حقیقت وہ نہیں جو نظر آتی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ریاضی اور طبیعات میں ایک تصور ہے جسے ہم انفینٹی یعنی لا محدودیت کہتے ہیں، یہ ایک پیچیدہ تصور ہے، اسکول کے زمانے میں ہمیں صرف یہ بتایا گیا تھا کہ اگر کسی بھی ہندسے کو صفر سے تقسیم کر دیا جائے تو جواب لا محدود آتا ہے۔ یہ لا محدود کیا ہے؟ کیا کوئی بھی شے لا محدود ہو سکتی ہے؟ کیا یہ کائنات لا محدود ہے اور اس کی کوئی حد نہیں؟ اگر اس کی کوئی حد نہیں تو پھر یقیناً ہم جیسی اور بھی دنیائیں ہوں گی، وہ کہاں ہیں؟

کیا ایٹم کولا محدود مرتبہ مزید چھوٹے ذرات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے؟ اگر نہیں تو کیا اس کی کوئی حد ہے اور وہ حد کیا ہے؟ یہ وہ سوالات تھے جو ذہن میں تو کلبلاتے تھے مگر ان کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا یا یوں کہیے کہ کم از کم ہمیں کوئی ایسا بندہ نہیں ملا جو ان سوالات کے تسلی بخش جواب دے کر مطمئن کر دیتا۔ جستجو ہو تو خدا بھی مدد کرتا ہے، پچھلے دنوں ایک ایسی کتاب پڑھنے کا موقع ملا جس میں لکھاری نے نہ صرف ان گتھیوں کو سلجھا دیا ہے بلکہ کائنات سے متعلق سر بستہ رازوں کو یوں بیان کیا ہے جیسے کوئی ولی جذب و مستی کے عالم میں اپنے مرید کو دوسری دنیاؤں کی جھلک دکھا دے۔ تین ہفتے پہلے فدوی اس کتاب پر ایک کالم لکھ چکا ہے جس میں وعدہ کیا تھا کہ کتاب کا نام بعد میں بتاؤں گا، وعدے پر قائم ہوں، مگر پہلے کتاب کے کچھ حصے ’چکھ‘ لیں!

کائنات کی لا محدودیت کا سوال نیا نہیں ہے، چھٹی صدی عیسوی کے ایک فلسفی نے یہ سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ اگر میں خود کو کائنات کے سب سے دور دراز آسمان تک لے جاؤں تو کیا اس صورت میں اپنے ہاتھ پھیلا کر یا کسی چھڑی کے ذریعے اس بات کا یقین کر سکتا ہوں کہ اس سے آگے کچھ نہیں؟ اگر میں ایسا نہیں کر سکوں گا تو یہ بے معنی بات ہوگی اور اگر ایسا کر سکوں گا تو اس کا مطلب ہوگا کہ اس سے بھی آگے کچھ موجود ہے، مادہ یا خلا، کچھ بھی۔

اس طرح مجھے مزید آگے جانا ہوگا اور خود سے یہی سوال پوچھنا ہوگا کہ کیا آگے کوئی جگہ ہے جہاں میں اپنی چھڑی لے جا سکتا ہوں اور پھر ہر مرتبہ مجھے یہی سوال بار بار پوچھنا پڑے گا! آئن سٹائن نے اس کا بڑا سادہ اور دلچسپ جواب دیا، اس نے کہا کہ کائنات بیک وقت محدود بھی ہے اور اس کی کوئی سرحد بھی نہیں بالکل ویسے جیسے زمین کی سطح لا محدود نہیں مگر بظاہر اس کی کوئی حد بھی نہیں۔ کائنات کے معاملے میں بھی یہ ممکن ہے کیونکہ آئن سٹائن کے عمومی نظریہ اضافیت کے مطابق کائنات خم دار ( curved) ہے سو یہ بیک وقت محدود بھی ہو سکتی ہے اور بغیر سرحد کے بھی۔

لا محدود کا تصور در اصل اس قدر خوفناک ہے کہ اسے انسانی ذہن میں سمونا بے حد مشکل ہے، جب ہم کائنات کو لا محدود کہتے ہیں تو یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر ایسا ہو تو پھر ہم جیسی دنیاؤں کی تعداد بھی لا محدود ہوگی اور ان دنیاؤں میں ہم جیسے انسان اور ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعات و معاملات بھی لا محدود ہوں گے جس کے نتیجے میں یہ بات تقریباً یقینی ہو گی کہ کائنات کے کسی دوسرے حصے میں بعینہ میری

طرح کوئی شخص یہ کالم لکھ رہا ہوگا اور آپ کی طرح کوئی اسے پڑھ رہا ہوگا۔ لیکن یہ بات اگر ایسے ہی ہوتی تو اب تک ہماری ہمزاد سے ملاقات ہو چکی ہوتی مگر اس کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ لا محدودیت بلا شبہ بہت وسیع تصور ہے مگر ایٹموں کے مجموعے سے جو اشیا وجود میں آ سکتی ہیں وہ لا محدود نہیں ہو سکتیں لہذا کائنات بھی لا محدود نہیں۔ بات کچھ پیچیدہ ہو گئی، اسے دوسرے طریقے سے دیکھتے ہیں۔

سن ہے 1925، مقام ہے کوپن ہیگن، وقت ہے رات کا۔ پچیس سالہ ورنر ہائزنبرگ ایک پارک میں بیٹھا اس بات پر غور کر رہا ہے الیکٹرونز کا آپس میں تال میل کیسے ہوتا ہے۔ پارک میں بجلی کے کھمبے ایک دوسرے سے قدرے فاصلے پر ہیں جس کی وجہ سے روشنی کچھ کم ہے، یکایک اس کی نظر ایک آدمی پر پڑتی ہے جو سامنے سے گزر تا ہے اور پھر اندھیرے میں غائب ہو جاتا ہے، تھوڑی دیر بعد وہ شخص دوبارہ روشنی میں نظر آتاہے اور پھر اندھیرے میں گم ہو جاتا ہے۔

یہ دیکھ کر ہائزنبرگ کے دماغ میں ایک خیال بجلی کے کو ندے کی طرح لپکتا ہے، وہ سوچتا ہے کہ الیکٹرونز بھی اسی طرح حرکت کرتے ہیں اور کسی بھی مقررہ وقت پر الیکٹرونز کی رفتار اور مقام کا تعین کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ الیکٹرونز اسی وقت ’ظاہر‘ ہوتے ہیں جب انہیں ملاپ کرنا ہوتا ہے اور جب وہ ملاپ نہیں کر رہے ہوتے اس وقت وہ ’وجود‘ ہی نہیں رکھتے۔ الیکٹرونز کی نقل و حرکت قدرت کے کسی قانون کے تابع نہیں، کب، کہاں، کون سا الیکٹرون حرکت کرے گا، کسی کو نہیں معلوم۔

با الفاظ دیگر مستقبل طے شدہ نہیں! ہائزنبرگ کی یہ دریافت آج تک انسانی ذہن کے لیے ایک پراسرار معمہ ہے۔ اسے کوانٹم میکینکس کہتے ہیں، اس دریافت پر اسے نوبل انعام سے نوازا گیا تھا۔ جس طرح کائنات کی لا محدودیت کو سمجھنا ایک دقیق مسئلہ تھا اسی طرح یہ گتھی سلجھانا بھی بے حد مشکل تھا کہ ایٹم کو کتنے لا متناہی ذرات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ کوانٹم میکینکس نے یہ بات ثابت کی کہ کسی بھی سالمے کو لا متناہی ذرات میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا، سپیس کی تقسیم کی ایک حد ہے، ایک خاص سطح کے بعد یہ تقسیم نا ممکن ہو جاتی ہے، اس حد کے بعد کوئی شے وجود نہیں رکھ سکتی، شاید وقت بھی نہیں۔

اس حد کو روس کے ریاضی دان ’ماتوی برونستین‘ نے دریافت کیا، اسے پلانک لینتھ کہا جاتا ہے، یہ کس قدر چھوٹی ہے اس کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ اگر ہم اخروٹ کے چھلکے کو اس کائنات جتنا بڑا کر لیں تو پھربھی ہم اس پلانک لینتھ کا مشاہدہ نہیں کر پائیں گے۔ یہ ہے وہ مقام جہاں زمان و مکاں اپنی ہئیت تبدیل کر لیتے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ماضی کے کسی بھی لمحے میں یہ کائنات پلانک لینتھ سے کم حجم کی نہیں رہی ہوگی کیونکہ پلانک لینتھ سے ’پہلے‘ کے کسی لمحے، میں ’وجود‘ ممکن نہیں تھا۔

گویا جس طرح کائنات کالا محدود پھیلاؤ ثابت نہیں اسی طرح کائنات کی لا محدود تقسیم بھی ثابت نہیں۔ اس موقع پر کتاب کے مصنف نے کمال کا جملہ لکھا ہے کہ ”لا محدود کا مطلب اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کہ جسے ہم شمار نہ کر سکیں یا جسے سمجھ نہ پائیں۔ یہ نام ہم نے اس تصور کے بارے میں رکھ چھوڑا ہے جس کے بارے میں ابھی ہمیں علم نہیں۔ جبکہ قدرت ہمیں بتا رہی کہ ایسا کچھ بھی نہیں جو صحیح معنوں میں لا محدود ہو۔“

فسطائی حکومتیں بھی اپنی طاقت کو لا محدود سمجھتی ہیں۔ ماتوی برونستین صرف ریاضی دان ہی نہیں ایک سچا انقلابی بھی تھا، اس نے ایک ایسے روس کا خواب دیکھا تھا جہاں سماجی انصاف ہو، آزادی ہو، مساوات ہو، قانون اور آئین کی عمل داری ہو۔ وہ لینن کا پیروکار تھا۔ تاہم جب سٹالن نے اقتدار سنبھالا تو اس کے خواب بکھرنے لگے، سٹالن کی فسطائی حکومت کو اس نے قبول نہیں کیا اور رفتہ رفتہ وہ اس حکومت کا ناقد بن گیا۔ فسطائیت میں اس تنقید کی گنجایش نہیں تھی سو وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔

فروری 1938 میں اس عظیم ریاضی دان کو سٹالن کی پولیس نے گرفتار کر لیا۔ ایک ہی دن اس پر ’مقدمہ‘ چلا اور اسی دن اسے موت کی سزا سنا کر قتل کر دیا گیا۔ کہنے کو اس وقت بھی ایک حکومت تھی، اس وقت بھی پولیس تھی اور اس وقت بھی عدالت تھی۔ ماتوی برونستین کو یہ سزا ایک عدالت نے ہی سنائی تھی۔ حقیقت وہ نہیں جو نظر آتی ہے۔
نوٹ: کتاب کا نام ہے ’Reality is not what it seems‘ اور مصنف کا نام ہے ’کارلو روویلی‘ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 137 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada