شمالی کوریا میں پریڈ اور میزائلوں کی نمائش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شمالی کوریا نے سنیچر کی رات کو ایک غیر معمولی فوجی پریڈ کا انعقاد کیا جس میں ملک کے سربراہ کِم جونگ اُن نے بھی شرکت کی۔

یہ پریڈ شمالی کوریا کی حکمراں جماعت ورکرز پارٹی کی 75 ویں سالگرہ کے موقعے پر منعقد کی گئی تھی۔

شمالی کوریا عموماً اپنی پریڈز کا استعمال نئے میزائل اور اسلحے کی نمائش کے لیے کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رات گئے ہونے والے اس ایونٹ میں بین البرِاعظمی بیلسٹک میزائل بھی نظر آئے۔

یہ گذشتہ دو سالوں کے دوران ملک میں منعقد کی جانے والی پہلی پریڈ ہے اور امریکی صدارتی انتخاب سے چند ہفتے قبل ہی ہوئی ہے۔

شمالی کوریا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ اُن کے درمیان 2018 میں پہلی ملاقات کے بعد سے اپنی پریڈ میں بیلسٹک میزائلوں کی نمائش نہیں کی تھی۔

جنوبی کوریا کی فوج کے مطابق یہ پریڈ سنیچر کو طلوعِ آفتاب سے قبل ہوئی۔ لیکن یہ معلوم نہیں کہ شمالی کوریا نے اس قدر علی الصبح یہ پریڈ کیوں منعقد کی۔

اس پریڈ میں کسی غیر ملکی شخص یا غیر ملکی میڈیا نمائندے کو شرکت کی اجازت نہیں تھی، چنانچہ تجزیہ کاروں کو پریڈ کا جائزہ لینے کے لیے سرکاری میڈیا کی ایڈیٹ شدہ فوٹیج پر انحصار کرنا پڑا۔

تصاویر میں کم جونگ اُن مغربی طرز کے ایک خاکستری سوٹ میں ملبوس دکھائی دیے جنھیں بچے پھول پیش کر رہے تھے۔

اپنی تقریر میں انھوں نے کہا کہ شمالی کوریا ‘اپنے دفاع’ کے لیے اپنی فوج کو ‘مضبوط’ کرنے کی کوشش کرتا رہے گا۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ شکرگزار ہیں کہ کوئی شمالی کوریائی شخص کورونا وائرس سے متاثر نہیں ہوا۔

انھوں نے کہا: ‘میں اس خوفناک وائرس سے لڑ رہے دنیا کے تمام لوگوں کی صحت کے لیے دعاگو ہوں۔’

لیکن ملک میں کورونا وائرس کا کوئی کیس نہ ہونے کا دعویٰ کرنے کے باوجود کم جونگ اُن اب بھی اعلیٰ سطحی میٹنگز کرتے رہتے ہیں تاکہ سخت پابندیاں برقرار رکھی جا سکیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ شمالی کوریا میں کورونا وائرس کے کوئی متاثرین سامنے نہیں آئے۔

تشویش کی وجہ

تجزیہ: ایلیسٹیئر کولمین، بی بی سی مانیٹرنگ

کوریا

AFP

کم جونگ اُن نے اپنی تقریر کا اختتام 'ہماری عظیم قوم زندہ باد' کے نعرے کے ساتھ کیا، مگر انھوں نے اس سے پہلے یہ بھی تسلیم کیا کہ ملک معاشی مشکلات کا شکار ہے۔

مگر سرکاری میڈیا کی فوٹیج میں کم ایل سنگ سکوائر پر فوجی سازوسامان کی نمائش دیکھ کر یہ واضح ہوجاتا ہے کہ شمالی کوریا کی مسلح افواج پر اخراجات میں کمی نہیں کی گئی ہے۔

زبردست تیاری کے ساتھ کی گئی اس پریڈ میں تجزیہ کاروں نے واضح طور پر دیکھا ہوگا کہ فوجیوں کے پاس نیا آتشیں اسلحہ تھا جبکہ پریڈ میں ممکنہ طور پر نیا ایئر ڈیفینس سسٹم اور بکتر بند گاڑیاں بھی نظر آئیں۔

سب سے پہلے پگ کسونگ فور اے نامی میزائل لایا گیا جو آبدوز سے مار کرتا ہے، جس کے بعد گیارہ ایکسل والی ایک لانچر گاڑی پر ایک بہت بڑا بین البرِاعظمی بیلسٹک میزائل (آئی سی بی ایم) لایا گیا۔ یہ میزائل اتنا نیا ہے کہ ہمیں اس کا نام تک نہیں معلوم۔

شمالی کوریا نے گذشتہ ایک سال کے دوران بارہا کہا ہے کہ وہ اپنی ایٹمی صلاحیتوں میں اضافہ کرے گا اور سنیچر کی پریڈ میں اس میزائل کی نمائش اس پیغام کا اعادہ کرنے کی کوشش ہے۔ جزیرہ نُما کوریا میں امن اور سفارتکاری کے امکانات پر اس نمائش کا کیا اثر پڑے گا، اس بارے میں اندازے ہی لگائے جا سکتے ہیں۔

پریڈ میں کوئی بھی شخص ماسک پہنے ہوئے نظر نہیں آیا تاہم خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس پریڈ میں معمول سے کہیں کم لوگ شریک تھے۔

شمالی کوریا نے جنوری میں اپنی سرحدیں غیر ملکیوں کے لیے بند کر دی تھیں تاکہ پڑوسی ملک چین سے کورونا وائرس اس ملک میں نہ آ سکے۔

حکام نے مبینہ طور پر سرحدوں پر موجود اہلکاروں کو ‘قتل کی نیت سے گولی مارنے’ کے احکامات دے رکھے ہیں تاکہ کوئی بھی شخص ملک میں داخل نہ ہو۔

گذشتہ ماہ کم جونگ اُن نے ایک جنوبی کوریائی شخص کے قتل پر معافی مانگی تھی۔ جنوبی کوریا کا کہنا تھا کہ 47 سالہ شخص کو فوجی اہلکاروں نے شمالی کوریا کے پانی میں تیرتا ہوا پایا تھا۔ اس کے بعد جنوبی کوریا کے مطابق اس شخص کو قتل کر کے اس کے جسم کو آگ لگا دی گئی تھی۔

سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہزاروں لوگ کئی ہفتوں سے سنیچر کو ہونے والی اس پریڈ کی مشق کر رہے تھے۔

شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ میں موجود غیر ملکی حکام کو شہر میں نقل و حرکت سے، ایونٹ کی جگہ کے قریب جانے سے یا اس ایونٹ کی تصاویر لینے سے منع کر دیا گیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15969 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp