حکمرانوں کا پھکڑپن اور جمہوریت کا مستقبل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ مہینے پہلے کورونا وائرس کی آفت نے اقوام عالم میں سراسیمگی پھیلا دی تھی۔ رحمت خداوندی سے پاکستان اس آفت سے قدرے محفوظ رہا اور دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت ہم ابتر صورتحال کا شکار ہونے سے بچ گئے۔ حکومت اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خراب معیشت کو بہتر کرنے پر توجہ دے سکتی تھی مگر حکومتی اکابرین نے شاید تہیہ کیا ہوا ہے کہ عوام کو رلانا ہے۔ کورونا وائرس سے تو قوم بچ گئی مگر حکمرانوں کے ”بونگونا“ وائرس سے بچنا بہت مشکل لگ رہا ہے۔ وزرا کے بیانات ہوں یا وزیراعظم کا خطاب، گمان یوں ہوتا ہے کہ متانت و وقار انھیں چھو کر بھی نہیں گزرا۔

ایک تقریب کے دوران عمران خان نے مسلم لیگی رہنما طلال چودھری کے ایک ذاتی نوعیت کے واقعہ کا اس انداز میں ذکر کیا جو کسی طور وزیراعظم کے منصب کے شایان شان نہیں تھا۔ محترمہ ریحام خان کی کتاب ہو، عائشہ گلالئی کو بھیجے گئے ٹیکسٹ میسجز ہوں یا بشریٰ بی بی سے شادی کا معاملہ، ان کی ذاتی زندگی ایسے ہی واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ معیشت سنبھلنے کا نام نہیں لے رہی جبکہ ایک سنجیدہ تقریب میں دریوزہ گری کے شوقین وزیراعظم نے ایک تھڑے باز کا انداز اختیار کر کے سامعین و حاضرین کو ورطۂ حیرت میں مبتلا کر دیا۔ سلیکٹڈ کے نام سے مشہور عمران خان کا عامیانہ پن دیکھنے کے باوجود شاید خاتون اول محترمہ بشریٰ بی بی انھیں نہیں بتاتیں کہ وزیراعظم پاکستان کے عہدۂ جلیلہ پر وہی فائز ہیں۔ شاید وہ انھیں یہ یاد دہانی کروانا بھول جاتی ہیں کہ بھلے انھیں کٹھ پتلی کہا جاتا ہے لیکن دنیا کے سامنے دستاویزی طور پر یہ منصب اعلیٰ انہی کے پاس ہے۔ وزیراعظم کو شاید معلوم نہیں کہ جب وہ پھکڑ پن سے کسی کا تمسخر اڑاتے ہیں تو دراصل وہ اس باوقار عہدے کی تضحیک کر رہے ہوتے ہیں۔

سیاست کی بات کی جائے تو نواز شریف کی تقاریر سے پیدا ہونے والی سیاسی ہلچل تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔ اپوزیشن کے جارحانہ پن میں تیزی آ رہی ہے جبکہ مسخری باز حکمران ٹھٹھول پن میں مصروف ہیں۔ پریشان حال عوام کا پرسان حال کوئی نہیں۔ بجلی کی قیمتوں میں حالیہ ہوشربا اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی سے بلبلاتے عوام کی آہ و فغاں وزیراعظم کو متاثر کرنے میں یکسر ناکام ہے۔

معاشی گراوٹ اور درپیش مالی مشکلات کے باوجود حکومتی غیر ذمہ داری نقطۂ عروج پر ہے۔ جنگ اخبار کی رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف کے رکے پروگرام کے احیا کے لئے حکومت کو اب تین مشکل فیصلے کر نے ہیں جن میں بجلی کے نرخوں میں اضافہ، ٹیکس استثنا کا خاتمہ، پریشان حال عوام پر مزید ٹیکس لگانا اور ریگولیٹر کو خودمختاری دینے کے لئے دستور سازی کرنا شامل ہے تاکہ آئی ایم ایف پروگرام کا دوبارہ احیا ہو سکے۔ حالات یہ ہو چکے ہیں کہ گلیوں بازاروں میں عوام حکمرانوں کو کوسنے دے رہی ہے، ایسے ایسے القابات سے یاد کر رہی ہے جنہیں یہاں تحریر کرنا غیر شائستگی کے زمرے میں آئے گا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حاکم وقت اپنی مکمل توجہ امور سلطنت کی انجام دہی میں صرف کرتے لیکن پھوہڑ پن اور ٹھٹھول بازی میں مہارت رکھنے والی اس حکومت کی مثال اس اونٹ کی مانند ہے جس کی کوئی کل سیدھی نہیں ہوتی۔

نواز شریف کی تقاریر سے گھبرانے والی حکومت نے بغاوت کے الزام میں مقدمہ تو درج کر لیا لیکن اس کی ذمہ داری قبول کرنے سے گریزاں ہے۔ سابق وزرا اعظم، ریٹائرڈ عسکری افسران اور آزاد کشمیر کے وزیراعظم سمیت لیگی رہنماؤں کی اکثریت پر ایک ایسے شخص کی درخواست پر مقدمہ درج کیا گیا جس پر پہلے ہی مختلف مقدمات درج تھے۔ سپریم کورٹ کے سرٹیفائیڈ ’صادق و امین‘ وزیراعظم نے حسب معمول کہا کہ انھیں اس ایف آئی آر کا علم نہیں تھا جبکہ اخباری رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کو آئی جی پنجاب نے آگاہ کیا تھا۔

وزیراعظم اس ایف آئی آر پر ناپسندیدگی کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ وفاقی وزرا اور ایک معاون خصوصی نے اس ایف آئی آر کی حمایت کرتے ہوئے مقدمہ چلانے پر زور دیا۔ وزیر داخلہ کہتے ہیں کہ نواز شریف کے خلاف غلط مقدمہ ہوا جبکہ پولیس نے ایف آئی آر میں سے نواز شریف کے علاوہ سب کے نام نکال دیے۔ حکومتی بد سلیقگی وزیراعظم اور وزرا کے تضادات سے بھرپور بیانات سے عیاں ہے۔

اپوزیشن کی تحریک نے ابھی اڑان نہیں بھری لیکن حکومتی وزرا نے جمہوریت کو لاحق خطرات کا راگ الاپنا کرنا شروع کر دیا ہے۔ غور کریں تو جمہوریت کو اپوزیشن کی تحریک سے کوئی خطرہ نہیں بلکہ جمہوریت کو خطرہ ان بیانات سے ہے جب وفاقی وزیر فخریہ طور پر کہتے ہیں کہ ان کا تعلق جی ایچ کیو کے گیٹ نمبر چار سے ہے۔ جمہوریت کو خطرہ وزیر ریلوے کے اس بیان سے ہے جب وہ بغیر کسی ندامت کے کہتے ہیں کہ اس ملک میں جمہوریت، معیشت اور استحکام سب فوج ہی ہے۔ جمہوریت کو خطرہ فواد چودھری کے ایسے بیانات سے ہیں جب وہ سیاسی مخالفت میں الزام لگاتے ہیں کہ خواجہ آصف کو الیکشن آرمی چیف نے جتوایا۔ جمہوریت کو خطرہ ان سب سیاستدانوں سے ہے جو رات کی تاریکی میں مقتدر قوتوں سے ملاقاتیں کرتے ہیں لیکن دن کے اجالے میں حقیقی جمہوریت کا درس دیتے ہیں۔

ان بیانات سے بھی بڑھ کر جمہوریت کو اصل خطرہ اس تاثر سے ہے جب عسکری ادارے مداخلت کی دعوت دینے والے بیانات پر مکمل خاموش رہتے ہیں لیکن وزیراعظم کا نوٹیفکیشن مسترد کرنے کا ٹویٹ بلا تامل کر دیتے ہیں۔ جمہوریت کو خطرہ اس سے بھی ہے کہ کھلی آنکھوں کے سامنے دو بار آئین توڑنے والے پرویز مشرف کو سنگین غداری میں سزا ہونے کے باوجود واپس نہ لایا جائے، جمہوریت کو خطرہ اس سے بھی ہے کہ جب سیاستدانوں کے احتساب کا معیار الگ ہو اور سابق جنرلز کے احتساب کا معیار الگ۔

جمہوریت کے لئے خوش آئند ہے کہ باشعور عوام کو آزاد اور یرغمال جمہوریت کا فرق سمجھ آ گیا ہے۔ عوام اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی بغاوت کے مقدمات پر سیاسی قائدین سے کھلے لفظوں میں اظہار یکجہتی کرتے ہیں کہ ہاں ’میں بھی غدار ہوں‘ اور کبھی اس خستہ حالی پر دبے لفظوں میں مداخلت کے شوقینوں سے سوال کرتے ہیں۔ اب ففتھ جنریشن وار جیسے ہتھکنڈوں سے عوام کو نہیں بہلایا جا سکتا۔ خوف کی زنجیریں ٹوٹ رہی ہیں۔ بہتر ہے ادارے اپنے آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے اصل کام پر توجہ دیں ورنہ بہت جلد یہ صدائیں بلند ہوں گی کہ ہمارا مستقبل صرف حقیقی جمہوریت ہے اس لیے جمہوریت آزاد کرو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •