ایک چھوٹی سی بات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زندگی بذات خود ایک داستان ہے، جس کے متعدد باب ہیں۔ پیدائش سے سفر کا اک مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ ساتھ ساتھ یادداشت کی کتاب میں مناظر، تجربات اور مشاہدات بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ خوشی اور غم تجربات کی دو انتہائیں ہیں۔ یہاں انتہا سے مراد، کنارہ ہے، جیسے دریا یا ندی کے دو کنارے ہوتے ہیں۔ جیسے شہر کے دو کنارے ہوتے ہیں۔

کناروں کے درمیان بہت کچھ ہوتا ہے۔ کبھی کبھی وہ اتنی اہمیت کا حامل نہیں لگتا، حالاں کہ درمیان کی اہمیت سے تو انکار ہی نہیں کیا جا سکتا ہے۔ درمیان کو توازن کے حوالے سے بھی دیکھا جاتا ہے۔ بسا اوقات درمیان کو امتزاج کے حوالے سے بھی جانا جاتا ہے۔ چاہے یہ امتزاج معیشت کا ہو، سماج کا ہو، سیاست کا ہو، زندگی کے مختلف پہلووٰں کا ہو۔

زندگی میں امتزاج کی انوکھی اہمیت ہے کہ ہم بہت سے واقعات کے بیچ میں سے گزرتے ہوئے حالات کے مختلف پہلووں کا تجربہ حاصل کرتے ہیں۔ مختلف موضوعات کو بالکل نئے زاویوں سے دیکھنے اور اپنے نقطۂ نظر اور زاویۂ فکر کے پھیلاو کو محسوس کرتے ہیں۔

یک رنگی انسان کے لیے بوریت کا سبب بنتی ہے۔ اس لیے اجنبی سر زمین، اجنبی ثقافت و تہذیب اور اجنبی افراد، کشش کے حامل ہو جاتے ہیں۔ سفر اک ذریعہ ہے زندگی کی یک رنگی کو مختلف النوع رنگوں سے بدلنے کا۔ نت نئے تجربات کرنے اور سیکھنے کا۔

سفر چاہے اندرون ذات کا ہو، یا بیرونی دنیا کا، اس میں بہت سے رمز پوشیدہ ہے۔ یہ پوشیدگی اک مسافر، اک سیاح پر اجاگر ہوتی ہے۔ زندگی کی یک رنگی کے بہت سے پہلو اور انداز ہیں اور سفر سے ملنے والی دریافت، انسان کو بہت سے رنگوں سے آشنا کرتی ہے، جس سے لطافت، فصاحت اور دانش میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے۔ دنیا کے بارے میں فکر کے انداز میں کشادگی پیدا کرتے ہیں۔

کہا جاتا ہے، انسان کے لیے ہر ایک اچھا برا موقع، در اصل تفہیم کا راستہ ہوتا ہے۔ مواقع اپنے اندر بہت سے تجربے سمائے ہوئے ہوتے ہیں کہ جن سے گزر کر بہت سے سچ اور حقیقتیں واضح ہوتی ہیں۔ پریشان ہونا ایک ایسا رویہ ہے، جو سچ کو دریافت کرنے کا موقع کھو دینے کا سبب بنتا ہے۔

پرانی روش پر چلنا آسان اور تیز ہوتا ہے، مگر انجانے راستے اپنے ساتھ نئے منظر اور بہت کچھ لے کر آتے ہیں۔ اس سے زیست، افراد اور خود کو سمجھنا بہتر اور آسان ہو جاتا ہے۔ نئے راستوں پر چلنا اور نئے تجربے کرنا، اگر مجبوری کے طور پر نہ ہوں بلکہ ایک موقع کے طور پر جاننے کی نیت سے ہوں، تو سارا معاملہ ہی بدل جائے۔ مشکلیں آسانیوں میں بدلنے لگیں۔

چاہے عادت ہو یا ذائقہ، اگر مخصوص ہی ہو کر رہ جائے تو در اصل انسان کو اسیر کر لیتا ہے اور اسیر اپنی آزادی کھو دیتا ہے۔ جب آزادی کھو جائے تو دریافت کا سفر تھمنے جاتا ہے۔ اگر زندگی میں نئی دریافتیں نہیں ہو رہیں، تو پھر امکان غالب ہے کہ بوریت اور بے سکونی زندگی کا حصہ بن کر اسے بے لطف اور بے رنگ سا کر دے۔

ہمیں اپنے اطراف میں تھکے ہوئے پریشان سے یا بیمار سے لوگ نظر آتے ہیں تو ہم یہ سوچتے بھی نہیں کہ ان کی پریشانی یا مستقل تھکاوٹ کے پیچھے کیا سبب ہے۔ ان کی زندگی کے پھیکے پن سے دوسروں اور خصوصاً ہماری زندگی میں کیا فرق پڑ سکتا ہے۔

یہی وہ اہم نکتہ ہے جو اجتماعی ترقی اور خوشی سے تعلق رکھتا ہے کہ جب کسی معاشرے میں بے گانگی اور لا تعلقی زور پکڑنے لگے تو پھر ایسا نہیں ہو سکتا کہ ذاتی، خاندانی اور گروہی زندگیاں اس سے براۂ راست یا بالواسطہ متاثر نہ ہوں۔ ہمیں اپنے اطراف سے بہت زیادہ متعلق، مربوط ہونے کی ضرورت ہے۔ اس کا براۂ راست اثر معاشرے میں خوشی کی اجتماعی سطح پر پڑتا ہے اور ترقی کی رفتار کو متاثر کرتا ہے۔

اب ایسا کب سے ہوا (مدت کا تعین)، کیوں ہوا (سبب یا اسباب کا تعین) اور کیسے ہوا (ذمہ داری کا تعین) بلا شبہ بہت اہم سوال ہیں۔ ان پر سوچ بچار اور تحقیق کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ مگر ایک اور بہت اہم بات، ازالے اور تعمیر کے عمل سے متعلق ہے۔ فوری طور پر جس چیز کی ضرورت ہے، وہ ہے اپنے ذاتی رویے میں مثبت اقدام اور تبدیلی کی، کہ فوراً اپنے اطراف کے ساتھ تعلق اور رابطے کو بڑھانے پر کام ہو۔

ایک مسکراہٹ، تھوڑی سی گفتگو، کہیں کوئی تقریب بہر ملاقات اور دوسروں کی زندگیوں میں بہتری کے بارے میں نا صرف سوچنا، بلکہ ممکن طور پر کوئی فوری اعانت یا مدد، ایسے اقدامات ہیں جو فوری طور پر ماحول کو بہتر، آرام دہ اور مثبت ہونے میں بہت زیادہ مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ آپ کا فیصلہ کیا ہے اور اس فیصلہ پر عمل در آمد کے بارے میں آپ کیا سوچ رہے ہیں؟!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •