ہلمند کے دارالحکومت پر قبضے کے لیے طالبان اور افغان فورسز میں گھمسان کی جنگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


افغانستان کے عہدیداروں کا پیر کے روز کہنا ہے کہ افغان فورسز اور طالبان باغیوں کے درمیان جنوبی صوبہ ہلمند کے دارالحکومت لشکر گاہ پر قبضے کے لیے گھمسان کی جنگ ہو رہی ہے۔

امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے بھی افغان سیکیورٹی فورسز کے دفاع میں متعدد طالبان اہداف کو فضائی کارروائیوں کا نشانہ بنایا ہے۔ امریکی فوج نے طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے حملے روک دیں۔

کئی دنوں سے لشکرگاہ پر کنٹرول کے لیے جاری اس لڑائی میں دونوں جانب سے درجنوں کی تعداد میں جانی نقصان ہوا ہے اور اس میں عام شہریوں کی ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔

لشکرگاہ کے شہریوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ طالبان نے شہر کے اندر اور گرد و نواح میں علاقوں پر قبضہ کیا ہے۔ اس وقت شہر کے بیشتر حصے پر عسکریت پسندوں کا قبضہ ہے یا وہ اس کے لیے بر سر پیکار ہیں۔

یہ جنگ ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب قطر کے دارالحکومت دوحہ میں افغان حکومت اور طالبان وفود کے درمیان امریکی ثالثی میں امن مذاکرات ہو رہے ہیں جہاں طالبان نے اپنا سیاسی دفتر قائم کیا ہے۔

صوبائی حکومت کے ایک عہدیدار عمر زواک کا کہنا ہے کہ افغان فضائیہ اور کمانڈو فورسز کی جوابی کارروائیوں سے اب طالبان کی پیش قدمی رک گئی ہے اور درجنوں کی تعداد میں باغی جنگجو ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔

تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ قبضہ کیے علاقے وا گزار کرا لئے گئے ہیں یا نہیں۔ عہدیدار نے یہ تصدیق ضرور کی کہ اتوار کی رات لڑائی میں چار افغان فوجی ہلاک ہو گئے۔

طالبان ذرائع کاکہنا ہے کہ حملوں کی وجہ سے سرکاری افواج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ تاہم دونوں جانب سے کیے گئے دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا پیر کی شام کہنا تھا کہ طالبان نے صرف ان علاقوں پر قبضہ کیا ہے جنہیں چند ماہ پہلے افغان فورسز نے باغیوں سے چھڑا لیا تھا۔

صوبہ ہلمند کے محکمہ صحت کے ایک اہلکار نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر وی او اے کو بتایا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران، لشکر گاہ کے ہسپتال میں بہت سے فوجیوں اور عام شہریوں کو زخمی حالت میں لایا گیا ہے۔

شہریوں اور سرکاری اہلکاروں نے بتایا ہے کہ لڑائی کی وجہ سے بہت سے شہری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔ شہر اور گرد و نواح کے علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے۔

افغانستان میں بین الاقوامی فورسز کے کمانڈر امریکی فوج کے جنرل سکاٹ ملرکا کہنا ہے کہ طالبان کو ہلمند صوبے میں اپنی کارروایؤں کو ہر صورت روکنا چاہیے اور ملک بھر میں تشدد کم کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال طالبان کے ساتھ کیے گئے سمجھوتے سے مطابقت نہیں رکھتی اور دوحہ میں جاری امن مذاکرات کے لئے نقصان دہ ہے۔

گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک ٹویٹر پیغام میں کہا تھا کہ افغانستان سے امریکی افواج کرسمس تک واپس آ سکتی ہیں۔

امریکی افواج کے چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف مارک مائیلی نے تشریاتی ادارے این پی آر سے بات کرتے ہوئے افواج میں کمی کے منصوبوں اور اس کے افغانستان کی سیکیورٹی صورتحال پر ممکنہ اثرات یا دوحہ میں جاری امن بات چیت پر قیاس آرائین کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 163 posts and counting.See all posts by voa