سیاست کی دنیا میں اضطراب!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس وقت سیاسی منظر نامہ خاصا مضطرب نظر آتا ہے۔ حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں، موجودہ حکومت کی کارکردگی اور طرز عمل سے سخت نالاں ہیں۔ ان کا کہنا ہے ہے کہ اگر یہ حکومت مزید اقتدار میں رہتی ہے، تو ملک میں ایک بڑا سیاسی و معاشی بحران جنم لے سکتا ہے۔ لہذا اسے چلتا کیا جانا بہت ضروری ہے۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے جلسے جلوسوں اور مظاہروں کا پروگرام ترتیب دیا ہے۔

ہم نے اپنے ایک گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ عوام حکومت سے مطمئن نہیں، کیوں کہ وہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے سے بہت پریشان ہیں۔ دوسری طرف روزگار کے ذرائع محدود ہو چکے ہیں۔ اگر چہ حکومت نوجوانوں کے لئے چھوٹے بڑے کاروبار کے لئے کچھ سکیمیں بنا رہی ہے، مگر یہ بے روز گاری کے تناسب سے آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ معاشرے میں بے چینی پائی جاتی ہے اور اس میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

یہاں ہم یہ بھی بتاتے چلیں کہ حزب اختلاف کو عوام سے جتنی ہم دردی ہے، وہ سبھی جانتے ہیں۔ جب اس میں شامل دو بڑی جماعتوں کی حکومتیں تھیں، تو بھی مہنگائی کا رونا رویا جاتا تھا۔ اس پر قابو پانا ان کے لئے مشکل، بلکہ نا ممکن تھا۔ ان کے دور میں شائع ہونے والے اخبارات کے اداریے، مضامین، خبریں اور الیکٹرانک میڈیا کی رپورٹس پیش کی جا سکتی ہیں، مگر اس میں حکومتوں کا زیادہ قصور نہیں تھا، مافیا ذمہ دار تھے۔ ان پر جب ہاتھ ڈالا جاتا تو وہ ہڑتالوں اور مظاہروں پر اتر آتے۔ اب بھی ایسا ہی ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں کھلا چھوڑ دیا جائے۔ ان کا سد باب کرنا ہو گا۔ اگر پی ٹی آئی کی حکومت اس کے لئے میدان میں اتی ہے، تو یقیناً یہ مافیا اپنی طاقت ضرور دکھائیں گے۔ دکھا رہے ہیں۔ لہذا وہ اشیائے ضروریہ کی خرید و فروخت کے لئے خود آگے آئے۔ یوٹیلٹی سٹوروں پر اکتفا نہیں کیا جا نا چاہیے اور بڑے سٹور بھی کھول دیے جائیں۔

اس طرح وہ دوسرے مسائل کے حل کے لئے بھی خود انتظام و انصرام کرے۔ وگرنہ اسے زچ کرنے کے لئے حزب اختلاف سڑکوں پر آ چکی ہے۔ مگر وہ سوچے کہ کل بھی صورت احوال ایسی ہی تھی۔ تھانا اور پٹوار کلچر بھی آج ہی کی طرح تھا۔ غربت بے روزگاری رشوت سفارش اور کمیشن خوری انتہا کو پہنچی ہوئی تھی۔ اب اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آ جاتے ہیں، تو کیا اس امر کی یقین دہانی کرائی جا سکتی ہے کہ وہ پی ٹی آئی کی حکومت سے کہیں بہتر طور سے کارکردگی دکھائے گی؟ پھر کیا پی پی پی سے کوئی بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے؟ یعنی کیا بلاول بھٹو لوگوں کو سہولتیں دینے میں با اختیار ہوں گے؟ لگتا نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو سندھ کے حالات مختلف ہوتے۔ اسپتالوں اور سکولوں کی حالت بھی خراب نہ ہوتی۔ بنیادی حقوق جس کی پی پی پی پی علم بردار ہے، وہاں کے عوام کو مل گئے ہوتے۔

شنید ہے کہ محترمہ فاطمہ بھٹو سیاست کے میدان میں اترنے والی ہیں، تا کہ بھٹوز کی پی پی پی پی سامنے آ سکے۔ بہرحال حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اب وہ مہنگائی کرنے والوں کو ڈھیل نہیں دے گی۔ عوام کی حالت بد سے بد تر ہوتی جا رہی ہے۔ انہیں اس کی پالیسیوں سے کوئی غرض نہیں کہ وہ مستقبل میں کس قدر ثمر آور ہوں گی۔ انہیں موجودہ حالات کو دیکھنا ہے کہ وہ ان میں کیسے زندگی بسر کریں گے۔ حکومت نے باضابطہ طور سے ذخیرہ اندوزوں اور مصنوعی مہنگائی کرنے والوں کے خلاف ایکشن کا فیصلہ کر لیا ہے۔ عمران خان کہتے ہیں کہ اب بہت ہو گئی، ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے۔ ہونا بھی چاہیے۔ کیوں کہ حزب اختلاف نے حکومت کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہے۔ ہمیں نہیں لگتا کہ عوام اس کے ساتھ نہ چلیں، مگر ہم اپنا سوال دہراتے ہیں کہ دونوں بڑی جماعتیں اقتدار میں آجاتی ہیں تو کیا وہ درپیش مسائل کو ختم کر سکیں گی؟ آئندہ وہ نظام کو بدلنے کا کوئی منشور عوام کے سامنے رکھ رہی ہیں؟ یا پھر رولا ڈال کر موجودہ حکومت سے نجات حاصل کرنا مقصود ہے اور پھر نئے سرے سے اپنی من مانیاں کرنا ہے؟

خیر عمران خان کے لئے وقت زیادہ نہیں بچا۔ انہیں چاہیے کہ وہ عوام کے حق میں سخت سے سخت فیصلے کریں تا کہ وہ اطمینان کا سانس لیں کہ وزیر اعظم ان کے لئے سنجیدہ ہیں۔ انہیں ان کی پریشانیوں کا ادراک ہے اور اگر وہ جو غیر عوامی فیصلے کر چکے ہیں، واپس لے لیتے ہیں تو حزب اختلاف اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکے گی۔ وزیر اعظم کو ایک پل بھی ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ وہ ایک بند گلی میں آ چکے ہیں۔ عالمی مالیاتی اداروں نے ٹیکس پے ٹیکس لگوا کر انہیں عوام سے دور کر دیا ہے۔ اب اگر وہ انہیں اپنے پہلو میں بٹھانا چاہتے ہیں، تو جنگی بنیادوں پر اقدامات کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •