غربت اور بے بسی: ایک سچا واقعہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ دن پہلے کی بات ہے میری کام والی نے چھٹی کر لی۔ اگلے دن آئی تو میں نے پوچھا کیا ہوا تھا؟ دبے لفظوں میں بولی کچھ ضروری کام تھا کام کر کے بتاتی ہوں۔ فارغ ہونے کے بعد میرے پاس آ کے بیٹھ گیٔ۔ میں نے یوں محسوس کیا کہ وہ کچھ ہچکچا رہی ہے۔ میں نے پو چھا ہاں بتاؤ کیا ہوا تھا بولی باجی کیا بتاؤں ہم غریب لوگ ہیں ہماری تو کوئی عزت ہی نہیں کیا کریں گھر بیٹھ جائیں تو کھائیں تو کہاں سے، جس گھر میں میری بیٹی کام کرتی ہے کل وہ گیٔ تو ان کا لڑکا گھر میں اکیلا تھا۔

اس کی بیوی بچے کی پیدائش کے لئے میکے گئی ہوئی ہے اور ماں صبح تڑکے گاؤں چلی گئی تھی۔ میری بیٹی کو کہنے لگا آج تمہاری باجی ادھر نہیں ہے آؤ تم مجھے خوش کر دو اور کافی پیسے جو ہاتھ میں پکڑے ہوئے تھے اسے کہا یہ تم رکھ لو۔ کہتی ہے میری بیٹی نے جھاڑو پھینکا اور اوپر جو کرائے دار رہتے ہیں ان کے گھر چلی گئی اور جب تک میں اسے لینے نہیں گئی ادھر ہی رہی۔ اب کیا کروں؟ میں نے کہا اب نہ بھیجنا اسے کوئی اور گھر دیکھ لو اور دونوں مل کے کام کرنا اکیلی کو نہ بھیجنا۔

کچھ دن بعد میں نے پوچھا کوئی دوسرا گھر ملا تو منہ نیچے کر کے بولی وہ باجی ادھر ہی چھوڑ آئی ہوں ایک دم میرے منہ سے نکلا کیا؟ بولی بھائی جان کی اماں نے بڑی معافی مانگی ہے اور کہتی ہیں وہ اپنی اس حرکت پر بہت شرمندہ ہے اور کہتا ہے کہ زبان سے ہی کہا ہے، ٹچ تے نہیں کیتا نا (ہاتھ تو نہیں لگایا نا) باجی کام نہ کریں تو کھائیں کہاں سے؟ وہ تو یہ بتا کے چلی گئی لیکن میں ماؤف ذہن کے ساتھ یہ سوچتی رہی کہ کب غریب اپنے حق اور عزت کے لیے آواز اٹھا سکے گا؟ کب تک روٹی کے لیے یونہی اس کی عزت تار تار ہوتی رہے گی۔ شاید اس بے حسی کے ذمے دار ہم سب ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •