پاکستان ایمبیسی سیئول کی ایک الوداعی تقریب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ ہفتے سیؤل جنوبی کوریا میں پاکستان سفارت خانے کی جانب سے ایک دعوت نامہ موصول ہوا، جس کے مطابق ایک تقریب کا اہتمام ”لوتے ہوٹل“ میں ”سیفران ریسٹورنٹ“ پہ کیا گیا۔ اس تقریب کا کمیونٹی اتاشی محترم شفیق حیدر ورک کے اعزاز میں اہتمام کیا گیا تھا اور کوریا میں موجود طلبا و طالبات اور پروفیسر مدعو تھے۔ شفیق حیدر ورک صاحب جولائی 2016 ء سے پاکستان کے سیؤل سفارت خانے میں بطور کمیونٹی کونسلر تعینات ہیں۔ یہ تقریب تو اپنی جگہ ایک منفرد اور خوبصورت اکٹھ تھا ہی، جس کی روداد لکھنا ضروری ہے، لیکن اس سے بھی بڑھ کر میں اپنے قارئین کے ساتھ برادر شفیق حیدر ورک کے پاکستان کمیونٹی کوریا سے تعلق، اور ان کی چنیدہ خدمات کو ریکارڈ پر لانا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ دیوار کے پرے بھی پر دیس ہی ہوتا ہے، اور جب آپ کسی دوسرے ملک جا بسیں، تو پھر ایک پر دیسی کے لیے اپنی کمیونٹی اور پاکستانی سفارت خانہ ہی دوست ہوتے ہیں، جہاں آپ کو ہر طرح کی مدد اور اپنائیت ملتی ہے۔ اگر سفارت خانے میں تعینات عملہ و افسران ممد و مدد گار ہوں تو پھر پر دیس میں آپ کے مسائل نا ہونے کے برابر رہ جاتے ہیں۔ اس ضمن میں کمیونٹی ویلفیئر اتاشی یا کمیونٹی ویلفیئر کونسلر اور اس کا اسٹاف بنیادی کردار ادا کرتے ہیں کہ متعلق ملک میں وہاں کی پاکستانی کمیونٹی سفارت خانے سے کس حد تک مطمئن ہے۔ لوگ جب کمیونٹی کونسلر کی خدمات اور کام سے خوش و مطمئن ہوتے ہیں تو سفیر اور سفارت خانہ کمیونٹی کے لیے ہر دل عزیز ہو جاتا ہے۔

جیسا کہ عرض کیا کہ عزیزم شفیق حیدر ورک نے پاکستان ایمبیسی سیؤل جنوبی کوریا میں بطور کمیونٹی کونسلر کے اپنی ذمہ داریاں، جولائی 2016 ء سے شروع کیں۔ اس دورانیے میں اس نوجوان افسر نے جس مہارت اور پیشہ ورانہ انداز میں اپنے فرائض نبھائے، وہ قابل ستائش ہیں۔ میں چوں کہ خود کوریا میں ایک طویل عرصے سے مقیم ہوں اور پاکستان کمیونٹی کوریا کے مسائل کی وجہ سے پاکستان ایمبیسی سے رابطہ رہتا ہے، اس کی روشنی میں کہہ سکتا ہوں کہ مسٹر ورک نے اپنا کام، بہت پروفیشنل انداز میں کیا ہے۔ میرے لیے ممکن نہیں ہے کہ میں کمیونٹی اتاشی کی ان تمام خدمات کا احاطہ کر سکوں، جو وہ پاکستان کمیونٹی کوریا کے لیے کرتے رہے ہیں۔ البتہ شفیق صاحب کے قیام کے دوران میں ان کی صورت، سفارت خانے نے جو نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، انہیں اختصار سے بیان کرنا ضروری ہے۔

کوریا میں ہر سال حکومتی سطح پر ہنر مند پاکستانی ورکر، کوریا میں چار سال کی مدت کے لیے آتے ہیں۔ مسٹر ورک نے اپنی دن رات کوششوں سے اس کوٹے میں 2016 ء سے 2020 ء تک، 67 فی صد اضافہ کروایا۔ یہ بجا طور پر پاکستان کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے، جس پہ شفیق حیدر ورک بجا طور پر شاباشی کے لائق ہیں۔ جہاں ایک طرف ہنر مند مزدوروں کے کوٹے میں اضافہ ہوا، وہاں شفیق صاحب نے ان مزدوروں کو میٹنگز میں، اس بات پہ قائل کیا کہ آپ اپنے ورک پرمٹ کے ختم ہوتے ہی واپس پاکستان چلے جائیں اور غیر قانونی قیام نا کریں۔ یہ کاوش خصوصی طور پر ملک کی نیک نامی کے لیے کی گئی تھی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان گزشتہ چار سالوں میں غیر قانونی طور پر قیام کرنے والے جو 2016 ء میں تقریباً 10 فی صد لوگ تھے وہ 2020 ء میں 6 فی صد پہ آ گئے۔

کمیونٹی اتاشی نے اپنی ذاتی کوششوں سے مختلف کمپنیوں کے سربراہان کے ساتھ ایمبیسیڈر کی ملاقاتوں کا ایک سلسلہ بھی شروع کیا جو کہ براۂ راست پاکستان کی معیشت کی بہتری کے لیے تھیں۔ یہ معاشی سرگرمیاں براۂ راست تو ان کی ذمہ داری نہیں تھی لیکن اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ مسٹر ورک جب بھی ورکرز کی کسی فیکٹری کو وزٹ کرنے جاتے تو اس کمپنی کے سی ای او یا چیئرمین سے وقت لے کر کے ایمبیسیڈر سے ان کی ملاقات کروا دیتے۔ اس کے علاوہ ورک صاحب نے کوریا میں موجود بدھ مت مذہب کے 80 مونکس کو پاکستان میں بدھ مت تہذیب کے آثار دیکھنے کے لیے رضا مند کیا۔ بدھ مت کے ان مذہبی راہنماؤں کو پاکستان میں مختلف بدھا تہذیب کی سیر کرائی گی اور صدر مملکت اور وزیر اعظم پاکستان سے ملاقات بھی کرائی گئی۔

مسٹر ورک نے چند سالوں سے پاکستان کے قومی دنوں کو منانے کا ایک اچھوتا پروگرام بھی دیا، جسے ”پاکستان کے لیے دوڑیے“ یا ”رائڈ فار پاکستان“ کا نام سے متعارف کرایا۔ اب پاکستان کمیونٹی ہر سال 23 مارچ کو سفارت خانے کے تعاون سے ایک لانگ واک کا بندوبست کرتی ہے، جس میں کورین لوگوں کی بھی ایک کثیر تعداد شرکت کرتی ہے۔ اس سے دو ممالک کے عوام ایک دوسرے کے ملکوں کو جاننے میں دل چسپی لیتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان لانگ واک پروگرام اور سائیکل رائڈ کے مواقع پہ کورین شہریوں کو پاکستان اور پاکستانی کلچر سے روشناس کرایا جاتا ہے۔

سیؤل کی مقامی حکومت ہر سال چنیدہ غیر ملکیوں کو اعزازی شہریت دیتی ہے۔ یہ ایک اعزاز ہوتا ہے، جو ہر کمیونٹی اپنے ملک کو دلانے کی کوشش کرتی ہے۔ اس کے لیے ایسے لوگوں کو نام زد کیا جاتا ہے، جو مجموعی طور پر کمیونٹی میں اچھی شہرت کے حامل ہوں اور مختلف کورین ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے بھی ان کی خدمات کو سراہا گیا ہو۔ یہ ایک محنت طلب کام ہے کیوں کہ پر دیس میں ہر شخص فکر معاش میں مصروف ہوتا ہے، لہذا سماجی سرگرمیوں کے لیے وقت نکالنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ شفیق ورک گزشتہ تین سالوں سے پاکستان کے لیے مسلسل یہ ایوارڈ جیت رہے ہیں۔

گزشتہ سال کورین گورنمنٹ نے کوریا میں نیشنیلٹی حاصل کرنے والے چار بیسٹ فارن کورین نیشنل کا انتخاب کیا، جس میں ایک پاکستانی مدثر علی چیمہ ہیں۔ مدثر علی چیمہ پاکستان بزنس ایسوسی ایشن کوریا کے صدر بھی ہیں۔ اسی طرح راقم بھی سیؤل فارن کونسل میں بطور کونسلر کے پاکستان کی نمائندگی کر رہا ہے۔ ایسی تمام سرگرمیوں کے لیے کمیونٹی کونسلر شفیق حیدر ورک ذاتی طور پر مدد فراہم کرتے ہیں۔ جس میں سفارت خانے کی طرف سے معلومات کا وقت پہ پہنچانا اور کسی بھی مطلوبہ ڈاکیومینٹ کا اجرا شامل ہے۔

میں نے آغاز ہی میں عرض کیا تھا کہ میں جناب شفیق ورک کی تمام خدمات لکھنے سے قاصر ہوں، بس یہی کہنا چاہوں گا کہ پاکستان کے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے تمام سفارت خانوں میں تعینات کمیونٹی کونسلر، اگر مسٹر ورک ایسے جذبے سے کام کریں، تو یقین کامل سے کہہ سکتا ہوں کہ وہاں کی کمیونٹی اور خصوصاً پاکستان کو بیش بہا فائدہ ہو سکتا ہے۔ شفیق حیدر ورک نے نئے آنے والے کمیونٹی افسران کے لیے خدمت کا ایک رول ماڈل چھوڑا ہے۔ ہم دعا کریں گے کہ سفارت خانہ اسی طرح پاکستانی کمیونٹی کے مسائل کو اولیت کی بنیاد پہ حل کرتا رہے۔

اب چند باتیں تقریب کے بارے میں ہو جائیں۔ ملٹری اتاشی محترم کرنل نوید عباسی صاحب بنفس نفیس اپنی دھیمی مسکراہٹ سے مہمانوں کو خوش آمدید کہہ رہے تھے۔ کمرشل کونسلر مسٹر عمران رزاق بھی تقریب میں موجود تھے۔ پاکستان اسٹوڈنٹس اینڈ اسکالرز ایسوسی ایشن کوریا کے نو منتخب صدر برادر وجاہت عباسی اور ان کی کابینہ کے ارکان، وسیم اقبال، تنویر حسین اور نادیہ سلیم بھی تقریب میں رونق افروز تھے۔ سٹیج برادر زاہد حسین کے حوالے تھا، جو اپنے احسن انداز میں تقریب کو آگے بڑھا رہے تھے۔ جب شفیق حیدر ورک کو بلایا گیا، تو انہوں نے خوب طریقے سے تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا اور ہلکے پھلکے انداز میں طلبا کے بارے میں بتایا کہ اکثر اوقات یہ لوگ بن بلائے میرے گھر میں مہمان بنتے رہے ہیں، جس سے محفل کشت زعفران بن گئی۔ شفیق حیدر ورک اپنی اہلیہ کی طرف دیکھ کر کہنے لگے کہ اگر میری اہلیہ تعاون نہ کرتیں، تو شاید میں یہ تمام ذمہ داریاں احسن طریقے سے پوری نا کر پاتا۔ اس موقع پہ تمام شرکا نے کھڑے ہو کر تالیوں سے مسٹر اینڈ مسز ورک کا شکریہ ادا کیا۔

آخر میں سیؤل میں تعینات سفیر پاکستان عزت مآب میڈم ممتاز زہرا بلوچ اسٹیج پہ تشریف لائیں اور مختصر مگر جامع الفاظ میں شفیق حیدر ورک کی بطور کونسلر خدمات کو سراہا۔ کھانے کے دوران میں میڈم ایمبیسیڈر باری باری ہر میز پہ تشریف لے گئیں اور شرکا سے بات چیت کی اور خصوصاً نوجوان طلبا کے شعبۂ تحقیق و تدریس کے بارے معلومات حاصل کرتی رہیں۔

میں شفیق حیدر ورک سے الوداعی ملاقات کر کے رخصت ہوتے وقت سوچ رہا تھا کہ شفیق بھائی واقعی شفیق ہیں، ایک محنتی اور نستعلیق شخصیت۔ کاش پاکستان کے نوجوان افسر شفیق حیدر کی طرح عوامی خدمت کو اپنا طرۂ امتیاز بنائیں، جو کہ اصل میں ملک و قوم کی خدمت ہے۔ شفیق حیدر ورک میں آپ کے لیے دعا گو ہوں کہ آپ جہاں جائیں، خوش رہیں اور مزید کامرانیاں حاصل کریں۔ شفیق بھائی کو پنجابی شاعری سے بھی بہت لگاو ہے، لہذا پنجابی ہی کے ایک شعر سے اجازت چاہتا ہوں، جو کہ شفیق بھائی کی شخصیت پہ بہت درست بیٹھتا ہے۔

دنیا اندر رکھ فقیرا ایسا بیہن کھلون
کول ہویں تے لوکی ہسن دور ہویں تے رون

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •