سیاحت: ایک اہم نفسیاتی ضرورت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ٹورازم یا سیاحت کے موضوع پر کافی کچھ لکھا جا چکا ہے اور اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ سیاحت کسی بھی ملک کی معاشرتی اور اور معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جملہ مصنفین نے نے ان تمام پہلوؤں کو خوش اسلوبی سے اجاگر کیا۔ تاہم میرے اس کالم کا کا موضوع ایک منفرد پہلو ہے جو انسانی نفسیات اور سیاحت سے وابستہ ہے۔

میرے نزدیک سیاحت صرف معاشی سماجی اور معاشی ترقی کے لئے ہی ضروری نہیں، بلکہ ایک انسان کی انتہائی اہم نفسیاتی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر جاوید اقبال ایک گفتگو میں فرماتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں ذاتی وقت کا تصور ہی نہیں۔ ذاتی وقت یعنی اپنے ساتھ وقت گزارنا۔ اپنے آپ کے لیے وقت نکالنا۔ مغربی معاشرے میں اس چیز کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے کہ ہر انسان اکیلا بھی ہو اور اگر میاں بیوی ہوں، تو دونوں مہینے میں ایک بار اکیلے وقت گزارتے ہیں۔ جس کو پرسنل ہالیڈے کہا جاتا ہے۔

اس کی بنیاد انسان کی وہ نفسیاتی ضرورت ہے، جو آج کی جدید نفسیات واضح کرتی ہے کہ ہر انسان کو اپنے آپ کے لئے وقت چاہیے ہوتا ہے۔ جس سے وہ اپنے ساتھ بیٹھتا ہے، اپنے ساتھ گپ شپ کرتا ہے، اپنے آپ کو محسوس کرتا ہے۔ اپنی ذات کی خوشیاں اور خامیاں اپنے ساتھ ہی شیئر کرتا ہے۔ اس سے اس کو اپنے آپ کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ زندگی میں آج تک انسان نے جو کچھ کیا اور آگے جا کر جو کچھ کرے گا، اس کے بارے میں سکون سے سوچتا ہے۔ اس کو اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں پر اچھے طریقے سے غور و فکر کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اس کے علاوہ آگے ہم زندگی میں کیا چاہتے ہیں، ہمیں کیا کرنا چاہیے، اس کے لیے خاص طور پر سوچنے اور منصوبہ بندی کرنے کا موقع ملتا ہے۔

نفسیات کا ایک اہم پہلو ہے۔ وہ یہ کہ انسان جس جگہ پر رہتا ہے، اس جگہ پر انسان کے ساتھ جو اچھے برے واقعات پیش آتے ہیں، وہ انسان کا ایک نفسیاتی اینکر بن جاتے ہیں۔ نفسیاتی اینکر سے مراد، وہ لنگر ہے یا گٹھ جوڑ ہے، جو انسان کی خوشی یا غمی کا کسی چیز کے ساتھ وابستہ ہو جانا ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ بہت زیادہ ٹینشن میں ہوں اور آپ اپنے گھر میں بیٹھے، اپنے دروازے کو غور سے دیکھ رہے ہوں، تو وہ دروازہ آپ کا ایک نفسیاتی اینکر بن جائے گا اور یہ منفی اینکر ہو گا۔

ماہرین نفسیات ان نفسیاتی اینکرز پر بہت زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ اور وہ یہ کہتے ہیں کہ ہر انسان کو ان اینکرز پر نظر رکھنی چاہیے اور ان کو ختم کرنے کے لیے جو مشقیں ضروری ہیں وہ کرنی چاہئیں۔

ان اینکرز کا سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ یہ لا شعوری طور پر آپ کی ٹینشن میں اضافہ کرتے ہیں، مگر آپ کو محسوس نہیں ہوتا۔ اوپر دی گئی مثال کے مطابق آپ جب بھی اس دروازے کو دیکھیں گے، تو آپ کو ایک عجیب سی غیر محسوس سی ٹینشن ہونا شروع ہو جائے گی۔ آپ کو یہ معلوم بھی نہیں ہو گا کہ آخر مسئلہ کیا ہے، بلکہ آپ کو یہ بھی نہیں معلوم ہو گا، کہ آپ ٹینشن ہو رہی ہے۔ آپ کسی پر غصہ کریں گے یا جھگڑا کریں گے، مگر اصل وجہ وہ نفسیاتی اینکر ہو گا، جو آپ کو پریشان کر رہا ہے

ہماری زندگیوں پر اس کا سب سے برا اثر ایسے پڑتا ہے کہ ہمیں معلوم بھی نہیں ہوتا، ہمیں پریشانی کس چیز کی ہے اور کون سی چیز ہمارے ذہنی تناؤ اور ٹینشن میں اضافہ کر رہی ہے۔ ہم ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد اس ڈپریشن کی وجہ سے ہمارے گھر والے ہمارے بیوی بچے دوست رشتے دار، سب متاثر ہوتے ہیں۔ سب سے بڑھ کے ہم خود کر تکلیف دہ وقت گزارتے ہیں۔ مزاج میں چڑچڑاپن، غصہ، ذرا ذرا سی بات پر پریشان ہو جانا یا ڈپریشن کا شکار ہو جانا معمول بن جاتا ہے۔

اگر آپ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو آپ پر واضح ہو جائے گا کہ ہماری روزمرہ زندگی میں اس چیز کا کتنا عمل دخل ہے۔ اس کی وجہ سے ہمارے گھروں کے اندر کتنی زیادہ ڈپریشن اور غصہ پایا جاتا ہے۔ میاں بیوی کے جھگڑے ہوتے ہیں۔ بہن بھائی آپس میں لڑتے ہیں حتی کہ بچے اپنے والدین سے بھی لڑتے ہیں۔ دوستوں میں بھی لڑائی جھگڑے اور ناراضیاں ہوتی ہیں۔

ان سب مسائل کا حل سیاحت ہے۔ وہ اس لئے کہ وہ جگہ، جہاں آپ معمول کی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں، وہاں سے نکلیں گے، ایک پر فضا خوش گوار مقام پر جائیں گے تو آپ کا ذہن ل اشعوری طور پر، وہ تمام نفسیاتی اینکر توڑ ڈالے گا اور آپ کے شعور میں نئے اینکرز وجود میں آئیں گے۔ اگر آپ ایک خوبصورت مقام پر ہوں جہاں پر موسم خوش گوار ہو، نظارہ خوش گوار ہو، سبزہ ہو پانی ہو اور آپ بڑا لطیف اور اور شفیق محسوس کر رہے ہوں، تو اس وجہ سے آپ کے لا شعور کے منفی اینکر ٹوٹ جائیں گے۔ اس خوش گواریت کے نئے اینکر بن جائیں گے۔

یوں انسان نفسیاتی طور پر ری سٹارٹ ہو جاتا ہے۔ اس کا تمام تر ڈپریشن اور ذہنی تناؤ ختم ہو جاتا ہے۔ اس کی ذاتی زندگی، اس کے بیوی بچے، گھر والے، دوست، رشتے دار، سب کے ساتھ اس کے تعلقات بہتر ہو جاتے ہیں۔ گھر میں بھی سکون آ جاتا ہے۔ یہ ذہنی سکون نہ صرف یہ کہ انسان کی ذاتی زندگی کو خوش گوار بنا دیتا ہے بلکہ یہ انسان کی پیداواری صلاحیت کو بڑھا دیتا ہے۔ آپ زندگی کے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتے ہوں، آپ کی اس متعلق شعبے کی کارکردگی بڑھ جائے گی۔ کیوں کہ جب آپ ذہنی طور پر مطمئن ہوتے ہیں، اندر سے خوش ہوتے ہیں، تب آپ کام بہتر طریقے سے کرتے ہیں۔ آپ اپنے مقاصد کی تکمیل کرتے ہیں۔ اگر کام کے دوران میں کوئی مشکلات بھی آئیں تو ان کا اچھے سے مقابلہ کرتے ہیں۔ لہذا انسان کا ذاتی سکون اور ذہنی اطمینان معاشرے کی تمام سرگرمیوں کے لیے بہت ضروری ہے۔ خواہ وہ انفرادی ہوں یا اجتماعی۔

ہمارے معاشرے میں جو ایک نفسیاتی ہیجان کی سی کیفیت نظر آتی ہے۔ مثال کے طور پر سگنل سرخ ہو جائے تو ہم اتنی بے چینی کا شکار ہوتے ہیں کہ جیسے ہی پیلی روشنی ان ہوتی ہے، لوگ گاڑی اڑا دیتے ہیں۔ حالاں کہ اس کے ایک لمحے بعد سبز لائٹ بھی آن ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف تقریبات میں ہم سب کتنی بے صبری اور بے چینی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہ آپ بہتر جانتے ہیں۔ اس کے تانے بانے بھی انھیں نفسیاتی اینکرز اور بے چینی سے ملتے ہیں۔

ہمارے معاشرے سیاسی اور مذہبی انتہا پسندی اپنے عروج پر ہے۔ اس کی وجہ یہی نفسیاتی دباؤ ہے۔ جو انسان ذہنی طور پر تناؤ کا شکار ہوتا ہے، اس کے رویے میں شدت ہوتی ہے۔ یہ شدت عمومی طور پر ہمارے معاشرے میں نظر آتی ہے۔ ہم کسی سے نظریاتی اختلاف کریں تو لوگ مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں۔ ان سب مسائل کی وجہ وہ نفسیاتی دباؤ ہے، جس کا شکار ہم ان منفی نفسیاتی اینکرز کی وجہ سے ہو جاتے ہیں۔ ان تمام منفی اینکرز کو بڑی آسانی سے سیر و سیاحت سے ختم کیا جا سکتا ہے۔

مذکورہ بالا بحث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سیاحت صرف معاشی سرگرمیاں ہی بحال نہیں کرتی، بلکہ انسان کی ذاتی زندگی کو بہتر بناتی ہے۔ ہم سیاحت کے کلچر کو فروغ دیں سیاحت کو فروغ دیں لوگوں کے لئے اس کو آسان اور کم خرچ بنائیں تو لوگ سیر و سیاحت کے لیے نکلیں گے۔ اس سے ان کی یہ تمام نفسیاتی مسائل حل ہو جائیں گے اور معاشرے میں مجموعی طور پر امن سکون رواداری اور محبت پیدا ہو گی۔ جب انسان کی ذاتی زندگی بہتر ہو جاتی ہے، تو اس کی پیداواری صلاحیت اور کارکردگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے، جس سے پورے سماج اور معاشرے کے اندر ایک خوش گوار فضا قائم ہوتی ہے، جو ملک و قوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ معاشرے میں موجود سیاسی و سماجی اور مذہبی انتہا پسندی اور منافرت کو بھی ختم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
حامد رضا کی دیگر تحریریں