ڈاکٹر معید یوسف کا انٹرویو: پاکستانی پوزیشن کمزور ہوئی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے بھارتی صحافی کرن تھاپر کو انٹرویو دیتے ہوئے پاک بھارت تعلقات ، کشمیر اور دہشت گردی کے حوالے سے بعض چونکا دینے والی باتیں کی ہیں۔ ان کا یہ دعویٰ حیران کن ہے کہ بھارت نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی خواہش کا اظہار کیا ہے لیکن پاکستان کشمیریوں کو اس بات چیت میں شامل کرنے کے علاوہ متعدد دوسری شرائط منوا کر ہی بھارت کے ساتھ کسی مذاکرات میں شامل ہوگا۔ اس سے پہلے اسلام آباد کا سرکاری مؤقف رہا ہے کہ پاکستان تو ہر صورت مذاکرات کے لئے تیار ہے لیکن بھارت میں نریندر مودی کی حکومت مفاہمت کی طرف قدم نہیں بڑھاتی۔

بھارتی یو ٹیوب چینل ’دی وائیر‘ کو دیا گیا یہ انٹرویو چند روز بعد گوجرانولہ میں اپوزیشن کی ’پاکستان جمہوری تحریک‘ کے پلیٹ فارم سے ہونے والے پہلے احتجاجی جلسہ کے موقع پر دیا گیا ہے۔ اس لئے اس انٹرویو میں کی گئی باتوں کو ملک کی داخلی سیاسی صورت حال اور اپوزیشن کے احتجاج پر حکومت کی پریشانی کے تناظر میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ اس وقت حکومت نہ صرف انتظامی طور سے اپوزیشن کے احتجاج کو دبانے کی خواہش کا اظہار کرچکی ہے بلکہ وہ بدستور ایسے کسی بھی موقع کی تلاش میں ہے جسے استعمال کرتے ہوئے حکومت کی ناقص کارکردگی، مہنگائی، بیروزگاری اور عوامی مشکلات کو سر فہرست مباحث سے پیچھے دھکیلا جاسکے۔ بھارت کے ساتھ تصادم و دشمنی کی صورت حال اور کشمیری عوام کے ساتھ اہل پاکستان کی جذباتی وابستگی کی روشنی میں اگر حکومت کا کوئی اہم نمائندہ کشمیر کے علاوہ پاکستان کے خلاف بھارتی دہشت گردی پر کسی انڈین چینل سے بات کرتے ہوئے اظہار خیال کرتا ہے تو خبروں اور مباحث میں اسے ضرور اہمیت حاصل ہوگی۔

حالات سے فرار کی ایسی ہی ایک کوشش اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے نواز شریف کو مفرور قرار دیے جانے اور عدالت میں حاضری کے لئے ان کے نام اخباری اشتہار جاری کرنے کے معاملہ کو نمایاں طور سے پیش کرنے اور اسے خبروں میں سامنے لانے کی صورت میں بھی کی گئی ہے۔ وزیر اعظم نے ایک بار پھر ’چور اچکوں ‘ کوبے نقط سنا کر سیاسی ماحول اپنے لئے سازگار بنانے کی کوشش کی ہے لیکن اب یہ نعرہ عوامی مسائل اور مشکلات کے سامنے دم توڑ چکا ہے۔ حکومتی نمائندوں کو کسی بھی طرح کسی ایسے موضوع کی ضرورت ہے جو عوام کی توجہ حاصل کرسکے اور وقتی طور پر ہی سہی ، وہ اپنے مسائل و مشکلات بھلا کر سرکاری نمائندوں کی باتوں پر سر دھننے اور ان پر غور کرنے پر مجبور ہوجائیں۔ اس لحاظ سے ڈاکٹر معید یوسف نے کرن تھاپر کو انٹرویو دے کر حکومت میں شامل اپنے ان ساتھیوں کے مقابلے میں بہتر ’خدمت‘ سرانجام دی ہے جو اپوزیشن لیڈروں پر کرپشن اور غداری کے الزامات سے آگے نہیں بڑھ سکے۔ اس کے باوجود یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ انٹرویو اور بظاہر بھارت کے بارے میں سخت مؤقف، کس حد تک اور کب تک عمران خان کی داخلی سیاسی مشکلات کم کر سکے گا۔

کرن تھاپر کو دیے گئے اس انٹرویو کے داخلی سیاسی پہلو کے علاوہ ڈاکٹر معید یوسف کی باتیں اپنے موضوع اور مواد کے حوالے سے بھی اہمیت رکھتی ہیں۔ اس سے بھارت کے ساتھ تعلقات کے بارے میں حکومتی حکمت عملی کا اندازہ بھی کیا جاسکتا ہے اور درپردہ اس خواہش کا اظہار بھی ہؤا ہے کہ پاکستان اور بھارت کو ’ بالغ لوگوں‘ کی طرح مذاکرات کی میز پر بیٹھنا چاہئے اور دو اہم ترین مسائل پر دو بدو بات کرنی چاہئے۔ ان دو موضوعات کو ڈاکٹر معید یوسف نے ’کشمیر اور دہشت گردی‘ کے معاملات قرار دیا ہے۔ سفارتی نقطہ نظر سے غور کیا جائے تو وزیر اعظم کے معاون خصوصی یہ بات کرتے ہوئے لڑکھڑا گئے ہیں۔ کشمیر یقیناً دونوں ملکوں کے درمیان تصفیہ طلب معاملہ ہے۔ پاکستان اسے ہمیشہ بھارت کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت کے ایجنڈے پر سر فہرست رکھنا چاہتا ہے۔ تاہم دہشت گردی کبھی بھی پاکستان کا ’پسندیدہ‘ موضوع نہیں رہا بلکہ وہ اسے صرف بھارت کی حجت پوری کرنے کے لئے ذیلی موضوع کے طور پر ایجنڈے میں شامل کرنے کی بات کرتا رہا ہے۔

اب پاکستانی حکومت کے نمائندے نے دونوں ملکوں کے درمیان کشمیر کے علاوہ دہشت گردی کو اہم ترین تصفیہ طلب امور میں شامل کیا ہے جس پر دونوں ملکوں کو ’بالغ لوگوں‘ کی طرح بات کرنی چاہئے۔ اس بیان کا واضح مقصد یہ لیا جاسکتا ہے کہ پاکستان علاقے میں دہشت گردی کے حوالے سے بھارتی مؤقف پر سفارتی پسپائی اختیار کرتے ہوئے اس بارے میں اس کی شکایات سننے اور ان کا حل تلاش کرنے پر راضی ہے۔ حالانکہ اس کے برعکس اب تک پاکستان کا سرکاری مؤقف یہ رہا ہے کہ بھارت دہشت گردی کو کشمیر کے اصل موضوع سے درگزر کے لئے استعمال کرتا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان یہ کوئی اہم مسئلہ نہیں ہے۔ پاکستان نے دہشت گرد گروہوں کے خلاف کامیاب کارروائی کرکے نہ صرف پاکستان، پورے خطے بلکہ دنیا کو اس خطرے سے نجات دلائی ہے۔ بھارت کو پاکستان پر الزام تراشی کی بجائے اس کا شکر گزار ہونا چاہئے۔ اس کے برعکس بھارت میں نریندر مودی کی حکومت  دہشت گردی کو بنیاد بنا کر پاکستان سے ہمہ قسم مواصلت محدود کرنے اور کسی بھی سطح پر بات چیت کرنے سے انکار کرتی رہی ہے۔ بھارتی لیڈروں کا مؤقف رہا ہے کہ پاکستان اگر واقعی بھارت کے ساتھ امن قائم کرنا چاہتا ہے اور مذاکرات پر یقین رکھتا ہے تو باہمی بات چیت دہشت گردی کے ایک نکاتی ایجنڈے پر مرکوز رہے گی۔ بھارت کا مؤقف ہے کہ دیگر امور پر اسی وقت بات ہوسکتی ہے جب پاکستان اس کے بقول دہشت گردوں کی ’سرپرستی‘ بند کردے گا۔

اب پاکستان کی طرف سے مذاکرات کے لئے کشمیر کے ساتھ دہشت گردی کو تصفیہ طلب اہم ترین معاملات میں شامل کرکے سفارتی زبان میں دراصل بھارتی مؤقف کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔ جبکہ بھارت کسی بھی سطح پر اور کسی بھی فورم پر کشمیر کو تصفیہ طلب معاملہ تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے۔ یہ تو سمجھا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹر معید یوسف سفارت کار کی بجائے محقق اور تجزیہ نگار رہے ہیں، اس لئے سفارتی نزاکتوں اور پیچیدگیوں سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت سے بہرہ ور نہیں ہیں۔ لیکن ان کے اس بیان سے پہنچنے والے نقصان کا ازالہ تو پاکستان کو ہی کرنا پڑے گا اور اس غلطی کا سفارتی بوجھ بھی پاکستان پر پڑے گا۔ کیا وجہ ہے کہ ایک ناتجربہ کار اور نوآموز معاون خصوصی کو بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بات چیت کی اجازت دی گئی۔ حکومت نے اگر بھارت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے حکمت عملی تبدیل کی بھی ہے تو وزیر خارجہ یا کسی دوسرے تجربہ کار سفارت کار نے اس موضوع پر بات کرنا کیوں مناسب نہیں سمجھا۔

پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی بھارتی ’خواہش‘ کی بات بھی غیر واضح انداز میں کی گئی ہے۔ ڈاکٹر معید یوسف نے اس معاملہ پر یہ تفصیل بتانے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ یہ پیش کش کب اور کن ذرائع سے اسلام آباد کو موصول ہوئی ہے اور اس کے لئے کیا شرائط عائد کی گئی ہیں۔ لیکن ڈاکٹر معید یوسف نے بھارت کے ساتھ مذاکرات کے لئے جو ’شرائط‘ پیش کی ہیں، انہیں پڑھ کر اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اسلام آباد کو نئی دہلی کے ساتھ فوری طور سے بات چیت شروع ہونے کی کوئی امید نہیں ۔ اسی لئے پبلک گیلری میں بیٹھی جنٹری کی تشفی کے لئے ایسے سنگین پہلوؤں کو شرائط کے طور پر پیش کیا گیا ہے جنہیں درحقیقت مذاکرات کی میز پرہی حل کیا جاسکتا ہے۔ بھارت سے مقبوضہ کشمیر سے فوج واپس بلانے، اس کی آئینی حیثیت بحال کرنے، تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے اور ڈومیسائل قانون واپس لینے کے علاوہ کشمیریوں کو فریق کے طور پر مذاکرات میں شامل کرنے کی بات کہنا دراصل اس حقیقت کا اظہار ہے کہ دونوں ملک ابھی بات چیت سے کوسوں دور ہیں۔ یہ خبر دونوں ملکوں کے عوام کے لئے خوش آئند نہیں ہے۔

اس انٹرویو میں دیگر باتوں کے علاوہ گلگت بلتستان کے سوال پر بھی ڈاکٹر معید یوسف نے خلاف واقعہ مؤقف اختیار کیا ہے۔ کرن تھاپر نے ان سے یہ پوچھا تھا کہ ’اگر پاکستان گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ دے دیتا ہے تو کیا یہ اقدام کشمیر میں بھارتی اقدامات پر پاکستانی مؤقف سے متضاد نہیں ہو گا۔ کیوں کہ پاکستان نئی دہلی کی طرف سے آئین کی شق 370 ختم کرنے کی مخالفت کرتا ہے‘؟ اس کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر معید یوسف کا کہنا تھا کہ ’اول تو کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ دوئم اس معاملہ پر عوامی بحث ہو رہی ہے۔ یہ بحث گلگت بلتستان کے عوام کر رہے ہیں جو پاکستان کے ساتھ ضم ہونے کی خواہش کا اظہار کررہے ہیں‘۔ خوابوں کی دنیا میں رہنے والے مٹھی بھر سرکاری اہلکاروں کے علاوہ کون گلگت بلتستان کے عوام کی ایسی کسی خواہش کی تصدیق کرسکتا ہے۔

معید یوسف نے اس موضوع پر مزید گفتگو کرتے ہوئے بالواسطہ طور سے یہ تصدیق کی کہ پاکستان گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت تبدیل کرسکتا ہے تاہم ’اگر اقوام متحدہ کی قراردادوں میں مستقل بنیاد پر ایسا اقدام کرنے کی اجازت نہ ہوئی تو ایسا نہیں کیا جائے گا‘۔ اس گفتگو کے بعد یہ سوال جواب طلب ہی رہے گا کہ اگر اقوام متحدہ کی قراردادوں میں کسی متنازع علاقہ کی عارضی حیثیت تبدیل کرنے کی اجازت بھی نہ ہوئی تو پاکستان کیا کرے گا۔

پاکستانی حکومت کے اہم نمائندے کا یہ بیان کشمیر کی متنازع حیثیت کے بارے میں پاکستان کے دیرینہ مؤقف کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اسے بالواسطہ طور سے نئی دہلی کے 5 اگست 2019 کے اقدامات کی توثیق بھی کہا جاسکتا ہے۔ اسی طرح چین میں ایغور مسلمانوں کے بارے میں ڈاکٹر معید نے کمزور مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ تو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ پاکستان کے وفد نے خود حالات کا جائزہ لے کر طے کیا ہے کہ ایغور کوئی مسئلہ نہیں‘۔ یہ بیان سنکیانگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں متعدد عالمی اداروں کی دستاویزی شہادتوں کے برعکس ہے۔ غلط بنیاد پر ایسا دو ٹوک مؤقف اختیار کرکے وزیر اعظم کے معاون خصوصی نے اپنی ساری گفتگو کے بارے میں شدید شبہات پیدا کئے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1649 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali