تین جماعتیں تین کہانیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تین عورتیں اور تین کہانیوں کے بارے میں ہر وہ شخص با خبر ہے جو میگزین پڑھنے کا شغف رکھتے ہیں۔ اگر حالیہ ملکی سیاسی اتار چڑھاؤ یا عروج وزوال کی داستان کو دیکھا جائے تو تین بڑی سیاسی جماعتیں یعنی نون لیگ، پی ٹی آئی اور پی پی آئے روز بدلتے بیانات سے یوں دکھائی دیتی ہیں جیسے بنا سمت الراس کے قبلہ درست کرنا ہو۔ جس کے دماغ میں کم دل میں جو آ جاتا ہے اسے سیاسی بیان کی شکل دے کر پریس کانفرنس کر دیتا ہے۔ پریس کانفرنسز کے انعقاد سے تو یوں لگتا ہے جیسے تمام سیاسی جماعتوں کو اور کوئی کام ہی نہیں۔ اگر تمام جماعتوں کی پریس کانفرنس، پالیسی بیانات اور منشور پر غور کیا جائے تو لگتا ہے ایک خرگوش کے شکار میں کچھ شکاری مسلسل لگے ہوئے ہیں لیکن خرگوش ہے کہ ہاتھ آتا دکھائی نہیں دیتا۔ خیر بات ہو رہی تھی تین جماعتیں اور تین کہانیوں کی تو اس میں سب سے پہلی کہانی کچھ اس طرح سے ہے کہ

ایک میراثی اپنے دوست احباب میں بیٹھا چسکے لے رہا تھا کہ گائے کا خالص دودھ، سپر بناسپتی کے چاول، دیسی گھی اور شکر سے کھیر بناؤں گا، پھر اسے ٹھنڈی کروں گا اور مزے لے لے کر اسے انگلیوں سے چاٹ چاٹ کر کھاؤں گا۔ قریب بیٹھے ہوئے ایک شخص نے پوچھا کہ خاں صاحب آپ کے پاس ان میں سے کون کون سی اشیا ہیں تو میراثی نے جواب دیا کہ ”انگلی“ ۔

مذکور کہانی کے تناظر میں اگر موجودہ سیاسی صورت حال کا جائزہ لیں تو مولانا فضل الرحمان پاس سیاسی حلوہ کھانے کے لئے صرف انگلی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کی انگلی سیاسی طاقت کے حلوہ سے ہمیشہ تر رہے تاکہ ان کی موجودگی کا پاکستانی سیات میں احساس رہے۔ حالانکہ اس بار انہیں حصہ بقدر جثہ نہیں مل سکا وگرنہ ہمیشہ سے ہی وہ حکومت اور اقتدار کا حصہ رہے ہیں۔ اقتدار کی ہوس نے تو انہیں اس قدر اندھا کر دیا ہوا ہے کہ جب ایک انٹرویو میں اینکر وسیم بادامی نے زرداری کی کرپشن کے حوالہ سے سوال کیا تو مولانا نے جواب دیا کہ اس طرح کے سوالات مجھ سے نہ کیے جائیں، جس پر وسیم بادامی نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ کرپشن کو جائز قرار دے دیا جائے تو مولانا نے سنجیدہ لہجے میں اثبات میں سرہلا دیا۔ حالانکہ مولانا صاحب نے ہمیشہ آئین اور قانون کی بالا دستی کی بات کی ہے۔ لیکن آئین وقانون کی شاید وہی دفعات ان کے لئے قابل تقلید ہیں جو ان کی موافقت میں ہیں۔ یعنی اسے کہتے ”میٹھا میٹھا ہپ، کڑوا کڑوا تھو“ ۔

دوسری کہانی اور جماعت کے بارے میں عرض ہے کہ ایک بزرگ اور اس کا مرید خاص کہیں لمبے سفر پر روانہ تھے کہ مرید نے دیکھا کہ پیر صاحب کو کسی قسم کی بھوک اور پیاس محسوس نہیں ہوتی اور اگر ایسا وہ محسوس کرتے بھی ہیں تو بس مراقبہ کرتے ہیں اور ان کے سامنے انواع واقسام کے کھانے حاضر ہو جاتے ہیں۔ مرید کے دل میں لالچ پیدا ہو گیا۔ جب مرید نے دیکھا ک اس وقت پیر صاحب ایک خاص کیفیت میں ہیں تو انہوں نے عرض کیا کہ بابا جی میری ایک گزارش ہے، اگر آپ اجازت دیں تو عرض کروں۔

پیر صاحب حالت حال میں تھے انہوں نے کہا کہ ہاں بتاؤ کیا چاہیے۔ مرید نے عرض کیا کہ حضور اور کچھ نہیں بس میں چاہتا ہوں کہ یہ درخت سونے کا ہو جائے اور میں بقیہ کی زندگی آرام وسکون سے گزار سکوں۔ بابا جی نے کچھ منتر پڑھ کرانگلی کے اشارہ سے درخت پر پھونکا تو وہ سونے کا بن گیا۔ مرید کی یہ لالچ و ہوس دیکھ کر بابا نے وہاں سے کوچ کرنا مناسب سمجھا اور آگے کی راہ لی۔ اگلے مقام پر جب بابا جی ڈیرے ڈالے تو مرید پھر ان کے پیچھے پیچھے تھا۔

بابا جی ذرا سختی سے پوچھا کہ اب کیا چاہتے ہو، تو مرید نے عرض کیا کہ بابا جی اور کچھ نہیں بس یہ سامنے والا پہاڑ سونے کا بنا دو تاکہ میں باقی کی ساری زندگی آرام وسکون سے گزار لوں۔ بابا نے ایک بار پھر کچھ پڑھ کر اپنی انگلی سے پہاڑ کی طرف اشارہ کیا تو وہ بھی سونے کا بن گیا۔ بابا جی دوسری جگہ سے بھی کوچ کا ارادہ فرما لیا تو مرید خاص پھر بابا جی کے ساتھ ہو لیا۔ اب کے بار بابا جی نے ناراضگی سے پوچھا کہ اب تم کیا چاہتے ہو؟ مرید نے بڑی بے تکلفی سے عرض کیا کہ بابا جی زیادہ کچھ نہیں، بس مجھے اپنی یہ والی انگلی عنائت فرما دیں جس سے آپ چیزوں کو سونا بنا دیتے ہو۔

اب ذرا نون لیگ کے آج کل کے بیانیہ، عوام کو اشتعال دلانے والے بیانات، اور ان کی لیڈران کی سیاسی چالوں کو دیکھیں تو آپ کو خود ہی اندازہ ہو جائے گا کہ نون لیگ کو اور تو کچھ نہیں چاہیے بس وہ ”انگلی“ درکار ہے جس سے طاقت اور اقتدار کی کرسی ان کے لئے سونے کی بن جائے۔ مگر اب کی بار وہ انگلی کسی اور جماعت کے پاس ہے۔ اس لئے نون لیگ مستقبل کا سیاسی نفع نقصان سوچے بنا ہی انگلی کو ہدف تنقید بنائے ہوئے ہے۔ لیکن دل سے چاہتی ہے کہ وہ ”انگلی“ پھر سے ان کی جماعت کو آشیرباد دے تاکہ دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے گھی نکال کر کھائیں۔

اب رہ گئی ایک کہانی اور ایک جماعت۔ کہانی کا پلاٹ اور سیاسی جماعت کی کارکردگی دونوں ہی مختصر ہیں۔ کہتے ہیں کہ ایک عورت کے پاس سب سے طاقتور اس کی انگلی ہوتی ہے جس پر وہ سسرال اور خاوند کو نچاتی ہے۔ ایسی ہی کہانی بر سر اقتدار جماعت پی ٹی آئی کی ہے کہ جب سے انہیں اقتدار ملا ہے اس نے پاکستان کی جمہور کو جمہوریت کی آڑ میں مہنگائی کے دلدل میں ایسے دھکیلا ہے کہ اب وہ اقتدار کی انگلی سے پورے پاکستان کی عوام کو نچا رہی ہے۔

میرے خیال یہ ہے کہ باقی دو کہانیوں اور جماعتوں کی اس وقت اتنی اہمیت اس لئے نہیں کہ وہ اب اقتدار میں نہیں ہیں۔ لیکن پی ٹی آئی چونکہ اقتدار میں ہے اور ان کے پاس عوامی اور جمہوری طاقت بھی ہے تو انہیں اپنی انگلی کو عوامی فلاح کے لئے استعمال کرنا چاہیے نا کہ عوامی انتشار کے لئے۔ اقتدار کا کیا ہے آج ہے کل نہیں۔ لوگ حکومت کی طرف سے دی گئی فلاح وبہبود اور سہولیات کی وجہ سے ہمیشہ زندہ رکھتے ہیں۔ اگر پی ٹی آئی کی حکومت چاہتی ہے کہ وہ آئندہ الیکشن تک زندہ رہے تو انہیں مہنگائی کے خلاف فوری ایکشن لیتے ہوئے عومی فلاح کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا وگرنہ جو عزت دیتا ہے وہ چھین لینے کی طاقت بھی رکھتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •