اپوزیشن کی تحریک کے پیش منظر میں چند سوالات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حکومت کے خلاف اپوزیشن کی مجوزہ احتجاجی تحریک کیا صورت اختیار کرے گی؟ کیا یہ اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب ہو جائے گی یا کسی مرحلے پر کسی وجہ سے کمزور یا منتشر ہو کر فلاپ ہو جائے گی؟ اس کے بارے میں فی الحال یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

اگر چہ نا کامی کی صورت میں اس کا فائدہ پی ٹی آئی کو ملنے کا امکان زیادہ ہے۔ اسمبلیاں قائم رہیں تو آئندہ سال مارچ میں ہونے والے سینیٹ کے انتحابات میں پی ٹی آئی کو ایوان بالا میں اکثریت حاصل ہو جائے گی، جو اس کے لیے اعتماد اور مضبوطی کا باعث ہو گا۔

تاہم بالفرض اگر اپوزیشن تحریک کا دباو واقعی اس سطح تک پہنچ جاتا ہے کہ حکومت کے پاس اسمبلیاں توڑنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہو۔ تو اس کے بعد نارمل حالات میں الیکشن کمیشن آئین میں طے کردہ مقررہ مدت کے اندر فوری نئے انتحابات کرانے کا اہتمام کرے گا۔ (جو اپوزیشن جماعتوں کا بنیادی مطالبہ بھی ہے)۔ نئے انتحابات کے نتیجے میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت، اگلی حکومت تشکیل دے گی۔

اس پیش منظر میں چند سوالات، ماہرین سیاست اور اہل دانش کے غور و فکر اور رائے کے لیے کچھ یوں بن سکتے ہیں :

1۔ کیا موجودہ انتخابی نظام میں موثر اصلاحات کیے بغیر انتحابات کے نتائج تمام جماعتوں کے لیے اطمینان بخش بنائے جا سکتے ہیں، تا کہ ان کو دھاندلی زدہ قرار دینے کا جواز یا اعتراض کی گنجائش نہ رہے؟

2۔ اگر انتحابات سے قبل انتخابی اصلاحات کرنا طے کرنے پڑیں، تو یہ کون سا ادارہ اور کیسے کرے گا اور ان کے لیے کتنی مدت درکار ہو گی؟

3۔ 3۔ کیا فوری نئے انتحابات کے نتیجے میں کوئی ایک جماعت اتنی اکثریت حاصل کر سکے گی کہ مستحکم حکومت بنا سکے اور سیاسی عدم استحکام کا خدشہ نہ ہو؟

4۔ کیا اپوزیشن کی کسی جماعت کے پاس ایسا ٹھوس اور قابل عمل پروگرام دستیاب ہو گا۔ کہ فوری انتخابات کے بعد حکومت میں آ کر موجودہ مہنگائی اور بے روزگاری کے جلد خاتمے اور ملک کے معاشی ترقی کے لیے نتیجہ خیز اور اطمینان بخش اقدامات کر سکے؟

5۔ اگر انتحابات میں مسلم لیگ نون کو اکثریت حاصل ہو گئی تو کیا سول بالا دستی کے بیانیہ والی مسلم لیگ نون کی حکومت، مقتدر حلقوں کے ساتھ پائیداری کے ساتھ چل سکے گی؟

6 ایسے حالات میں، کیا ایسی صورت احوال پیدا ہونے یا کرانے کا امکان ہو سکتا ہے، جس میں انتحابات کو ملتوی کر کے، مخصوص مدت کے لیے ایسے آئینی انتظام حکومت کی راہ نکالی جائے۔ جس کی بنیادی ذمہ داری ملک کے مالی حالات کو استحکام دینا ٹھہرایا جائے؟

7۔ کیا ایسے انتظام کے لیے اہم سیاسی جماعتوں کی رضا مندی اور تعاون حاصل کرنا ممکن ہو گا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •