مذہب، روحانیت، فلسفہ اور ادب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے مطالعے کا سفر بیش تر مذہبی کتابوں سے شروع ہوا۔ یہ کتابیں عموماً مذہب کے سافٹ امیج یا روشن خیالی کی ترویج کے لئے لکھی گئیں تھیں۔ یہاں آپ کو ’بہشتی زیور‘ ، ’موت کے بعد کا منظر‘ یا ’قصص الانبیا‘ وغیرہ، نظر نہیں آئیں گی۔ میری نظر سے جو کتابیں گزریں، ان کے عنوان کچھ یوں تھے : ’سلیم کے نام خطوط‘ ، ’قرآن کی فریاد‘ ، اور ’مذہب اور جدید چیلنج‘ وغیرہ۔ ان کتابوں میں دور جدید کے مسائل کے تناظر میں مذہب کی تعریف نو بھی کی گئی تھی، مسلمانوں کی زبوں حالی کا نوحہ بھی پڑھا گیا تھا، اور مذہب کی حقانیت کے بارے میں دلائل بھی پیش کیے گئے تھے۔ میری خصوصی توجہ مذہب اور سائنس کے مابین ہم آہنگی، فرقہ واریت سے بلند ہو کر دین کی تعبیر نو اور باہم پیکار نظریات کی دنیا میں مذہب کی افضلیت پر مرکوز رہتی تھی۔

میری پرورش ایک روایتی مذہبی ماحول میں ہوئی تھی۔ تلاوت کلام پاک، نماز کی پابندی اور رمضان کا خصوصی اہتمام اس کے نمایاں پہلو تھے۔ مگر یہ سب عبادات کی حد تک تھا۔ کتابوں میں اس سے بڑھ کر نظریات کی جنگ چل رہی تھی۔ اگر کتاب خدا کا قول ہے تو پھر کائنات کیا ہے؟ اس کا فعل؟ اور خدا کے قول و فعل میں ہرگز کوئی تضاد نہیں ہو سکتا۔ میں مذہب میں سائنس کو ڈھونڈ رہا تھا۔ اور سائنس میں مذہب کو۔ میں کہیں قرآن مجید میں بگ بینگ کی بازگشت سن رہا تھا، تو کہیں ایک چیونٹی یا ایک خلیے میں الوہی معجزے کا بیان۔ مسلمان جو اس زبوں حالی کا شکار ہیں اور فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں، یہ چند مفاد پرست طبقات کی سازش ہے، جو دین کا صحیح مفہوم عام لوگوں تک پہنچنے نہیں دیتے، ورنہ ان کا کاروبار خطرے میں پڑ جائے گا۔ پھر مختلف ادیان اور مذاہب کے تقابل سے یہ ثابت کیا جاتا کہ ہمارا عقیدہ ہی سچا اور کھرا ہے، باقی محض باطل ہیں یا پھر ملاوٹ کا شکار ہو چکے ہیں۔

کیا میں یہ مان لیتا کہ میں جس گھر میں پیدا ہوا وہ پہلے سے ہدایت یافتہ تھا؟ مجھے مزید کسی سچائی کی تلاش کی ضرورت نہیں تھی۔ صرف عقائد پر یقین اور عبادات کا پابندی ضروری تھی۔ پھر دنیا اور آخرت میں کامیابی ہی کامیابی ہے۔ یہاں تک میں صراط مستقیم پر چل رہا تھا۔ پھر میری نظر ’دوسری‘ قسم کی کتابوں پر پڑی۔ جس طرح دنیا میں مختلف رنگ و نسل کے لوگ ہیں، بھانت بھانت کی بولیاں بولی جاتی ہیں اور نت نئے نظریات موجود ہیں، ویسے ہی ہمارے گھر میں مختلف قسم کی کتابیں موجود تھیں۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے ان کتابوں کے مطالعے کی بدولت یہ معلوم ہوتا ہے کہ ’دوسرا‘ بھی موجود ہے۔

میں نے بالترتیب روحانیت، فلسفہ اور ادب کا مطالعہ شروع کر دیا۔ کبھی میں اپنی روح کے نہاں خانوں میں گھس جاتا، کبھی ذہن کے کونوں کو کریدتا، اور کبھی نظر کے در وا کر کے دنیا کے سفر پر نکل جاتا۔ اب تک جو میں صراط مستقیم پر چلا آ رہا تھا، یہ مقام میرے لئے پل صراط سے کم نہیں تھا۔

روحانیت سے بات شروع کرتے ہیں۔ یہاں بھی معاملہ ’کشف المحجوب‘ ، ’کیمیائے سعادت‘ یا ’مثنوی مولوی معنوی‘ کا نہیں۔ یہ قصہ ’ایک روحانی گم راہ صوفی کی آپ بیتی‘ سے شروع ہوتا ہے، اور ’زندگی ایک نغمہ ایک رقص‘ اور ’پھولوں کی بارش‘ سے ہوتا ہوا ’آنے والے دور کے انسان‘ پر ختم ہوتا ہے۔ اس داستان کے ابواب میں ’مراقبہ‘ ، ’محبت‘ ، ’عورت‘ ، ’دانش‘ ، ’بدھا‘ اور دیگر شامل ہیں۔ یہ روح کا سفر ہے، تنہا اور آزاد سفر ہے۔ یہاں ہمیں گیان ملتا ہے کہ اگر موت نہ ہو تو جینے میں کوئی کشش باقی نہیں رہے گی۔ یا پھر جن چیزوں سے ہم چمٹے رہتے ہیں، بالآخر انھیں کھو بیٹھتے ہیں۔ اور بیج کبھی درخت سے نہیں ملتا۔ بیج فنا ہوتا ہے تو درخت پروان چڑھتا ہے۔ یعنی انسان کو اپنے آپ کو بدلنے کے لئے اپنے موجودہ آپ سے بلند ہونا پڑتا ہے۔ زندگی کا یہ جلوس، آگہی کی مشعل بڑھاتے ہوئے کئی تنازعات کا بھی شکار ہوتا ہے۔

پھر ہم فلسفے کی پر خطر وادی میں داخل ہوتے ہیں۔ گویا ایک سہانے خواب سے اچانک آنکھ کھل جائے۔ اب ’لوگوں کو سوچنے‘ کی طرف مائل کیا جاتا ہے۔ اور جو نہیں سوچتے، ان سے پوچھا جاتا ہے : ’آپ سوچتے کیوں نہیں؟‘ کہیں ’فکر کی نوید‘ سنائی جاتی ہے تو کہیں ’ماضی کے مزاروں‘ کی سیر کرائی جاتی ہے۔ پھر ’کائنات اور انسان‘ کے تعلق کے بارے میں بتایا جاتا ہے، ’روایات تمدن قدیم‘ کی بات ہوتی ہے، ’فلسفے کی روایات‘ کا ذکر ہوتا ہے، اور ’عام فکری مغالطوں‘ کو دور کیا جاتا ہے۔ فلسفہ انسان کے اندر سوال کا بیج بو دیتا ہے : کب، کہاں، کیسے اور کیوں؟ تحقیق کا پودا شعوری اور لا شعوری طور پر پروان چڑھتا رہتا ہے۔ یہ آپ کے مان اور ایمان کا امتحان لیتا ہے۔ مگر ساتھ ہی اس بات کا اطمینان بھی دیتا ہے : اگر آپ سچ پر کامل بھروسا رکھتے ہیں اور آپ کی نیت صاف ہے تو آپ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ آپ گم راہی کے چکر لیتے ہوئے بھی سچائی کے مرکز پر ہی آ کر گریں گے۔ آج نہیں تو کل بات آپ کی سمجھ میں آ جائے گی۔ لیکن اگر آپ خود تشکیک پسندی کا شکار ہیں تو پھر اس کا کوئی علاج نہیں۔ بہتر ہے کہ اس گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دیا جائے اور پھر اس کی تعمیر نو کی جائے۔

یہ سفر اپنے اختتام کی طرف بڑھتے ہوئے ادب کی ’سوہنی دھرتی‘ میں داخل ہوتا ہے۔ یہاں ’ساری کائنات ارادے کی تکمیل میں سرگرم‘ بھی ہے اور مخمصے میں انگشت بدنداں بھی کہ ’زندگی کہیں اور ہے‘ ۔ یہ ’حماقتوں‘ اور ’مزید حماقتوں‘ کا زمانہ ہے۔ یہ ’وبا کے دنوں کی محبت‘ کا احوال ہے۔ یہ ’آب نیل پر آوارگی‘ کا افسانہ ہے اور لاشعور کے ’قلعے‘ میں محصوری کی داستان۔ ادب میں کئی زندگیاں سانس لے رہی تھیں، کئی دل دھڑک رہے تھے، کئی دماغ سوچ رہے تھے۔ ہر ایک انوکھا، ہر ایک منفرد۔ اب کس پر فتوی لگائیں؟ کس کے خلاف دلیلیں نکالیں؟ زندگی کی اسٹیج پر ہر شخص محض اپنا کردار ادا کرتا ہے۔

اب ’میں‘ کا دائرہ بڑھ چکا ہے اور ’میں‘ کے بطن سے ’تو‘ وجود میں آ چکا ہے۔ اب ’میں‘ ایک نہیں رہا، ایک ذات میں کئی ’میں‘ شامل ہو چکی ہیں۔ ان میں کچھ باہمی ہم آہنگی کے ساتھ رہ رہی ہیں اور کچھ کے آپس میں اختلافات ہیں۔ مگر انہوں نے تضادات کے ساتھ جینا سکھ لیا ہے۔ انہوں نے ’دوسرے‘ کو تسلیم کر لیا ہے۔ انہوں نے یقین کرنا سیکھ لیا ہے، اور شک کرنا بھی۔ اب ان کی خوشیاں اور دکھ ساجھے ہیں۔ اب یہ وجود ایک ہفت اقلیم ہے۔ اس میں جنت بھی آباد ہے اور دوزخ بھی۔ دوست اور دشمن شیر و شکر ہو چکے ہیں۔ بہت سی شناختیں سانس لے رہی ہیں مگر بظاہر یہ فقط ایک انسان ہے۔ ایک عام و خاص انسان۔ تہذیب کی ٹریفک کے شور میں غلطاں، روایات کی گلیوں کی خاک چھانتا، جدیدیت کے دفتر میں ڈیوٹی دیتا، حالات حاضرہ سے باخبر، اور سیاست و اقتدار کی بھول بھلیوں میں گم۔ اسے مٹی سے بنایا گیا تھا اور ایک دن اسے مٹی میں مل جانا ہوگا۔ کبھی وجود کی لطافت سے گریزاں زمینی حقائق کا شاہد اور کبھی وجود کی کثافت سے بوجھل آسمانی راحت کا منتظر۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •