ساون مسیح: جج صاحب میرے سات سال واپس لوٹا دو!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پرانے وقتوں کی ایک فلم تھی، ”انسان اور آدمی“ ۔ اس میں شہنشاۂ جذبات محمد علی کا ایک ڈائیلاگ تھا: ”جج صاحب، مجھے میری زندگی کے 25 سال لوٹا دو، جو میں نے جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارے ہیں۔ جوانی کے وہ حسین لمحے لوٹا دو، جو میں نے جیل میں گھٹ گھٹ کے گزارے ہیں“ ۔ آج وہ ڈائیلاگ مجھے بڑی شدت سے یاد آیا، جب میں نے سنا کہ ساون مسیح کو عدالت نے 7 سال بعد رہا کر دیا۔ اگر ساون مسیح اپنے جذبات کی تشہیر کر سکتا تو ضرور کہتا کہ جج صاحب مجھے میرے 7 سال لوٹا دو، جو میں نے بے گناہ ہو کر بھی جیل میں گزارے ہیں۔

27 مارچ 2014 ء میں توہین رسالت کے الزام میں سیشن کورٹ لاہور کے جج چودھری غلام مرتضیٰ کی طرف سے سزائے موت پانے والے جوزف کالونی کے مقیمی ساون مسیح کو سات سال بعد لاہور ہائیکورٹ نے رہا کر دیا۔ یہ خبر سن کر ہر شہری کو خوشی ہوئی اور کسی حد تک عدالتوں پر اعتماد بھی بحال ہوا۔ اس کے ساتھ انتہا پسند مذہبی جنونی معاشرے پر افسوس بھی ہوا، جو ہوش سے کم اور جوش سے زیادہ کام لیتا ہے اور قانون کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے خود ہی سزائے موت کا فیصلہ سنا دیتا ہے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ ماتحت عدالت یعنی سیشن کورٹ فرسودہ نظام، دباؤ یا خوف سے قانونی تقاضوں کو پورا کیے بغیر بے گناہ کو موت کی سزا کا فیصلہ سنا دیتی ہے۔ پہلے آسیہ بی بی اور اب ساون مسیح کی تاخیر سے رہائی اور توہین رسالت کے الزام میں گرفتار بہت سے ملزمان جو کئی سالوں سے انصاف کی امید لگائے، جیلوں میں پڑے ہیں۔ ان سب کے پیچھے عدالتوں کا سست نظام، بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ واضح رہے کہ 7 مارچ 2014 ء کو ساون مسیح اور اس کے مسلمان دوست محمد شاہد، جس کی جوزف کالونی میں ویڈیو کی دکان تھی، دونوں کے درمیان جھگڑا ہوا اور محمد شاہد نے اسے توہین رسالت کا رنگ دے کر کچھ مسلم دوستوں اور امام مسجد کو ساتھ ملا لیا۔ دوسرے دن 8 مارچ 2014ء کی شام امام مسجد کے سپیکر پر اعلان کرنے پر ہجوم مشتعل ہو گیا اور انہوں نے بادامی باغ کے قریب مسیحی آبادی جوزف کالونی پر ہلہ بول دیا۔ اس دوران میں 100 سے زیادہ مکانوں، دکانوں اور متعدد گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا گیا۔ جوزف کالونی کے گھروں سے اٹھتے ہوئے شعلوں نے ان غریبوں کی زندگیوں کو بدل کر رکھ دیا۔

معصوم اور بے گناہ بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کی چیخیں مشتعل ہجوم کے شور میں دب کر رہ گئیں۔ مسلم نوجوانوں اور بچوں کے مذہبی جذبات کو مسیحیوں کے خلاف بھڑکانے والوں اور آگ لگانے والوں پر افسوس ہوتا ہے۔ ان اندھے، بہرے مذہبی انتہا پسندوں پربھی افسوس ہوتا ہے، جو بغیر سوچے سمجھنے جھوٹی خبروں اور اشتعال پھیلانے والوں کی باتوں میں آ جاتے ہیں اور پر امن اور غریب غیر مسلموں کی بستیوں کو خاکستر کر دیتے ہیں۔ مقدس کتب اور مقدس نشانات کی بے حرمتی کرنے اور انسانی جانیں لینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔

افسوس ہوتا ہے ان پر جو اپنے ناپاک ارادوں کی تکمیل کے لئے ایسی گھناؤنی حرکات کرتے ہیں۔ افسوس ہوتا ہے ان پر جو شہریوں کی جان و مال کی حفاظت پر مامور ہیں، مگر ایسے سانحات پر خاموش تماشائی بن کر لوگوں کی بربادی کا تماشا دیکھتے رہتے ہیں۔ بستیوں کو جلنے، انسانی جانوں کو بچانے اور انتہا پسندوں کے مذموم ارادوں کو روکنے کی کوشش نہیں کرتے۔ اگر یہی لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کرنے والے ادارے بر وقت ایکشن لیں اور عدالتیں جھوٹے الزام لگانے اور بستیوں کو آگ لگانے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہیں۔

یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ عدالتیں نا کافی ثبوتوں کو بنیاد بنا کر مجرموں کو رہا کر دیتیں ہیں۔ شانتی نگر، گوجرہ، سانگلہ ہل، رحیم یار خان، جوزف کالونی وغیرہ میں ہونے والے الم ناک واقعات میں ملوث تقریباً تمام مجرموں کو عدالتیں رہا کر چکی ہیں۔ جوزف کالونی کے واقع میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ لاہور میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے مسیحی بستی جلانے اور سانحہ جوزف کالونی کے 115 ملزمان کو نا کافی گواہوں اور ثبوتوں کی بنیاد پر بری کر دیا۔ اگر کوئی اس سارے سسٹم اور 295 C کے غلط استعمال پر آواز اٹھاتا ہے تو اسے خاموش کر دیا جاتا ہے۔ وفاقی وزیر شہباز بھٹی اور گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو دن دیہاڑے قتل کر دیا گیا۔ شہید شہباز بھٹی کے مجرم، آج تک پکڑے نہیں گئے۔

آج تک جتنے بھی توہین رسالت کے مقدمات آئے ہیں، سیشن کورٹ نے قانون او ر انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے میں انتہائی غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا۔ اور شاید یہ انتہا پسندوں کے خوف کا نتیجہ ہی ہے کہ جیل کے اندر ہی توہین رسالت کے جھوٹے الزام میں گرفتار ملزم کو سزائے موت سنا دی جاتی ہے۔ کبھی یہ نہیں سنا کہ سیشن کورٹ نے کسی شخص کو بے گناہ قرار دیا ہو اور اسے رہا کیا ہو۔ اگر کوئی غریب مذہبی انتہا پسندوں سے بچ جاتا ہے تو اسے یقین ہوتا ہے کہ عدالتیں اسے ضرور انصاف دیں گی۔ حکومت کا اس نظام کو درست اور 295 C کے غلط استعمال کو روکنے کی کوششوں کے با وجود ماتحت عدالتوں کا نظام، تھانے اور تفتیش کا سسٹم درست نہیں ہو سکا۔

2014ء میں اس وقت کی حکومت نے لوگوں کے نقصان کا ازالہ کرتے ہوئے انہیں امدادی چیک دیے تھے، مگر خوف اس قدر پھیل گیا تھا کہ ان میں سے بہت سے لوگ تھائی لینڈ اور ملیشیا ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے، جہاں وہ تا حال طرح طرح کی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور کوئی ان کا پرسان حال نہیں۔ آج مختلف جیلوں میں 295 C کے الزام میں بہت سے ملزمان کئی سالوں سے مقید ہیں۔ بعض کو عدالتیں سزائے موت سنا چکی ہیں۔ گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو حکم دیا کہ توہین رسالت کے کیسوں کی مدت کا تعین کرے۔ تا کہ جیلوں میں انصاف کے منتظر قیدیوں کا فیصلہ جلد ممکن ہو سکے۔

اس وقت پاکستان میں 24 مسیحی توہین مذہب کے الزام میں قید ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بہت سے مسلم بھی توہین رسالت کے الزام میں جیلوں میں بند ہیں۔ ان سب کو انصاف تبھی مل سکتا ہے، جب معاشرے میں پائی جانے والی مذہبی انتہا پسندی ختم ہو گی۔

دیکھتے ہیں کہ اس وقت حکومت اور اپوزیشن کی آپس کی کشمکش کیا رنگ لاتی ہے۔ الزامات کی سیاست اور ایک دوسرے کی پگڑی اچھالنا ہمارے یہاں اک ریت بن گئی ہے۔ اس کا نقصان اسٹیبلشمنٹ، وزرا یا امیروں کو نہیں بلکہ غریبوں ہی کو اٹھانا پڑتا ہے۔ بہتر تو یہی ہو گا کہ رہتے وقت ہی میں سب اپنا اپنا قبلہ درست کر لیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •