکر میں ہے۔ غالباً نیم کا نام تو وہ ہتھیا بھی چکا ہے۔

ہماری حکومتیں غافل رہیں، ایسی کوششیں بیس سال سے کی جا رہی ہیں، نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں ہمارے دوست ڈاکٹر طارق محمود چٹھہ مایوس ہو کر آسٹریلیا جا بسے، جن لوگوں کا ذریعہ معاش باسمتی سے متعلق ہے وہ دہائیاں دے رہے ہیں مگر سرکاری افسران، گزشتہ حکومتوں میں کامرس و ٹریڈ اتاشی لگنے والے چہیتے ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا رہے۔ منافع اور اجارہ داری ہمیشہ کاروباری افراد کی حکمت عملی کو تراشنے کا کام کرتے رہتے ہیں۔

جو چیز منافع دیتی ہو، جسے لوگ پسند کرتے ہوں اس کے ہم نام سامنے آ جاتے ہیں۔ خوشاب میں پتہ ہی نہیں چلتا امین ڈھوڈا کی اصل دکان کون سی ہے، لاہور کے ماڈل ٹاؤن میں بھیا کے کباب مقبول ہوئے تو ساتھ ساتھ چھ سات کبابیے بیٹھ گئے، سب نے اصل بھیا کباب کے بورڈ لگا رکھے ہیں۔ مودی حکومت نے اعلان جنگ کر رکھا ہے، دنیا میں جہاں جہاں پاکستان کے تجارتی مفادات ہیں ان ہر حملے ہو رہے ہیں۔ ان حملوں کا جواب وزارت تجارت نہ دے سکی، ذرائع ابلاغ پر مسلط تجزیہ کار اور ہر مرض کی دوا بیچنے والے بھی چپ ہیں، شاید ان کی زبان اور قلم خاندانوں کا دفاع کرنے میں دلچسپی لیتے ہیں ملک کے مفادات کا تحفظ ان کی ترجیح نہیں۔

اس ذہنیت کا بھلا بھارت فائدہ کیوں نہ اٹھاتا۔ خصوصاً جب اسے معلوم ہے کہ پاکستان کے وہ ادارے جو بین الاقوامی قوانین اور تجارت کے معاملات کو دیکھتے ہیں، سوئے پڑے ہیں، سوئے ہوئے نادان بچے کو معلوم ہی نہ ہو سکا کہ بھارت نے یورپی یونین میں پچھلے دو سال سے اپنا کیس مضبوط کرنا شروع کیا۔ رواں سال دسمبر تک پاکستان اگر بھارتی دعوے کے خلاف اپنا موقف نہ منوا سکا تو باسمتی کا نام اور خوشبوپاکستان کے لیے ممنوعہ قرار دیدی جائے گی۔

میاں معین تین نسلوں سے باسمتی چاول برآمد کرنے کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ میں نے پوچھا! اب پاکستان کیا کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے سستی کا مظاہرہ کیا تو بین الاقوامی ادارے برانڈ، ٹریڈ مارک اور جیوگرافیکل آئیڈنٹیفکیشن کے حوالے سے بھارت کا حق تسلیم کر لیں گے۔ ایک امریکی کمپنی پہلے بھی ایسی کوشش کر چکی ہے۔ اب ورلڈ بنک اس کی سرٹیفکیشن کر رہا ہے۔ تاریخی طور پر پاکستان اور بھارت دونوں اس کے مشترکہ دعویدار رہے ہیں اور ایک دوسرے کا دعویٰ تسلیم کرتے تھے لیکن اب بھارت نے جیوٹیگنگ کے لئے الگ سے درخواست دیدی ہے۔

پاکستان کو انٹرنیشنل ٹریڈ باڈیز کے پاس جانے سے پہلے وزارت تجارت و اقتصادی امور کے پاس جانا چاہیے۔ صدر مملکت یا سیکرٹری کامرس اس کیس کے مدعی بنیں اور باسمتی کو رجسٹر کرانے کا کام انجام دیں۔ مقامی سطح پر ٹیگنگ شروع کی جائے اور یورپی یونین میں اپنا جوابی دعویٰ فائل کر کے بھارت کو جواب دیا جائے۔ ہم اپنے کام پوری توجہ سے کرتے ہیں۔ ملک کا معاملہ ہو تو جان دینے پر تیار لیکن ملک کے لیے زندگی گزارنے کا حوصلہ نہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ ہمارا خمیر اس درد کو محسوس کیوں نہیں کرتا جو مشترکہ اذیت کے ساتھ جڑ جاتا ہے۔ ہم 73 برس بعد فرد ہیں۔ قوم ہوتے تو اپنی تاریخی، ثقافتی، علمی، نباتاتی اور غذائی وراثت کا تحفظ مل کر کرتے۔
بشکریہ روزنامہ 92۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •