آشفتہ سری کے موسم میں عرفان صدیقی کی غزل – بہ کلک شاعر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 

مکرمی عرفان صدیقی کو غداری کے ایک موہوم مقدمے سے ابھی نجات ملی ہے. ان پر الزام تھا کہ لاہور کی ایک مجلس میں “کسی” کی تقریر سنتے ہوئے پائے گئے۔ پراچین ہندوستان میں وید سننے پر شودروں کے کان میں پگھلا ہوا سیسہ ڈال دیا جاتا تھا۔ ریاست مدینہ میں ایسا نہیں ہوتا۔ لیکن صدیقی صاحب اپنی روش سے ٹلنے والے نہیں۔ رتن ناتھ سرشار کے خوجی کی زبان میں، “واللہ ہے، ہٹ کے پکے ہیں، باز نہیں آتے”۔ اس موقع پر میر نے کہا تھا

چلا نہ اٹھ کے وہیں چپکے چپکے پھر تو میر

ابھی تو اس کی گلی سے پکار لایا ہوں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •