ڈاکٹر حنا جمشید کا ناول ”ہری یوپیا“

پچھلا ایک ہفتہ میں صدیوں پرانے ایک شہر ”ہری یوپیا“ میں گھومتی پھرتی رہی۔ میرے آس پاس گانیکا، کومیل، ابھایا اور باسا سمیت بہت سے اور لوگ تھے۔ میں نے ان لوگوں کے رہن سہن، دیویوں اور دیوتاؤں، ہنر اور گھروں اور عمارات کی طرز کے بارے میں بہت کچھ جانا۔ ”ہری یوپیا“ ڈاکٹر حنا جمشید کا ایک خوبصورت ناول ہے جو ہمارے خطے کے ایک قدیم لیکن اس دور کے لحاظ سے ترقی یافتہ شہر ہری یوپیا پر مبنی

Read more

اور پھر سی ایس ایس کا رزلٹ آ گیا!

2023 کے سی ایس ایس کے امتحانات کا فائنل رزلٹ چند دن پہلے آیا اور سوشل میڈیا پر ایلوکیٹ ہونے والی نئی ”سیلبریٹیز“ سامنے آئیں۔ آج ایک فیلو نے بتایا کہ اس کا تیس سالہ کزن جو گزشتہ پانچ سال تیاری کے اس ”سفر“ کو دے چکا تھا جب 2023 میں گیارہ مضامین میں اچھے نمبروں کے باوجود ایک مضمون میں پاس نہ ہو سکا تو نروس بریک ڈاؤن کا شکار ہو گیا اور ہسپتال میں دنوں تک داخل رہا۔

Read more

عاصم جمیل کی موت اور نفسیاتی صحت

مولانا طارق جمیل کے بیٹے کی ڈپریشن کی وجہ سے موت جہاں فضا کو سوگوار کیے ہوئے ہے وہیں کئی ایسے بھی لوگ ہیں جو مولانا صاحب سے نظریاتی یا دیگر اختلافات کا غبار نکالتے ہوئے اس تکلیف دہ مرحلے پر بھی انھیں تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ نظریاتی اختلافات اپنی جگہ لیکن نفسیاتی مسائل کی وجہ سے ایک نوجوان کی خودکشی ایک انتہائی تکلیف دہ بات ہے۔ کسی شخص کو نفسیاتی مسائل سے گزرتا دیکھ اکثر لوگ اس

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل اور گرین زون نفسیات

ہماری زندگی میں کچھ لوگوں کی خاص اہمیت اور ہماری بہتری میں ان کا کردار تو ضرور ہوتا ہے لیکن اکثر ہم دیر کر جاتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ ہم انھیں ان کے کردار کی اہمیت کا احساس دلا سکیں یا تو کہیں ہم باقی نہیں رہتے یا وہ دور ہو جاتے ہیں۔ میں نے اب شعوری طور پر یہ کوشش جاری رکھنے کا سوچا ہے کہ جن لوگوں سے میں نے کچھ اچھا سیکھا اور پایا میں اس

Read more

ہٹلر کی آتما بھٹک رہی ہے

پہلی جنگ عظیم کے بعد معاہدہ ورسیلیز پر اس وقت کی بڑی یورپی طاقتوں نے دستخط کیے جس کے تحت جرمنی کو جنگ کی بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے بھاری جرمانہ کیا گیا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ اس کے کچھ حصوں کو علیحدہ کر دیا گیا، جرمن فوج اور ہتھیاروں میں اضافے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔ اس بھاری جرمانے کی وجہ سے جرمنی پر بہت برا وقت آ گیا۔ نہ صرف یورپ میں جرمنی کے وقار کو

Read more

کیا پاکستان میں انقلاب آنے والا ہے؟

اس طرح عمران خان ”حراست“ میں لیے جانا غیر آئینی تھا۔ بالکل کسی بھی سیاسی لیڈر کے سپورٹرز کا نکلنا بنتا بھی ہے۔ ملک کی 75 سالہ تاریخ میں پہلی بار رسائی سے دور مضبوط اداروں کو یوں ٹارگٹ کیے جانا حیران کن بھی ہے لیکن اس سلسلے کو کسی بڑے مثبت انقلاب سے جوڑ دینا شاید درست نہیں۔ بات یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ بہت سے لوگ اس مزاحمت کو اٹھارہویں صدی میں آنے والی French Revolution سے

Read more

ڈاکٹر سہیل کی کتاب : زندگی کے راز

میں نے 2020 میں ہم سب پر لکھنا شروع کیا تو اس پلیٹ فارم کو استعمال کرنے والے دوسرے لکھاریوں کو بھی پڑھنے لگی۔ ڈاکٹر خالد سہیل کو اپنی تحریروں کے عمدہ معیار، تخلیقی موضوعات و سادہ انداز بیاں کی وجہ سے مقبول ترین لکھاریوں میں پایا۔ انسانی نفسیات کے متعلق میں ہمیشہ سے متجسس تھی۔ ڈاکٹر صاحب کے کالمز میں مریضوں کے نام تبدیل کر کے مریضوں کے اصل زندگی کے واقعات و حالات پر ماہرانہ رائے دی جاتی

Read more

مردوں کے دن پر مردوں کے لیے تحریر

میں ذاتی طور پر مردوں کی ایسی اقلیت سے واقف ہوں جو عورتوں کی بطور انسان عزت کرتے ہیں، بیٹیوں سے پیار اور احترام سے پیش آتے ہیں اور صحت مند جذبات کا بھی اظہار کرتے ہیں۔ ایسی عورتوں کو بھی جانتی ہوں جو اپنے اندر زہر رکھتی ہیں، اپنی بیٹیوں بہوؤں کو بیٹوں کے سامنے حقیر سمجھتی ہیں اور منفی رویوں کا اظہار کرتی ہیں۔ مردوں اور عورتوں کو ولن اور ہیرو کی طرح بلیک اینڈ وائٹ کر دینا

Read more

ابصار فاطمہ کی نئی کتاب: رشتوں اور جذبات کی نفسیات

آغاز ہوتا ہے کتاب کے ابتدائی صفحات پر درج ایک سوال سے کہ ” ہم رشتوں کی اہمیت کا صرف دعویٰ کرتے ہیں یا واقعی ہمیں احساس ہے کہ ہمارے اردگرد رشتے ہماری بقاء کے لیے کتنے ضروری ہیں؟“ ابصار فاطمہ کی کتاب ”رشتوں اور جذبات کی نفسیات“ ایک ماہر نفسیات کا بہترین تحفہ ہے۔ یہ چھوٹی سی کتاب پرسکون زندگی گزارنے کے بڑے بڑے راز سمیٹے ہوئے ہے۔ شہد کی مکھی کی مثال سے ایک چھوٹی سی مخلوق کے

Read more

خدیجہ مستور کا ناول "آنگن”

آنگن کہانی ہے اس وقت کی جب برصغیر پر گورے قابض تھے۔ صدیوں سے خطے کی بدولت بطور قوم رہنے والے اب مذہب مذہب کی سیاست کھیلنے لگے تھے۔ مطالعہ پاکستان جیسی کتابوں نے جہاں چھوٹے چھوٹے ذہنوں کو تاریخ کی جگہ سطحی اور بے مطلب ’فکشن‘ میں الجھا دیا ہے وہیں آنگن جو کہ فکشن کیٹگری سے تعلق رکھنے والی کتاب ہے زبردست انداز میں اس دور میں اٹھتی، بٹی ہوئی آزادی کی تحریکوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ بڑے

Read more

فرمانبرداری یا ذہنی معذوری؟

ثقافتی لحاظ سے اچھے برے لوگوں کی پیمائش کے لیے بنائے گئے پیمانے میں ’فرمانبرداری کا لیول‘ سر فہرست ہے۔ جتنی زیادہ جی حضوری اور اپنی سوچ اور عقل کو ایک طرف رکھ کے ’جیسے آپ کی مرضی‘ کا ورد کرتے رہیں بہترین لوگوں کے اسکیل پر فٹ آتے جائیں گے۔ عموماً والدین اس بچے کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں جو اپنی آنکھیں بند رکھتا ہو اور صرف ماں باپ کی نظر سے ہر پہلو دیکھتا ہو۔ اسی

Read more

Book Review-Sharing the Secret

ہمارے ہاں ایک عام رویہ پایا جاتا ہے کہ ہم سنگین زیادتیوں کے شکار لوگوں کو بھی اپنے بنائے پاکی اور ناپاکی کے ترازو پر تولتے ہیں اور ترازو بھی وہ جس کا توازن ہی درست نہیں۔ یعنی کہ معیاروں کے ساتھ ساتھ تولنے کا انداز دونوں ہی درست نہیں۔ ایسے میں زیادتی کرنے والا نوازا جاتا ہے اور مظلوم اذیت کی دلدل میں مزید دھکیلا جاتا ہے۔ بعض اوقات یہ اذیت ساری زندگی کسی مرض، کسی روگ کی طرح

Read more

ایک باغی بیوہ اور رحیم میں دوستی ہو گئی!

”بڑے عجیب لگتے ہیں لوگ جب ایک ہی وقت میں وہ تمہاری محبت بیان کرنے میں زمین و آسماں کے قلابے ملا دیتے ہیں اور ساتھ ہی تمہارا نقشہ اس طرح کھینچتے ہیں کہ محبت تصور سے ہی نکل جاتی ہے۔ اگر کچھ بچتا ہے تو وہ ہے خوف اور حیرت۔ خوف تمہارے غصے کا اور حیرت اس بات کی کہ شدید محبت اور شدید سختی و غصہ ایک خالق میں کیسے بسا دیتے ہیں لوگ؟ میں کبھی تم سے

Read more

”وعلیکم السلام“ کی ٹھرکی تشریح

میں نے کہیں ایک قول پڑھا تھا اس کا مفہوم ہے کہ یہ معاشرہ صرف طوائف کو ایک خودمختار عورت جانتا ہے سو ہر پر اعتماد اور خودمختار عورت کو طوائف ہی سمجھتا ہے۔ ایک بچی کو، پھر اس لڑکی کو اور بعد میں اس عورت کو یہ سکھایا اور پڑھایا جاتا ہے کہ تمہیں کسی مرد سے کوئی بھی بات نہیں کرنی کیونکہ مرد سے بات کرنا تمہیں ’باکردار‘ عورت ہونے کے دائرے سے خارج کرا دے گا۔ سوال

Read more

کیا کالج اور یونیورسٹی کے طلباء و طالبات بے حیا ہوتے ہیں؟

تعلیمی اداروں کے ساتھ افیئرز اور بے حیائی کو جوڑنا ہمارے ہاں ایک عام مشغلہ ہے۔ خاص طور پر ان اداروں پر بیہودگی کی مہر لگانا جہاں طلباء و طالبات ایک ساتھ پڑھتے ہیں۔ ایک (اپنے آپ کو خود عقل مند سمجھنے والے) شخص نے فرمایا کہ نوجوان نسل بے حیا ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارا ملک پیچھے رہتا جا رہا ہے اور برائیاں اتنی عام ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ میں نوجوان نسل کو بالکل بے

Read more

ملازمت کرنے والی ایک عیاش مڈل کلاس عورت

ایک جاننے والی خاتون کے متعلق سن رکھا تھا کہ بڑی ہی کوئی اپنی مرضی کی مالک خاتون ہیں۔ آنا جانا عین اپنی مرضی سے۔ دیسی کھانے کم پسند کرتی ہیں اور آئے دن آرڈر کرنے بیٹھ جاتی ہیں۔ اکثر تو خاوند بھوکے کو دفتر بھیجتی ہے اور میڈم بن کر اپنے دفتر کو نکل پڑتی ہے۔ کام والی آگے پیچھے دوڑتی رہتی ہے پھر بھی نا شکری عیاش عورت چڑچڑی رہتی ہے! دوسروں کے پاس بیٹھنے کا وقت ہی

Read more

ہاروکی موراکامی کا ناول: Norwegian Wood

جدید فکشن نگاری میں ہاروکی موراکامی ایک بڑا نام ہے۔ وہ جاپانی ادب کے نمایاں لکھاریوں میں سے ہیں۔  ‘نارویجین ووڈ’ ہاروکی موراکامی کا کثیر الاشاعت ناول ہے۔ اس کا پچاس سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے اور اردو میں اس کا ترجمہ ڈاکٹر عبد القیوم نے عمدگی سے کیا ہے۔ اردو ترجمے والی جلد میں نارویجین ووڈ کا ٹائٹل ‘نغمٔہ مرگ’ ہے۔ یہ ناول جنگِ عظیم دوئم میں امریکہ سے جاپان کی شکست کے بعد جاپان میں

Read more

عورت اور پاکستانی میڈیا!

ٹیکنالوجی میں دن بہ دن ترقی سے نہ صرف ہماری فزیکل دنیا میں تبدیلیاں آ رہی ہیں بلکہ رویوں اور سماجی اقدار میں بھی نمایاں تبدیلیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔ خاص طور پر اگر ہم میڈیا کی بات کریں تو ٹیکنالوجی سے ثقافت پر مرتب ہونے والے اثرات کو سمجھنے میں اور بھی آسانی ہوتی ہے۔ آج کسی دور دراز کے علاقے میں بیٹھی کوئی کم پڑھی لکھی خاتون بھی مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی

Read more

”اے عورت، خدا ناراض ہے تم سے“

میشی ایک فرمانبردار اور مشرقی آئیڈیل خاتون کی تعریف میں قدرے فٹ آنے والی عورت زرد چہرہ لیے ایک ’روحانی‘ شخصیت کے قریب بیٹھی تھی۔ سوال سامنے رکھ چکی تھی۔ اس کے کان احساس بھرے الفاظ سننے کو ترس رہے تھے۔ ’روحانی باجی‘ کے جوابی الفاظ جب اس کے ترستے کانوں سے ٹکرائے تو وہ بے یقینی کی کیفیت میں جانے لگی۔ اس کو اپنی اٹھائیس سالہ دوسروں کی خدمت میں گزاری ہوئی زندگی بے سود لگنے لگی۔ اپنے شوہر

Read more

عصمت چغتائی کا افسانہ ”خرید لو“

عصمت چغتائی کا افسانہ ’خرید لو‘ کنزیومر ازم کے گرد گھومتا ہے۔ ساتھ ہی ایک نوجوان لڑکی کی نفسیات کو بھی عمدگی سے سامنے لایا گیا ہے۔ کیتھی جو کہ پندرہ سالہ لڑکی ہے جیسے تیسے کر کے میک اپ پر میک اپ خریدتی رہتی ہے۔ کوالٹی سے کہیں زیادہ کوانٹٹی کو سامنے رکھتی ہے۔ اندر ہی اندر کئی بے چینیوں کی شکار ہے۔

Read more

خط نمبر 13۔ بچہ پیدا کرنا گناہ ہے!

میں نے اپنی زندگی کے ان اکیس سالوں میں ایسے بہت سے نوجوان دیکھے ہیں جو اپنے گھر والوں اور والدین کی وجہ سے دباؤ کے شکار رہتے ہیں۔ ہمارے ہاں فرمانبرداری کو ایک بڑا مقام حاصل ہے اور جو بچہ/شخص اپنے اور دوسروں کی حدود کا تعین کرنے لگے اسے نامناسب سمجھا جاتا ہے۔ ماں باپ کو یہاں سوپر نیچرل کرداروں کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ماں کے قدموں تلے جنت ہے اور باپ جنت کا دروازہ ہے۔ فقط یہ سوچ ماں باپ کے متعلق پائی جاتی ہے۔ ماں باپ کے آگے سے اف بھی کر دو تو اللہ ناراض ہو جاتا ہے۔

Read more

زندگی کا ٹوٹا ہوا پل (خط # 11)

محترم ڈاکٹر خالد سہیل! آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے مغربی خواتین کی معاشی خودمختاری اور لائف اسٹائل کے حوالے سے میری بھرپور رہنمائی فرمائی۔ سوشیالوجی کی اسٹوڈنٹ ہونے کے ناتے میں ’گلاس سیلنگ ”کے کونسپٹ سے واقف ہوں کہ کس طرح بظاہر دکھنے والی مرد و عورت کی مکمل برابری کے اندر بھی بہت سی رکاوٹیں اور استحصال کی چھپی قسمیں حائل ہوتی رہتی ہیں۔ غالباً مغربی خواتین کی ترقی و آزادی کا بھی یہی عالم ہے۔ بظاہر

Read more

شادی اور خواتین کی معاشی خودمختاری (خط # 9)

محترم ڈاکٹر خالد سہیل! میں آپ کی مشکور ہوں کہ آپ نے مجھے کشور ناہید اور فہمیدہ ریاض سے مختلف ملاقاتوں کے تجربات سے آگاہ فرمایا۔ بد قسمتی سے ایسی نایاب عورتوں کا تذکرہ ہمارے ہاں بہت کم ہے۔ میرے سرکل میں ہی بہت سی نوجوان لڑکیاں ان باہمت اور ذہین خواتین کی کوششوں سے واقف نہیں۔ اردو ادب جہاں بھی تعلیمی نصاب کا حصہ بنتا ہے اس میں خواتین کے کردار کو بہت زیادہ نظرانداز کیا جاتا ہے جس

Read more

مشرقی نوجوان اور شادی کا سماجی ادارہ (خط # 7)

محترم ڈاکٹر خالد سہیل! امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے ۔ میں نے آپ کا گزشتہ خط پڑھا جس میں آپ نے نہ صرف مغرب اور مشرق میں خواتین کی پدرسری نظام سے آزادی کی تحریکوں کا حوالہ دیا بلکہ آپ نے اپنی جاری تحقیق سے بھی آگاہ فرمایا۔ میں نے فیمن ازم اور خواتین کی کاوش کے حوالے سے ’ہم سب‘ پر آپ کے نئے مضامین کو کل ہی پڑھا ہے۔ میں آپ کی شکر گزار ہوں کہ

Read more

بری عورت کی کتھا (خط نمبر 5)

محترم ڈاکٹر خالد سہیل! میں آپ کا جواب پڑھ کر بہت متاثر ہوئی ہوں کہ کس طرح چند الفاظ میں آپ نے زندگی اور کامیابی کے تعلق کو نہ صرف بخوبی سمیٹا بلکہ مختلف طرز کے لوگوں میں اس تعلق کی بدلتی صورتوں کی بھی نشاندہی فرمائی۔ سر۔ آپ نے مجھ سے پاکستان میں مقیم خواتین بالخصوص غیر روایتی خواتین کو درپیش آنے والے مسائل کے متعلق دریافت کیا ہے۔ آپ بھی اس بات سے واقف ہوں گے کہ پاکستان

Read more

مذہبی اقلیتیں اور ہمارے رویے

گزشتہ سال میں نے ضلع قصور کے تین پرائمری سکولوں کے بچوں کے انٹرویوز کیے تھے۔ ان میں سے ایک سکول ایسا تھا جہاں مسیحی بچیوں کی بھی نمایاں تعداد موجود تھی۔ باقی پرائمری اسکولوں کی نسبت مجھے اس اسکول میں کچھ منفرد چیزیں دیکھنے کو ملیں۔ یہاں نہ صرف میرا انٹرایکشن مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی بچیوں سے ہوا بلکہ اس سرکاری سکول میں زیادہ تر پڑھنے والی بچیاں غریب یا کم آمدنی والے گھروں سے تعلق رکھتی

Read more

نوجوان دیہی خواتین کے متاثرکن کاروباری اقدامات

زکیہ ایک نوجوان کاروباری خاتون ہیں جن کا تعلق لیہ سے ہے۔ زکیہ نے ایک دیہاتی علاقے میں پرورش پائی جہاں عام طور پر خواتین گھروں یا کھیتوں میں ہی کام کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ زکیہ کے والد ان کے گھر کے واحد کمانے والے تھے۔ والد صاحب کی دو بیویوں کے سبب دو دو گھروں کے اخراجات اٹھانا ان کے بس کی بات نہ تھی۔ کم عمری سے ہی بہت سی ضروریات ادھوری رہیں تو زکیہ کو احساس ہونے

Read more

کیا ہم زومبی ہیں؟ (خط نمبر 3)

محترم ڈاکٹر خالد سہیل! مجھے آپ کا جواب پڑھ کر ایک الگ سی خوشی ہوئی۔ اس خوشی میں الگ بات یہ تھی کہ شاید زندگی میں پہلی مرتبہ مجھے یہ موقع مل رہا ہے کہ میں اپنے اور اپنے ہم عمر لوگوں کے مسائل کی کھل کر ترجمانی کر سکوں۔ ان مسائل کی تہہ پر اپنے نمبر کٹوائے جانے یا گستاخ قرار دے دیے جانے کے خوف کے بغیر سوال کر سکوں۔ میں آپ کی شکر گزار ہوں کہ آپ

Read more

نوجوانوں کے نفسیاتی مسائل خط نمبر 01

میرے ذہن میں فلم کی طرح سے ایک واقعہ چل رہا تھا جب میں نے اپنے ایک استاد سے پوچھا تھا کہ ”اقبال کو کتابوں میں ہمیشہ ہیرو کی طرح پڑھا ہے۔ ایک نئی تحریر میں میں نے یہ پڑھا کہ اقبال نے اپنی شاعری میں مذہبی شدت پسندی کو بھی فروغ دیا ہے۔ اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟“ اس استاد نے مجھ سے مکالمے کی بجائے مجھے آدھے گھنٹے کے لئے پوری کلاس کے سامنے کھڑا کر کے اس طرح سے احساس دلایا کہ میں نے کوئی بہت بڑا گناہ کر دیا ہو اور تو اور میرا کوئز بھی نہیں لیا تھا۔

Read more

موت کے نام ایک خط!

میں نہیں جانتی کہ تمہیں کس طرح مخاطب کروں۔ جہاں زندگی سے عشق ہو وہاں تمہارا خیال بھی دہشت طاری کرتا ہے اور جہاں زندگی گلے کا طوق بن جاتی ہو وہاں میں نے لوگوں کو تمہاری خواہش کرتے بھی دیکھا ہے۔ خواہش جب خودبخود پوری نہ ہو رہی ہو تو خود تمہیں خود پر طاری کرتے دیکھا ہے۔ خود کشی کرتے دیکھا ہے! تم میرے نزدیک ہمیشہ سے ایک سوال رہی ہو۔ پل بھر میں کیسے جیتے جسموں کو

Read more

کوئی سرکس ہے نوجوانوں کی زندگی

اصولاً تو پہلے کسی بھی مسئلے کو بیان کیا جاتا ہے اور پھر وضاحت کے لئے مثالیں دی جاتی ہیں مگر میں اپنا اصل مدعا سامنے رکھنے سے پہلے کچھ مثالیں دینا چاہوں گی۔ یہ کچھ انتہائی عام سے جملے ہیں جو آپ اور میں ہمیشہ سے سنتے آ رہے ہیں کہ ”نوجوان نسل میں بڑوں کے لئے احترام نہیں“ اور ”آج کل کے نوجوان نافرمان ہیں“ یا پھر ”نوجوان بغاوت پسند ہیں“ وغیرہ وغیرہ۔ ماں باپ ہوں یا استاد

Read more

آسکر جیتنے والی ڈاکیومنٹری سیونگ فیس پر مختصر تبصرہ

پاکستان میں تیزاب پھینک کر دوسروں کے چہرے جلا دیے جانے کے واقعات نمایاں تعداد میں رونما ہوتے رہتے ہیں۔ اس شارٹ فلم میں پاکستانی خواتین کی اصل کہانیوں کو دکھایا گیا ہے جو اس ظلم کی شکار ہوئیں۔ ان پر ظلم ڈھانے والے کون لوگ تھے، پس منظر کیا تھا اور کس طرح ان خواتین نے انصاف اور بہتر زندگی کے لئے اپنی لڑائی خود لڑی۔ فلم میں مختلف خواتین اور ان کے ایسے حادثات سے پہلے اور بعد کی تصاویر بھی دکھائی گئیں ہیں جو اس ظلم کی شدت کا بخوبی اندازہ کرا دیتی ہیں۔ فلم میں ویسے تو بہت سی متاثرہ خواتین دیکھی جا سکتی ہیں مگر نمایاں کرداروں میں ذکیہ اور رخسانہ موجود ہیں۔

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب: Creative Minority

کتاب کا نام اس کے مواد و مقاصد کی جھلک دیتا دکھائی دیتا ہے۔ اس کتاب میں تخلیقی صلاحیتوں کے حامل لوگوں، ان کی نفسیاتی و سماجی زندگی اور ان کے زندگی کو دیکھنے اور گزارنے کے غیر معمولی ڈھنگ کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اپنے اس review میں میں کتاب کے خلاصے کے ساتھ ساتھ اس کو اپنے نظریے سے بیان کرنے کی کوشش کروں گی کہ اس کتاب کو پڑھنے کے دوران اور پڑھنے کے بعد مجھے کن

Read more

بہرے، گونگے اور اندھے لوگوں کی کتھا

دیکھیں جناب! یہ کہانی ایک بڑے سے ٹولے کی ہے جس کے لوگ انوکھی بیماری میں مبتلا ہیں۔ جب اسی ٹولے کے ہوش رکھنے والے چند لوگوں میں سے کوئی اٹھ کھڑا ہو اور باقیوں کو بتلائے کہ ہم میں کچھ گڑبڑ ہے تو اس ٹولے کے سب سے زیادہ بیمار لوگ اسے بولنے والے کو غدار ہونے کا سرٹیفیکیٹ دے کر سنگین سزا سنا دیتے ہیں۔

اس سے پہلے کہ میں کہانی کو آگے بڑھاؤں، ڈسکلیمر کے طور پر بتاتی چلتی ہوں کہ کہانی کا کسی موجودہ ملک یا معاشرے سے کوئی تعلق نہیں اور اگر آپ کو اسے پڑھنے کے بعد کوئی تعلق معلوم ہونے لگے تو یہ مماثلت محض اتفاقیہ ہو گی۔

Read more

بہرے، گونگے اور اندھے لوگوں کی کتھا

دیکھیں جناب! یہ کہانی ایک بڑے سے ٹولے کی ہے جس کے لوگ انوکھی بیماری میں مبتلا ہیں۔ جب اسی ٹولے کے ہوش رکھنے والے چند لوگوں میں سے کوئی اٹھ کھڑا ہو اور باقیوں کو بتلائے کہ ہم میں کچھ گڑبڑ ہے تو اس ٹولے کے سب سے زیادہ بیمار لوگ اسے بولنے والے کو غدار ہونے کا سرٹیفیکیٹ دے کر سنگین سزا سنا دیتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ میں کہانی کو آگے بڑھاؤں، disclaimer  کے طور پر

Read more

ہماری خواتین اور ان پر عاشق جن

بچپن سے اس طرح کے جملے تو آپ سب سنتے آ رہے ہوں گے کہ لوگوں سے بالخصوص لڑکیوں سے درخت کے پاس سے مت گزرو، شام میں بال مت کھلے چھوڑو، خوشبو نہیں لگاؤ اور چھت پر نہیں جاؤ ورنہ جن پیچھے پڑ جائیں گے۔ چلیں یہ تو ہو گئے جملے جو میں اور آپ ہمیشہ سے سنتے آرہے ہیں اب ایک قدم آگے بڑھتے ہیں اور ان واقعات کا جائزہ لیتے ہیں جب واقعی جنات پیچھے پڑ چکے

Read more

کوئی اس پر بھی تو بات کرو!

ٹک ٹاک، فیس بک، انسٹا گرام، یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بہت سی انجوائے کیے جانے والی چیزوں میں سے کم عمری کے بچوں کے آپس کے تعلقات بھی ہیں۔ اکثر میمز اور لطیفے ان کی ایک دوسرے سے توقعات پر بنتے ہیں اور مشہور پیجز پر ایسے لطیفوں پر ہزاروں لوگ ہا ہا، ری ایکٹ کرتے ہیں۔ یعنی کہ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں بھی کم عمری میں لوگ ایسی کیفیات میں مبتلا

Read more

تین دن کی ایک زینب

میں ساتویں جماعت میں پڑھتی تھی جب یہ واقعہ میں نے سنا اور آج بہت سے سال گزرنے کے بعد بھی یہ اکثر میرے ذہن کی دیواروں سے ٹکراتا رہتا ہے۔

میں کسی رشتے دار کے انتقال پر اپنی فیملی کے ساتھ ایک گاؤں میں گئی ہوئی تھی۔ ایک طرف خاموشی سے بیٹھی آتے جاتے لوگوں کو سچ مچ روتے اور دکھاوے کی ہوں ہوں کرتے دیکھ رہی تھی۔ تعزیت کے نام پر لوگ مرحوم کے بچوں کا مزید دل دکھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے تھے۔ فوتگی کے گھر میں آتے جاتے لوگ مرحوم کے اقارب کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر حاضری لگوا رہے تھے اور میں اس سارے منظر میں ہی گم تھی کہ دو گاؤں کی خواتین کی گفتگو میرے کانوں میں پڑی۔

Read more

محبت مانگنے والے کشکول تھامے فقیر

جب ہم لفظ ”بھکاری“ سنتے ہیں تو ذہن میں جو تصویر بنتی ہے وہ پھٹے پرانے کپڑے پہنے اور دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہوئے کچھ لوگوں کی ہوتی ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ غریب ہونا فقط اتنے پیسے کی کمی ہے کہ بندہ ڈھنگ کی زندگی گزار سکے۔ ایسی چھت حاصل کر سکے کہ کوئی اسے باہر نہ نکال سکے، ایسی خوراک کھا سکے جو تسلی بخش ہو اور ایسا لباس کہ ناداری کا تأثر نہ دیتا ہو۔ یہ

Read more

انسان کو انسان ہی سمجھیں!

ابھی کل پرسوں ہی کی بات ہے کہ ایک ایسی خبر نظر سے گزری جو اب بہت عام سی ہے مگر جانے کیوں میرا دل ہر ایسی خبر پر تڑپ سا جاتا ہے پھر ماضی کی اس سے ملتی جلتی خبروں کی ہیڈلائنز ذہن میں گردش کرنے لگتی ہیں اور دل میں کئی خیالات جنم لیتے ہیں جن میں سے چند ایک اس تحریر کی نذر کرتی ہوں۔ خبر تھی ایک استاد کی جس نے ایک چھوٹے بچے کو ریپ

Read more

ہمارے ٹی وی ڈرامے اور نوجوان خواتین

سکول کالج جاتی نوجوان لڑکیاں، گھر پر رہنے والی کنواری یا شادی شدہ خواتین خاص طور پر مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین میں ہمارے ٹی وی ڈراموں اور فلموں کا بہت چرچا ہوتا ہے۔ مواد جو ہم تک پہنچایا جا رہا ہوتا ہے اس کا ہماری انفرادی اور سماجی زندگی پر بہت گہرا اثر ہوتا ہے۔ سکول کالج کی بچیاں بطور انٹرٹینمنٹ اس مواد کو دیکھتی ہیں اور ذہن ذرا کچے ہوتے ہیں تو اسی سب کو سچ مان کر اپنی زندگی کی تعریف بنا لیتی ہیں۔

غور کیا جائے تو ہر دوسرے ڈرامے کی کہانی کسی مڈل کلاس لڑکی پر ایک امیر لڑکے کے فدا ہو جانے کے گرد گھومتی ہے۔ امیر اور خوب صورت لڑکا جو اس معمولی لڑکی کی حیاء اور ادب و آداب پر مر مٹتا ہے، اس کے لیے دنیا جہاں سے ٹکر لینے کو تیار ہو جاتا ہے۔ وہیں وہ لڑکی اول تا آخر گوپی بنی رہتی ہے اور اپنی آنکھیں، دماغ، دل اور زبان بند کر کے قسمت کے حوالے سب کچھ کر کے چلتی جاتی ہے۔ جہاں دل بھر آئے کھل کر رو لیتی ہے اور یوں ڈرامے کی ریٹنگ میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے۔

Read more

بیویوں پر لطیفے کیوں گھڑے جاتے ہیں؟

میٹرک میں اردو کی کتاب میں پہلی مرتبہ غزل کو غور سے پڑھنے کی توفیق ہوئی تو اس میں محبوبہ کی حسین بل کھاتی زلفوں، گورے رنگ اور چاند سے چہرے جیسی تعریفیں دیکھیں جو کہ صرف اور صرف محبوبہ کے لئے ہیں کیونکہ محبوبہ کے کیس میں پا لینے کے جہاں تک چانسز ہوتے ہیں، وہیں ہمیشہ کے لئے دوری کے بھی امکانات ہوتے ہیں، سو محبوبہ قیمتی لگتی ہے اور اس کو دیکھنے کی نگاہ بھی ایسی ہی ہوتی ہے کہ حسین زلفیں بل کھا رہی ہوں اور چہرہ چاند سا روشن ہو۔

Read more

آپ کی عینک گندی ہے

بنیادی طور پر فیمنزم ایک نظریہ ہے جو برابری کے مطالبے پر مبنی ہے تاکہ معاشرے کا ہر فرد بغیر کسی صنفی تفریق کے ایک شہری ہونے کے ناتے اپنے تمام حقوق سے مستفید ہو سکے اور  جنس کی بناء پر تشدد کا شکار نہ ہو۔ بعض لوگ فیمنزم کو عورت کے راج میں مرد کو غلام بنا دینے سے جوڑ دیتے ہیں۔ ایسے لوگ اس نظریے کی سمجھ بوجھ نہیں رکھتے،  تبھی ایسے تصورات قائم کر لیتے ہیں۔ آپ

Read more

ہم سے مایوس ”عزت“ کا ہمارے نام ایک خط

”آخر۔ مجھ عزت کی بھی تو کوئی عزت ہے“ یہ جو لوگوں کا گروہ کرہ ارضی کو آباد کیے ہوئے ہے، اسی گروہ کے لوگوں نے ساتھ رہتے رہتے اپنے کچھ تصورات کو abstract اصولوں کی شکل دی۔ میں بھی انھی تصورات میں سے ایک تصور ہوں۔ میں ”عزت“ ہوں۔ جس طرح کسی گھرانے میں ایک بچہ پیدا ہوتا ہے اسی طرح سے ان لوگوں کے ذہنوں کے آنگن میں میں نے جنم لیا ہے۔ مجھے نام عزت عطا کرنے

Read more

رشتوں میں کاروبار کرنے والے، تنہائی کی شکایت کس منہ سے کرتے ہیں

سرمایہ دارانہ نظام نے انسانوں کی آنکھوں پر یہ پٹی باندھ دی ہے کہ صرف دولت کا حصول ہی کامیابی، خوشی اور عزت کا ضامن ہے۔ ایسے میں ہر انسان دوسرے انسانوں کے ساتھ سنگین مقابلے پر چل نکلا ہے۔ اس مقابلے کے تمام امیدواروں میں دو خصلتیں عام ہیں، لالچ اور دکھاوا۔ لالچ انھیں دوسروں کو سیڑھی کی طرح استعمال کرنے کے گن سے متعارف کراتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے تحفے میں دیے گئے اس مقابلے کی بدولت تمام تعلقات اور رشتوں کی بنیاد لالچ طے پائی اور بڑی خوبصورتی سے لالچ کی عمارت پر استوار تعلقات کو جھوٹے دکھاوے سے فروغ حاصل ہوا۔ یوں انسان کا ہی بنایا ہوا یہ نظام انسان کے ساتھ ہی کچھ اس طرح سے کھیل گیا کہ اس بیچارے کو خبر نہ ہوئی۔

چوں کہ خاندان معاشرے کا بنیادی جزو ہوتا ہے اور خاندان کی تشکیل شادی جیسے سماجی ادارے سے شروع ہوتی ہے۔ اگر اس تعلق کی بنیاد کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو ہمارے سماجی رویوں سے جڑی بہت سی گرہیں کھلنے لگتی ہیں۔ ہمارے یہاں ذات، فرقے اور معاشی پہلوؤں کی سخت حدود کھینچنے کے بعد ’روح کے ساتھی‘ ڈھونڈے جاتے ہیں۔ جہاں ایک لڑکے کے لئے تقریباً یہی تین پیمانے ہوتے ہیں وہیں ایک لڑکی کے لیے کچھ امتحانات اور بھی ہیں جن میں رنگ گورا ہونا، سماج کے بنائے ہوئے حسن کے معیار پر پورا اترنا اور عمر کچی ہونا شامل ہیں۔

Read more

محترم اساتذہ، ایک نظر ادھر بھی

اساتذہ کے عالمی دن پر جہاں میں اپنے ان اساتذہ کی احسان مند ہوں جنہوں نے مجھے انسانی سوچ کی وسعت کا احساس دلاتے ہوئے سوال کرنا سکھایا وہیں مجھے کچھ اساتذہ سے گلے بھی ہیں۔ آج ہر استاد کو اس دن پر اپنے موجودہ مقام پر فخر کرتے دیکھ رہی ہوں تو دل میں یہ خیال جنم لے رہا ہے کہ ہر استاد اس عالمی دن کو فخر اور مسرت کے ساتھ کیسے منا سکتا ہے؟ ہمارے معاشرے میں استاد کو جو مقام حاصل ہے اس کو جانتے ہوئے میں یہ کہنے کی جسارت کرنا چاہوں گی کہ بدقسمتی سے بہت سے استاد اس مقام کے اہل نہیں۔

Read more