ٹک ٹاک پر لگی پابندی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر یہ کہا جائے ٹک ٹاک پاکستان کی نئی نسل کے لئے خوراک کی طرح لازم ہو گئی تھی، تو یہ ہرگز غلط نہیں ہو گا۔ ملک کا بچہ بچہ ٹک ٹاک کے نشے میں مست نظر آتا تھا۔ ٹک ٹاک پر بہت بار حکمرانوں کی جانب سے پابندی لگانے کی خبریں گردش کرتی رہی ہیں، مگر اس پر عمل در آمد سامنے نہیں آیا۔ کہیں ماہ و سال کی تگ و دو کے بعد آخر کار حکومت ٹک ٹاک کو مکمل بند کرنے میں کامیاب ہو ہی گئی۔ ٹک ٹاک کے بند ہونے کے بعد سے ملے جلے رد عمل سامنے آ رہے ہیں۔ کہیں ایسے افراد جو اسے روزی روٹی کا ذریعہ گردانتے تھے، وہ تو انتہائی دل شکستہ اور مایوس نظر آئے۔ مگر وہ لوگ جو کہیں کہیں گھنٹے ٹک ٹاک ویڈیوز دیکھنے میں خرچ کرتے تھے، وہ بھی حکومت کے اس اقدام کو سراہ رہے ہیں۔

اگر یہ کہا جائے ٹک ٹاک وقت کا ضیاع اور فحاشی کو فروغ دینے کا ذریعہ تھی تو بھی غلط نہیں ہو گا۔ کیوں کہ گھر کی چار دیواری میں عورت کی عصمت اب محفوظ نہیں تھی۔ گھریلو خواتین بھی نک سک سے تیار ہو کر ٹک ٹاک پر گاتی اور ڈانس کرتی نظر آتی تھیں اور معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ کہ والدین اس فحاشی کو روکنے کی بجائے اپنی اولاد کا پورا پورا ساتھ دیتے تھے۔ یہی نہیں، کتنی بار بڑی عمر کے والدین کو یہ تک کہتے سنا، فلاں نام ٹک ٹاک پر سرچ کرو اور اسے فالو کرو، یہ میرا بچہ ہے۔ دیکھو کیا خوب ایکٹنگ کرتا ہے۔

جب معاشرہ درس و تدریس اور تعلیم و فہم سے ہٹ کر ان کاموں میں لگ جائے تو اس ملک میں ڈاکٹر، انجنیئر، پروفیسر کے بجائے سب ایکٹر ہی پیدا ہوں گے۔ رفتہ رفتہ کتاب پڑھنے کا رجحان، نوجوان نسل سے بالکل معدوم ہوتا جا رہا ہے۔ اب شاذ و نادر ہی کوئی بچہ کسی کتاب کو پڑھتا نظر آئے گا۔ جب کہ نا چاہتے ہوئے بھی ٹک ٹاک اور سوشل میڈیا پر ہزاروں بلکہ لاکھوں بچے نظر آئیں گے۔ کہاں ملک کو آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ تعلیمی میدان میں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے، اور کہاں معاشرہ سوشل میڈیا، ٹک ٹاک، یو ٹیوب چینل کی دوڑ میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے چکروں میں لگا ہے۔

یہاں سب سے زیادہ قابل ذکر بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے سبھی منفی نہیں، مثبت اثرات بھی مرتب کیے جا سکتے ہیں۔ اگر اسے انسانی رہنمائی کے لئے استعمال کیا جائے مگر یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ٹک ٹاک جیسی ایپ کو مثبت کے بجائے منفی کاموں کے لئے زیادہ استعمال کیا گیا۔ بلاشبہ یہ انٹرٹینمنٹ کا ایک ذریعہ رہی ہے۔ مگر جوں جوں اس میں فحاشی شامل ہوتی گئی، یہ تنقید برائے تنقید کا نشانہ بنتی چلی گئی۔ آخر کار اس ایپ نے فحاشی کے رکارڈ توڑ دیے اور حکومت کو اس ایپ کو بند کرنے کے احکامات جاری کرنا پڑے اور یہی نہیں ان احکامات پر فوری عمل در آمد بھی کروایا گیا۔

اس طرح شارٹ نوٹس پر ٹک ٹاک ایپ بند کر دی گئی۔ اس پر بہت سے لوگوں کی رائے اسے بند کرنے کے حق میں ہے۔ بہت سے لوگ اس بات کی مخالفت کر رہے ہیں کہ یہ حکومت کی جانب سے صحیح فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اس قسم کے رد عمل کو دیکھتے ہوئے، یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ یہ پابندی برقرار رہے گی یا نہیں۔ مگر یہ حکومت کی جانب سے بہت مثبت اقدام ہے۔ اس وقت ایسا کرنے کی بہت ضرورت تھی، تا کہ معاشرے کو منفی سمت سے نکال کر مثبت راہوں کی طرف گامزن کیا جائے۔ اللہ اس قوم کا حامی و ناصر ہو، اور صحیح فیصلہ لینے میں حکمرانوں کی مدد کرے۔ آمین۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •