سرمایہ دارانہ نظام نے انسانوں کی آنکھوں پر یہ پٹی باندھ دی ہے کہ صرف دولت کا حصول ہی کامیابی، خوشی اور عزت کا ضامن ہے۔ ایسے میں ہر انسان دوسرے انسانوں کے ساتھ سنگین مقابلے پر چل نکلا ہے۔ اس مقابلے کے تمام امیدواروں میں دو خصلتیں عام ہیں، لالچ اور دکھاوا۔ لالچ انھیں دوسروں کو سیڑھی کی طرح استعمال کرنے کے گن سے متعارف کراتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے تحفے میں دیے گئے اس مقابلے کی بدولت تمام تعلقات اور رشتوں کی بنیاد لالچ طے پائی اور بڑی خوبصورتی سے لالچ کی عمارت پر استوار تعلقات کو جھوٹے دکھاوے سے فروغ حاصل ہوا۔ یوں انسان کا ہی بنایا ہوا یہ نظام انسان کے ساتھ ہی کچھ اس طرح سے کھیل گیا کہ اس بیچارے کو خبر نہ ہوئی۔
چوں کہ خاندان معاشرے کا بنیادی جزو ہوتا ہے اور خاندان کی تشکیل شادی جیسے سماجی ادارے سے شروع ہوتی ہے۔ اگر اس تعلق کی بنیاد کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو ہمارے سماجی رویوں سے جڑی بہت سی گرہیں کھلنے لگتی ہیں۔ ہمارے یہاں ذات، فرقے اور معاشی پہلوؤں کی سخت حدود کھینچنے کے بعد ’روح کے ساتھی‘ ڈھونڈے جاتے ہیں۔ جہاں ایک لڑکے کے لئے تقریباً یہی تین پیمانے ہوتے ہیں وہیں ایک لڑکی کے لیے کچھ امتحانات اور بھی ہیں جن میں رنگ گورا ہونا، سماج کے بنائے ہوئے حسن کے معیار پر پورا اترنا اور عمر کچی ہونا شامل ہیں۔
Read more