رشتوں میں کاروبار کرنے والے، تنہائی کی شکایت کس منہ سے کرتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سرمایہ دارانہ نظام نے انسانوں کی آنکھوں پر یہ پٹی باندھ دی ہے کہ صرف دولت کا حصول ہی کامیابی، خوشی اور عزت کا ضامن ہے۔ ایسے میں ہر انسان دوسرے انسانوں کے ساتھ سنگین مقابلے پر چل نکلا ہے۔ اس مقابلے کے تمام امیدواروں میں دو خصلتیں عام ہیں، لالچ اور دکھاوا۔ لالچ انھیں دوسروں کو سیڑھی کی طرح استعمال کرنے کے گن سے متعارف کراتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے تحفے میں دیے گئے اس مقابلے کی بدولت تمام تعلقات اور رشتوں کی بنیاد لالچ طے پائی اور بڑی خوبصورتی سے لالچ کی عمارت پر استوار تعلقات کو جھوٹے دکھاوے سے فروغ حاصل ہوا۔ یوں انسان کا ہی بنایا ہوا یہ نظام انسان کے ساتھ ہی کچھ اس طرح سے کھیل گیا کہ اس بیچارے کو خبر نہ ہوئی۔

چوں کہ خاندان معاشرے کا بنیادی جزو ہوتا ہے اور خاندان کی تشکیل شادی جیسے سماجی ادارے سے شروع ہوتی ہے۔ اگر اس تعلق کی بنیاد کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو ہمارے سماجی رویوں سے جڑی بہت سی گرہیں کھلنے لگتی ہیں۔ ہمارے یہاں ذات، فرقے اور معاشی پہلوؤں کی سخت حدود کھینچنے کے بعد ’روح کے ساتھی‘ ڈھونڈے جاتے ہیں۔ جہاں ایک لڑکے کے لئے تقریباً یہی تین پیمانے ہوتے ہیں وہیں ایک لڑکی کے لیے کچھ امتحانات اور بھی ہیں جن میں رنگ گورا ہونا، سماج کے بنائے ہوئے حسن کے معیار پر پورا اترنا اور عمر کچی ہونا شامل ہیں۔

اگر ان پیمانوں پر کہیں لڑکی پوری اترنے سے قاصر رہے تو جہیز میں وزن بڑھا کر اس سودے کو ظاہری طور پر کامیاب بنایا جاتا ہے۔ یوں ایک مرد کو بھاری رقم ادا کی جاتی ہے کہ وہ کسی کی بیٹی کو نکاح میں قبول کرتا ہے۔ کتنا خوبصورت کلچر ہے! نکاح نامے کا بغور جائزہ لینا اور اپنی مرضی کے خانوں پر کراس لگا دینا صرف مولوی صاحب کا ہی حق ہے جو دس منٹ کے لئے آتے ہیں اور عربی میں کچھ عرض کرنے کے بعد اردو میں دونوں پارٹیوں کے منہ سے تین تین مرتبہ ’قبول ہے‘ نکلوا کر، اپنا معاوضہ وصول کر کے چلتے بنتے ہیں۔

یوں دو لوگ زندگی بھر کا ایک کنٹریکٹ پڑھے بغیر، اس پر بات کیے اور سمجھے بغیر دستخط کر دیتے ہیں۔ اس زندگی کے کنٹریکٹ سے زیادہ غور سے تو لوگ شادی ہال بک کرانے کا نوٹس پڑھتے ہیں۔ شادی میں دکھاوے کی تیاری چھے ماہ پہلے شروع کر دی جاتی ہے لیکن ’شادی کیا ہے؟‘ اس کو سمجھنے اور سمجھانے پر کچھ وقت صرف کرنا بھی ہم وقت کی بربادی سمجھتے ہیں۔ کچھ شادیوں پر تو بخوبی دونوں پارٹیوں کی طرف سے دیے گئے ساز و سامان کی نمایش بھی کی جاتی ہے۔ اس سارے عمل سے گزرنے کے بعد ہمارے بڑے ایک دوسرے کے گلے ملتے اور ’سودا مبارک‘ کی جگہ ’شادی مبارک‘ کہتے دکھائی دیتے ہیں۔ یوں اس کاروباری ڈیل سے محبت، وفاداری، پاسداری اور خوشحالی جیسی ان امیدوں اور اوصاف کو وابستہ کر لیا جاتا ہے جن کو ڈیل کرنے کے عمل میں بھرپور طریقے سے نظرانداز کیا گیا ہوتا ہے۔

گھریلو ناچاقی اور سیاست ہر دوسرے گھر کی کہانی ہے۔ لوگ آپس میں اچھی سمجھ نہ ہونے جیسی شکایات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ بات میری سمجھ سے بالا اتر ہے کہ جب سمجھ اور ذہنی ہم آہنگی جیسی چیزوں کو تعلق بناتے ہوئے نظر انداز کیا جاتا ہے اور صرف ذات، فرقے یا پیسے کی بنا پر ہی رشتوں کو قائم کیا جاتا ہے تو بعد میں ذہنی ہم آہنگی نہ ہونے کی شکایت کیوں کی جاتی ہے؟ جس کو پہلے کسی نے گھاس ہی نہیں ڈالی تھی۔

یونہی ہمارے باقی تمام سماجی تعلقات بھی دولت، طاقت اور دکھاوے کی بنا پر قائم ہوتے ہیں اور ہم ظاہری طور پر لوگوں کی نظروں میں تو بہت مضبوط دکھ رہے ہوتے ہیں لیکن اندر سے بالکل کھوکھلے اور تنہا ہوتے ہیں۔ یہ تنہائی سرمایہ دارانہ نظام کی شکل دی ہوئی سوچ کا تحفہ ہے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
مقدس مجید کی دیگر تحریریں