سوات یونیورسٹی کی پروفیسر کا انتظامیہ پر ہراسانی کا الزام، ترجمان کا انکار

محمد زبیر خان - صحافی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں قائم سوات یونیورسٹی کے وویمن کیمپس کی خاتون پروفیسر نے پولیس کو اپنے ساتھ ہونے والی ہراسانی اور دھمکیوں کے خلاف درخواست جمع کروائی ہے۔

خاتون پروفیسر کی جانب سے ڈسڑکٹ پولیس آفیسر سوات کو دی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان کو سوات یونیورسٹی کے انتظامی عہدوں پر فائز افراد کی جانب سے ہراسانی کا سامنا ہے۔

خاتون پروفیسر نے درخواست میں ان موبائل نمبرز کی تفصیل بھی فراہم کی ہے جن سے انھیں کالز اور پیغامات بھیجے جاتے تھے۔ یہ چھ مختلف نمبر ہیں جن میں سے ایک برطانیہ کا ہے۔

سوات یونیورسٹی کے ترجمان نے پروفیسر کے ان الزامات کو مکمل طور پر مسترد کیا ہے۔

سوات یونیورسٹی کے ترجمان کے مطابق یہ خاتون سوات یونیورسٹی کے وویمن کیمپس میں انتظامی عہدے پر تعینات ہیں اور انھیں ’دو مرتبہ مناسب کارگردگی نہ دکھانے پر شوکاز نوٹسز جاری ہو چکے تھے۔‘

یہ بھی پڑھیے

جامعہ کراچی: مبینہ ہراس کے مقدمے میں گرفتار چھ نوجوان ضمانت پر رہا

خواتین ہراسانی کے خلاف آواز کیسے بلند کر سکتی ہیں؟

’طاقتور افراد کو MeToo# سے کوئی فرق نہیں پڑا‘

ترجمان کے مطابق ’یونیورسٹی کے اندر اس طرح کی شکایات کے ازالے اور متعلقہ افراد کے خلاف کاروائی کے لیے شعبہ قائم ہے۔ اگر خاتون پروفسیر ڈاکٹر کو کوئی شکایت تھی تو ان کو چاہیے تھا کہ وہ اس شعبے سے رجوع کرتیں اور اگر ان کی شکایت کا ازالہ نہ ہوتا تو اس کے بعد پولیس سے رجوع کرتیں۔‘

ہراسانی

iStock

ایس ایچ او تھانہ تانجو مجید عالم نے صحافی محمد زبیر خان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ خاتون پروفیسر کی جانب سے دو روز قبل درخواست جمع کروائی گئی ہے۔ جس میں واٹس ایپ اور ایس ایم ایس پیغامات بھی منسلک ہیں۔

جن نمبروں سے واٹس ایپ اور ایس ایم ایس پیغامات بھیجے گے ہیں، پولیس اس وقت ان کی تصدیق کر رہی ہے اور متعلقہ محکمے سے تصدیق کے بعد ہم فی الفور مقدمہ درج کر لیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ خاتون پروفیسر نے اپنی درخواست کے ہمراہ ایک بڑی فائل ثبوتوں کے طور پر فراہم کی ہے جس کی جانچ کے لیے کچھ وقت درکار ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ خاتون پروفیسر نے ایسی درخواستیں بھی جمع کروائی ہیں جو انھوں نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو کارروائی کے لیے دی تھیں۔

مجید عالم کا کہنا تھا کہ پولیس اس وقت پوری تن دہی سے اس درخواست پر اپنی تفتیش کررہی ہے۔ خاتون پروفیسر نے جن نمبروں سے متعلق شکایات کی ہیں ان کی سی ڈی آر بھی نکالی جا رہی ہے۔

خاتون پروفیسر کا کہنا ہے کہ انھیں طویل عرصے سے دھمکیوں اور ہراسانی کا سامنا تھا۔ ان کا کہنا تھا ’رات کے دو دو بجے مجھے فون کیے جاتے اور پیغامات بھیجے جاتے تھے۔ مجھے واضح طور پر کہا گیا کہ اگر میں ناجائز مطالبات کو تسلیم نہیں کروں گی تو نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’جب مجھے انتظامی عہدوں سے فارغ کیا گیا تو ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ یہ آغاز ہے۔ اگر اب بھی مجھے سمجھ نہ آیا تو پھر بات اس سے آگے بھی بڑھے گئی اور اس پر مزید جو کچھ ہو گا وہ میرے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا۔‘

ہراسانی

Getty Images

خاتون پروفیسر کا کہنا تھا کہ انھوں نے وائس چانسلر کو خط کے ذریعے سارے معاملے سے آگاہ کیا تھا۔

’اس خط کو لکھنے کے بعد مجھ پر بے انتہا کا دباؤ آیا۔ مجھے کہا گیا کہ میں اپنی شکایت واپس لے لوں۔ دباؤ کے بعد ایک مرحلے پر میں شکایت واپس لینے کے لیے تیار بھی ہو گئی تھی۔ جس کے لیے میں نے شرط رکھی کہ مجھے معذرت کے دو لفظ لکھ کر دے دیے جائیں۔‘

ان کا کہنا تھا ’معذرت کے دو لفظ کیا لکھتے، انھوں نے مجھے شکایت کا خط واپس لینے کے لیے خط کا نمونہ بھی بھیجا۔ جس پر میں نے انکار کیا تو دباؤ، دھمکیوں اور ہراسانی میں اضافہ ہو گیا۔‘

پروفیسر کے مطابق ’میں بتا نہیں سکتی کہ کس طرح میرے دن رات اجیرن گیے گئے ہیں۔ کس کس طرح مجھے ذہنی کوفت میں مبتلا کیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ میرے خاندان کے لوگوں پر بھی دباؤ ڈالا گیا۔‘

ان کا کہنا تھا ’آخری چارہ کار کے طور پر پولیس سے رجوع کیا ہے اور اب کوئی خوف و ڈر نہیں۔ میرے ساتھ جو ہونا ہے ہو جائے مگر امید ہے کہ اس کے بعد کم از کم سوات یونیورسٹی کے اندر آئندہ کسی کو کسی خاتون کو ہراساں کرنے کی جرات نہیں ہو گی۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15933 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp