اگر یہ کہا جائے ٹک ٹاک پاکستان کی نئی نسل کے لئے خوراک کی طرح لازم ہو گئی تھی، تو یہ ہرگز غلط نہیں ہو گا۔ ملک کا بچہ بچہ ٹک ٹاک کے نشے میں مست نظر آتا تھا۔ ٹک ٹاک پر بہت بار حکمرانوں کی جانب سے پابندی لگانے کی خبریں گردش کرتی رہی ہیں، مگر اس پر عمل در آمد سامنے نہیں آیا۔ کہیں ماہ و سال کی تگ و دو کے بعد آخر کار حکومت ٹک ٹاک کو مکمل بند کرنے میں کامیاب ہو ہی گئی۔ ٹک ٹاک کے بند ہونے کے بعد سے ملے جلے رد عمل سامنے آ رہے ہیں۔ کہیں ایسے افراد جو اسے روزی روٹی کا ذریعہ گردانتے تھے، وہ تو انتہائی دل شکستہ اور مایوس نظر آئے۔ مگر وہ لوگ جو کہیں کہیں گھنٹے ٹک ٹاک ویڈیوز دیکھنے میں خرچ کرتے تھے، وہ بھی حکومت کے اس اقدام کو سراہ رہے ہیں۔
اگر یہ کہا جائے ٹک ٹاک وقت کا ضیاع اور فحاشی کو فروغ دینے کا ذریعہ تھی تو بھی غلط نہیں ہو گا۔ کیوں کہ گھر کی چار دیواری میں عورت کی عصمت اب محفوظ نہیں تھی۔ گھریلو خواتین بھی نک سک سے تیار ہو کر ٹک ٹاک پر گاتی اور ڈانس کرتی نظر آتی تھیں اور معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ کہ والدین اس فحاشی کو روکنے کی بجائے اپنی اولاد کا پورا پورا ساتھ دیتے تھے۔ یہی نہیں، کتنی بار بڑی عمر کے والدین کو یہ تک کہتے سنا، فلاں نام ٹک ٹاک پر سرچ کرو اور اسے فالو کرو، یہ میرا بچہ ہے۔ دیکھو کیا خوب ایکٹنگ کرتا ہے۔
Read more