سلطنت عثمانیہ: کیا ترکی اپنے ’اسلامی عہد زریں‘ کی تاریخ دہرانے کی کوشش کر رہا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

            <figure>
  <img alt="اردوغان" src="https://c.files.bbci.co.uk/17312/production/_114849949_cd9c9032-1215-4419-839a-b5aff199154c.jpg" height="549" width="976" />
  <footer>Getty Images</footer>

</figure>اگر آپ دنیا کے نقشے پر مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، مشرقی بحیرہ روم اور وسطی ایشیا کے علاقوں کو دیکھیں تو آپ شاید تقریباً تمام جنگ زدہ یا کشیدگی کے شکار علاقوں میں ترکی کی موجودگی دیکھ کر حیران ہوں گے۔

چند سال پہلے تک ترکی کا دعویٰ تھا کہ اس کے ’اپنے پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات کشیدہ نہیں ہیں۔‘ لیکن آج شام، لیبیا اور ناگورنو قرہباخ جیسے کشیدگی زدہ علاقوں میں ترکی کی صاف موجودگی نظر آتی ہے۔

شام اور اس کے اپنے علاقوں میں وہ کردوں کے ساتھ برسرِپیکار نظر آتا ہے، جبکہ قبرص کے معاملے پر وہ ایتھنز کے ساتھ نبرد آزما ہے۔ بحیرہ روم کے خطے میں ترکی توانائی کے وسائل پر قبضہ کرنے کی دوڑ میں یونان اور دیگر ممالک کے ساتھ ٹکراؤ کی حالت میں ہے۔

اسی طرح روس، امریکہ، اسرائیل، یورپی یونین اور نیٹو کے ساتھ بھی ترکی کی کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سلطنتِ عثمانیہ: تین براعظموں کے سلطان

کیا روس، ترکی چاہتے ہیں کہ لیبیا اگلا شام بن جائے؟

ارطغرل:صدر اردوغان کی اسلامی قوم پرستی کا ہدف سلطنتِ عثمانیہ کی بحالی ہے؟

600 سال تک سلطنت عثمانیہ جنوب مشرقی یورپ سے لے کر موجودہ آسٹریا، ہنگری، بلقان، یونان، یوکرین، عراق، شام، اسرائیل، فلسطین اور مصر تک پھیلی ہوئی تھی۔ 16ویں اور 17ویں صدی کے درمیان اس سلطنت کے اثر و رسوخ میں مزید اضافہ ہوا۔

اس کا دائرہ اختیار شمالی افریقہ کے ملک الجیریا سے لے کر عرب ممالک تک تھا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ سنہ 2002 سے ترکی میں برسراقتدار رجب طیب اردوغان حکومت نے اپنی ’سنہری تاریخ‘ کے پیش نظر ایک پُرجوش اور حوصلہ افزا خارجہ پالیسی مرتب کی ہے۔

آیا صوفیہ

Getty Images
</figure><p><strong>ترکی ایک </strong><strong>علاقائی طاقت</strong>

ترکی کے عوام اور وہاں کی فوج اپنے ملک کو آبادی و معاشی حیثیت اور تجارتی صلاحیت کے لحاظ سے ایک علاقائی طاقت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ترکی کی سرحد آٹھ ممالک سے ملتی ہے۔ یہاں آبادی کا 74 فیصد سنی مسلمان ہیں جبکہ کُل آبادی تقریباً ساڑھے آٹھ کروڑ ہے۔

خیال رہے کہ ترکی کا قیام عثمانیہ سلطنت کے خاتمے کے بعد عمل میں آیا۔ ترکی نے سنہ 1928 سے باضابطہ طور پر سیکولرازم کی پالیسی اپنائی ہوئی تھی، تاہم یہاں کے معاشرے اور سیاست پر اسلام کے اثرات نمایاں تھے۔

صدر اردوغان نے ابتدا میں اسلام پسندوں اور سیکولر افراد کے درمیان مصالحت پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن اسی کے ساتھ ہی ایک مضبوط مذہب پسند خودمختار حکومت کی بھی بنیاد رکھی۔

سنہ 2014 اور سنہ 2016 کے درمیان ترکی نے ’پڑوسیوں کے ساتھ کوئی تنازع نہیں‘ کی پالیسی کو فروغ دیا اور اس کے بعد انھوں نے بہت سے بین الاقوامی تنازعات میں ثالثی کے لیے اپنی خدمات پیش کیں۔ ترکی نے غیر فوجی سرگرمیوں کو بھی فروغ دینا شروع کیا، مثال کے طور پر اس نے افریقہ اور لاطینی امریکہ میں اپنے سفارت خانے کھولے اور ثقافتی اور تہذیبی مفاہمت کی کوشش بھی کی۔

آسٹریا کی یونیورسٹی آف گراز میں سینٹر فار ساؤتھ ایسٹ یورپین سٹڈیز کے پروفیسر کریم آکٹیم کا کہنا ہے کہ اردوغان نے بلقان اور مشرق وسطیٰ میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی اور شام، اردن اور لبنان کے ساتھ مل کر ایک آزاد تجارتی خطے کی تشکیل دی۔

اسرائیل اور فلسطین کے تنازع میں بھی ترکی اہم اور متضاد کردار ادا کرتا نظر آتا ہے۔ اردوغان اور اسرائیلی وزیر اعظم بن یامن نتن یاہو کے درمیان معاندانہ تعلقات کی بات عام ہے۔

سنہ 2010 میں اسرائیل اور ترکی کے مابین سفارتی محاذ آرائی کی صورتحال اس وقت پیدا ہو گئی تھی جب ترکی نے انسانی بنیادوں پر فلسطین کی مدد کی۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے مابین تجارتی اور فوجی تعلقات کافی حد تک کم ہو گئے تھے۔

ترکی فلسطین کی حمایت کرتا ہے۔ وہ تل ابیب سے امریکی سفارت خانے کو یروشلم منتقل کرنے کے امریکی فیصلے پر تنقید بھی کر چکا ہے کیونکہ ترکی کے مطابق یہ اقدام اقوام متحدہ کی قرارداد کے منافی ہے۔

اردوغان

Getty Images
</figure><p><strong>اثر</strong><strong>و</strong><strong>رسوخ بڑھانے پر اتفاق رائے</strong>

بحرین اور متحدہ عرب امارات نے حال ہی میں اسرائیل کو تسلیم کیا ہے اور فلسطین کی امداد سے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔ ترکی نے گذشتہ ماہ استنبول میں دو فلسطینی دھڑوں الفتح اور حماس کے مابین ثالثی کروانے کی کوشش بھی کی ہے۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیل کے متعلق دباؤ پر ترکی نے قطر کی حمایت کی ہے، اور اسی بنیاد پر وہ مصر کو بھی تنقید کا نشانہ بناتا رہا ہے۔ اس کا الزام ہے کہ مصر نے اخوان المسلمون کو بدنام کیا ہے۔

ترکی کے ان تمام رویوں کے باوجود یہ اشارے مل رہے ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ اس کے تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں۔ اردوغان کا بتدریج اپنی فوج پر کنٹرول بڑھتا جا رہا ہے۔ ترک فوج روایتی طور پر سیکولر رہی ہے۔

انھوں نے ’بہارِ عرب‘ (عرب سپرنگ) کے دوران اخوان المسلمون کی حمایت کی تھی۔ اس کے علاوہ انھوں نے شام میں بشار الاسد کے خلاف اسلامی ملیشیا کی بھی حمایت کی ہے۔ جولائی سنہ 2016 میں ترکی میں بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد انھوں نے ایک سخت گیر نظریہ اپنا لیا ہے۔

امن کے شعبے میں کام کرنے والے اداراے ’پینار‘ کے مطابق معاشی اور مالی بحران اور شامی مہاجرین کی کثیر تعداد میں موجودگی سے اردوغان کی پارٹی کو نقصان پہنچا ہے اور اس سے دائیں بازو کی جماعت اور قوم پرست نیشنل ایکشن پارٹی کو فائدہ پہنچا ہے۔

استنبول کی قادر ہاس یونیورسٹی کے پروفیسر سولی اوزیل نے اعتراف کیا ہے کہ سرد جنگ کے بعد مختلف مکتبہ فکر کے حامل گروہوں میں یہ خیال پھیلایا گیا کہ ترکی کا اپنے مفادات کے بارے میں توسیع پسندانہ نظریہ رہا ہے اور خلیجی ممالک میں وہ علاقائی تسلط چاہتا ہے۔

اس وقت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (پی جے ڈی) کے اسلام پسند قوم پرست، مغرب مخالف اور ایشیا کے حامی بن چکے ہیں۔ اس میں عام شہری اور فوج دونوں ہی فوج کی بنیادیں مضبوط کرنے اور ان کی طاقت میں اضافے پر اتفاق کرتے ہیں۔

ایم ایس بی اور اردوغان

Getty Images
</figure><p><strong>مشرقی بحیرہ روم کے خطے میں کشیدگی</strong>

سرد جنگ کے دوران ترکی مغرب کا مضبوط اتحادی تھا اور نیٹو اور یورپی کونسل کا رکن ملک بھی تھا۔ اس کے جغرافیائی محل وقوع اور ثقافتی خصوصیات کی وجہ سے، جس میں اسلام ایک مضبوط سیکولر روایت کے ساتھ موجود ہے، اسے مشرق اور مغرب کے مابین ایک پُل سمجھا جاتا تھا۔

اس کے ساتھ ہی اسے علاقے میں اقوام متحدہ کے اثر و رسوخ کے خلاف ایک دیوار بھی سمجھا جاتا تھا۔ ستمبر سنہ 2001 کے واقعے کے بعد بھی بنیاد پرست سیاسی اسلام کے اثرات یہاں سے دور رہے۔ اس کے باوجود ایسا بھی نہیں تھا کہ ترکی کی غیر متنازع حیثیت مسلم تھی۔

نیٹو کے دوسرے ملک یونان کے ساتھ قبرص کی خودمختاری کے معاملے پر وہ جنگ کی حالت میں آ گیا تھا۔ سنہ 1974 میں قبرص کے شمالی علاقے پر ترکی نے تجاوزات کی تھیں۔ سنہ 1983 میں ترکی نے اس علاقے کو ترکی کا شمالی جمہوریہ قرار دیا تھا، تاہم اسے بین الاقوامی سطح پر تسلیم نہیں کیا گیا۔

گذشتہ اگست یونان اور ترکی کے مابین کشیدگی ایک بار پھر شروع ہوئی جب اردوغان نے قبرص کے اس علاقے میں گیس تلاش کرنے کی کوشش شروع کی۔

اسرائیل، یونان، قبرص، اٹلی اور مصر بحیرہ روم کے خطے میں گیس کی موجودگی کے امکانات پر پہلے ہی ایک معاہدے کر چکے ہیں۔ ترکی کا کہنا ہے کہ اسے اس پر حق حاصل ہے۔ جرمنی یہاں یونان اور ترکی کے مابین ثالثی کی کوشش کر رہا ہے لیکن اس مسئلے نے یورپی یونین اور نیٹو اتحادیوں کو تقسیم کر دیا ہے۔

امریکہ نے خود کو یونان کی سائیڈ پر رکھا ہوا ہے۔ ترکی نے شام اور دیگر ممالک سے آئے لاکھوں مہاجرین کے بارے میں یورپی یونین کو ایک خط لکھا ہے۔ اس نے سنہ 2016 میں بھی یورپی یونین کے ساتھ چھ ارب یوروز کے بدلے مہاجرین کو پناہ دینے کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

شام

Getty Images
</figure><p><strong>کرد اور شام</strong>

کردوں کی وجہ سے بھی ترکی کی مغرب کے ساتھ محاذ آرائی کی صورتحال بنی ہوئی ہے۔ کردوں کی آبادی دو کروڑ ہے اور یہ چار ممالک (عراق، شام، ترکی اور ایران) میں پھیلے ہوئے ہیں۔ کرد ترکی کے مشرقی خطے انتولیا میں بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ وہاں کردوں کی 55 فیصد آبادی ہے، یہ ترکی کی کل آبادی کا 20 فیصد ہیں۔

کئی عشروں سے کردوں کی آزادی کے خلاف ترکی حالت جنگ میں ہے اور انھیں دبانے کی کوشش کر رہا ہے۔ سنہ 2015 کے بعد سے ترک حکومت نے کرد سیاستدانوں اور سول سوسائٹی کے اہم ممبران کے خلاف جبری اقدام میں اضافہ کیا ہے۔

اکتوبر سنہ 2019 میں ترک فوج نے شام کے شہر ادلب میں داخل ہو کر کرد تنظیم ’شامی ڈیموکریٹک اتحاد پارٹی‘ اور اس کی مسلح ونگ ’پیپلز پروٹیکشن یونٹس‘ پر حملہ کیا تھا۔ وہاں کرد جنگجو امریکہ، فرانس اور برطانیہ کی مدد سے دولت اسلامیہ کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

اردوغان کا خیال ہے کہ شام میں کردوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی وجہ سے ترکی میں بھی کردوں کی علیحدگی پسندی کا حوصلہ بڑھ سکتا ہے۔ امریکہ نے اکتوبر میں اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے ڈھائی ہزار فوجیوں کو واپس بلا رہا ہے۔

اس کے بعد بشار الاسد نے کرد کے اثرات والے علاقوں کو دوبارہ اپنے زیر اقتدار لے لیا۔ ترکی، روس اور شام کے مابین تعلقات بھی ‏گہرے ہیں۔ ترکی اور روس کی افواج نے خطے میں کنٹرول قائم کرنے کے لیے آپس میں بہتر رابطہ قائم کیا ہے۔

نیٹو نے جب اس اقدام پر تنقید کی تو اردوغان نے کہا کہ ترکی اپنی قومی سلامتی کے مفاد میں ‘کسی کی اجازت کے بغیر’ کوئی بھی قدم اٹھا سکتا ہے۔

لیبیا اور ناگورنو قرہباخ میں مداخلت

روس اور ترکی لیبیا میں جاری خانہ جنگی میں مختلف فریقوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ افریقہ میں تیل کے سب سے بڑے ذخائر لیبیا میں موجود ہیں۔ گذشتہ سال دسمبر میں ترک حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ لیبیا کی قومی معاہدے کی حکومت (جی اے این) کو فوجی مدد فراہم کرے گی۔

جی اے این کو اقوام متحدہ کی بھی حمایت حاصل ہے۔ خلیفہ حفتر کی سربراہی میں باغیوں نے جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ خلیفہ حفتر سابق صدر معمر قذافی کے آرمی کمانڈر تھے، کچھ اسلام پسند جماعتیں بھی باغیوں کے اس گروہ میں شامل ہیں جن کی وہ قیادت کر رہے ہیں، جسے لیبیا کی نیشل آرمی کہتے ہیں۔

جی اے این کا ترکی کی فوج، قطر، اٹلی اور اخوان المسلمون کی بدولت ملک کے مغربی حصے پر کنٹرول ہے۔ اسی کے ساتھ جنرل حفتر کو متحدہ عرب امارات، مصر اور اردن کی حمایت بھی حاصل ہے۔

لی موڈ اخبار کے ڈائریکٹر سلوی کافمین کے مطابق روس نے حفتر کو ایک ہزار جنگجو فراہم کیے ہیں۔ فرانس کا کردار بھی یہاں زیادہ واضح نہیں ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ وہ حفتر کے حق میں ہے اور وہ روس کے ساتھ چلنے کی کوشش کر رہا ہے۔

مشرقی بحیرہ روم کے علاقے میں توانائی کے وسائل پر فرانس کے مفادات بھی ترکی سے متصادم ہیں۔ لیبیا کے علاوہ ناگورنو قرہباخ کے خطے میں ترکی اور روس آمنے سامنے آ چکے ہیں۔

اگر ایک طرف روس آرمینیا اور آذربائیجان کے مابین ثالثی کی کوشش کر رہا ہے تو وہیں ترکی نے آذربائیجان کی کھل کر حمایت کی ہے۔ اس سے قبل ترکی سفارتی طور پر آذربائیجان کی حمایت کرتا رہا ہے، لیکن روس کے مطابق ترکی نے ہتھیاروں سے بھی آذربائیجان کی مدد کی ہے۔

بین الاقوامی سطح پر ناگورنو قرہباخ خطے پر آذربائیجان کا کنٹرول تسلیم کیا گیا ہے، لیکن اس خطے میں بسنے والی اکثریت آرمینیائی ہے۔ یہ دونوں ممالک پہلے سوویت یونین کا حصہ تھے۔

پوتن اور اردوغان

Getty Images
</figure><p><strong>روس اور ترکی: دوست یا دشمن؟</strong>

روس اور ترکی کے مابین سیاسی تعلقات طویل عرصے سے بلقان، بحیرہ اسود اور قفقاز، اور مشرق وسطیٰ پر اثر و رسوخ قائم کرنے اور انھیں کنٹرول کرنے کے گرد گھومتا رہا ہے۔ دونوں ممالک مختلف مسائل پر مختلف موقف رکھنے کے باوجود اس بات پر متفق ہیں کہ انھوں نے مستقبل پر مبنی نظریہ اپنا رکھا ہے۔

اردوغان اور ولادیمیر پوتن دونوں رہنماؤں کا خیال ہے کہ یہ دنیا ایک کثیر قطبی دنیا ہے اور ان کے ممالک چین اور دیگر ابھرتے ہوئے ممالک کے ساتھ ساتھ امریکہ اور یورپ سے زیادہ طاقت حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔

تھنک ٹینک ‘پینار ٹینک’ کا خیال ہے کہ روس اور ترکی کے مابین نئے اتحاد کو کسی ایسی تنظیم کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے جس کا مقصد نیٹو کو ختم کرنا یا اسے کمزور کرنا ہے۔ یہ دراصل سہولیات کا سنگم ہے جو دونوں ممالک کے قومی مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔ ترکی خارجہ پالیسی کے بارے میں مختلف موقف اپنانا چاہتا ہے اور روس کے نشانے پر ترکی کے نیٹو کے ساتھ تعلقات ہیں۔

اگرچہ علاقائی معاملات پر دونوں ممالک کے مابین اختلافات موجود ہیں اس کے باوجود ترکی اور روس کے درمیان گہرے کاروباری تعلقات ہیں۔ روس ترکی کا تیسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور وہ ترکی کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے والا سب سے اہم ملک ہے۔ ایٹمی توانائی کے شعبے میں بھی دونوں ممالک کی شراکت ہے۔

جنوری میں دونوں ممالک نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ 930 کلومیٹر طویل گیس پائپ لائن منصوبے پر مشترکہ طور پر عمل درآمد کریں گے۔ یورپ کو گیس کی فراہمی کرنے والی یہ پائپ لائن بحیرہ اسود سے گزرے گی لیکن یوکرین سے دور رہے گی۔

پناہ گزین

Getty Images
</figure><p><strong>نیٹو اور یورپی یونین کے ساتھ مسائل</strong>

ترکی کے امریکہ کے ساتھ تعلقات بھی کم تضادات والے نہیں ہیں۔ امریکہ کی یہ کوشش رہی ہے کہ رجب طیب اردوغان کی حکومت کا میلان مکمل طور پر ایران کی جانب نہ ہو۔ ترکی نے ہمیشہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے دستبرداری کے ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

لیکن دوسری طرف ترکی میں امریکہ اور نیٹو کا فوجی اڈہ ہے۔ اس اڈے سے ماضی میں افغانستان، عراق اور دیگر مقامات پر فوجی کارروائیاں کی گئیں تھیں، بہرحال اب اردوغان کی حکومت نے اس فوجی اڈے کو بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔

امریکہ نے اردوغان کے مخالف فتح اللہ گولن کو ترکی کے حوالے کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ سنہ 2019 میں ترکی اور امریکہ کے تعلقات میں ایک نیا موڑ اس وقت آیا جب اردوغان حکومت نے روس سے اینٹی میزائل سسٹم ایس-400 خریدنے کا ارادہ ظاہر کیا۔

ترکی کا کہنا تھا کہ امریکہ نے سنہ 2017 میں اسے پیٹریاٹ میزائل فروخت کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اس کے علاوہ ترکی میں مقیم شامی مہاجرین بھی ان کے درمیان ایک مسئلہ ہیں۔ ترکی ان مہاجرین کو شام کے ایک علاقے میں رکھنا چاہتا ہے جس کی وجہ سے صورتحال پیچیدہ ہوتی جارہی ہے۔

یورپ سے باہر ترکی کا نام وینزویلا کے سیاسی بحران میں بھی لیا جا رہا ہے۔ دسمبر میں وہاں انتخابات ہونے والے ہیں اور ترکی یورپی یونین کے ساتھ اپوزیشن سیاسی جماعتوں کو انتخابی عمل میں حصہ لینے پر راضی کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

یورپی یونین اس عمل کا مشروط حصہ بننے کے لیے تیار ہے لیکن امریکہ اس کی مخالفت کر رہا ہے۔

’کارنگی‘ تھنک ٹینک میں یورپ کے مارک پیرینی کا کہنا ہے کہ ‘یورپ کے نقطۂ نظر سے دیکھیں تو ترکی کی تین شناختیں ہیں۔‘

’معیشت اور تجارت کے معاملے میں ترکی یورپ کا سٹریٹجک پارٹنر ہے۔ وہ مشرق وسطیٰ اور مشرقی بحیرہ روم میں یورپ کا مخالف ہے اور نیٹو میں ایک منفی کھلاڑی ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15956 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp