سگنل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ چوراہے پہ ملنے والا شخص، ٹرین میں نظر آنے والا چہرہ، بازار میں ٹھٹکتی ہوئی عورت یا بس کی کھلی کھڑکی میں سے نظر آنے والی مانوس آنکھیں آپ کے حافظے میں معمولی سے معمولی تفصیلات کے ساتھ نقش ہو جاتے ہیں، جیسے کیمرے سے لی گئی تصویر کے ساتھ، وہ لمحہ بھی ہمیشہ کے لئے قید ہو جاتا ہے۔

میری گاڑی سگنل پہ رکی، میں نے گھڑی پہ وقت دیکھا اور دائیں بائیں جھانکنے لگا۔ ساتھ والی گاڑی میں ایک شخص دکھائی دیا جو کچھ گنگنا رہا تھا۔ مجھے لگا شاید اس کو کہیں دیکھا ہے اور سوچ میں پڑ گیا، مگر کچھ یاد نہ آیا۔ مسکراہٹ کا تبادلہ ہوا اور سگنل کھل گیا۔ میں نے گاڑی آگے بڑھا دی۔ کانفرنس میں پہنچا، تو ابھی کارروائی شروع ہونے میں ایک گھنٹہ باقی تھا۔ یہ ایک میڈیکل کانفرنس تھی، جو سینٹ مارکس اسپتال لندن کے آڈیٹوریم میں منعقد کی جا رہی تھی۔ میں آئی ٹی سے وابستہ ایک فرم کی جانب سے ٹیکنیکل سپورٹ سسٹم فراہم کر رہا تھا۔ میں نے اپنا کمپیوٹر سسٹم سیٹ کیا اور کام میں مشغول ہو گیا۔

کچھ ہی دیر میں شرکا پہنچنے لگے۔ سب میڈیکل کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے۔ چند چہرے پاکستانی اور ہندوستانی بھی معلوم ہوتے تھے۔ اچانک ایک مانوس چہرے کو دیکھ کر میں ٹھٹک گیا۔ یہ تو نبیلہ تھی۔ ڈاکٹر نبیلہ۔ اسے دیکھتے ہی میں بھونچکا رہ گیا اور میرا دماغ اکیس سال پیچھے گھوم گیا۔

نبیلہ کی کہانی مندرہ سے شروع ہوتی ہے، جو راولپنڈی سے 35 کلومیٹر دور گوجر خان کا ایک قصبہ ہے۔ چار بہنوں میں سب سے بڑی نبیلہ، بتایا کرتی کہ جس دن اس کا انٹر میڈیٹ کا نتیجہ آیا تھا، اس دن اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ رہا تھا۔ کیوں کہ اس نے پری میڈیکل میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔ اس کے خوابوں کی منزل ڈاکٹری، اس سے چند قدم دور کھڑی تھی۔ البتہ اس کا باپ اس خبر پہ خوش ہونے کے ساتھ ہی سوچ میں پڑ گیا تھا کہ اس کی میڈیکل کی تعلیم کے اخراجات کہاں سے پورے ہوں گے۔

وہ ایک غریب آدمی تھا، جو کرائے کی ٹیکسی چلاتا۔ دن بھر گوجر خاں اور نواحی علاقوں میں مزدوری کر کے اپنے خاندان کا پیٹ پالتا۔ اس کے باپ نے جوں توں کچھ قرض اور کچھ لوگوں کی امداد سے اس کا داخلہ میڈیکل کالج میں کروا دیا اور دسمبر کی ایک سرد شام، نبیلہ خوشی اور مستقبل کے خدشات کی ملی جلی کیفیات لئے اپنے باپ کے ساتھ میڈیکل کالج کے خواتین ہاسٹل کے سامنے کھڑی تھی۔

اسے بالائی منزل پر ایک لڑکی کے ساتھ مشترک کمرا الاٹ ہوا تھا۔ وہ کمرے میں داخل ہو کر، ابھی جائزہ ہی لے رہی تھی کہ انتہائی نفیس لباس پہنے، ہاتھوں میں قیمتی پرس، موبائل اور آنکھوں پہ دل کش چشمہ لگائے، ایک خوب صورت لڑکی کمرے میں داخل ہوئی، جس کے کپڑوں سے قیمتی پرفیوم کی خوشبو پھوٹتی تھی۔ پہلی نظر ہی میں وہ کسی امیر گھرانے کی لڑکی معلوم ہوتی تھی۔ اپنا تعارف کراتے ہوئے اس نے بتایا تھا کہ وہ سال اول کی نئی لڑکی عائشہ تھی اور اس کی روم میٹ تھی، اس کا تعلق کامرہ سے تھا اور اس کے والد ایئر فورس میں افسر تھے۔ نبیلہ نے کچھ جھجکتے ہوئے سلام کیا اور جواباً اپنا نام اور تعلق گوجر خان سے بتانے کے سوا اور کچھ نہ کہ سکی تھی۔ عائشہ کے سراپے نے اسے احساس کم تری میں مبتلا کر دیا تھا اور نبیلہ نے شرم کے مارے اپنا گٹھڑی نما بستر اور تھیلا اپنے پیچھے چھپا لیا تھا۔

عائشہ نے گوجر خان کا ذکر سنتے ہی تیزی سے کہا، ’واہ کیپٹن سرور شہید (نشان حیدر) کا شہر۔ ویری گڈ! چلو خوب رہے گی۔ میں ذرا ڈرائیور سے اپنا سامان لے آؤں، پھر تفصیل سے باتیں کریں گے‘۔ نبیلہ اس سے افلاس کی اس چادر کا کیا ذکر کرتی، جو آسمان کی طرح اس کے گھر پہ ہمیشہ تنی رہتی۔ اس نے جلدی سے اپنا سامان الماری میں ٹھونسا تھا اور میس کا راستہ معلوم کر کے وہاں سے چلی گئی، تا کہ عائشہ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

دن اور ہفتے گزرتے رہے اور دونوں میں بے تکلفی ہو گئی، نبیلہ اگر چہ غریب مگر ذہنی صلاحیت سے مالا مال تھی۔ جب کہ عائشہ کو مشکل سائنسی اصطلاحات اور تصورات سمجھ نہ آتے۔ یہاں نبیلہ اس کی مدد کرتی۔ عائشہ ایک خوش اخلاق اور فیاض لڑکی تھی۔ اکثر اوقات نبیلہ کے قلیل ماہانہ جیب خرچ ختم ہونے پر اس کی مالی مدد کرتی اور اپنی چیزیں استعمال کے لئے بھی دے دیتی۔ ایک دفعہ سالانہ کلاس فنکشن پر اس کے لئے اپنی امی سے کہ کر خصوصی طور پر کپڑے بھی بنوا دیے۔

لیکن نبیلہ کو ہاسٹل میں رہنے والی متعدد لڑکیوں سے ہمیشہ احساس کم تری ہی رہا۔ ان دنوں پاکستان میں موبائل فون نئے نئے آئے تھے۔ چیدہ چیدہ امرا کے پاس ہی موبائل ہوتا۔ نبیلہ کے گھر تو فون تک نہیں تھا۔ گھر سے خط کتابت ہوتی یا پھر محلے کی دکان کے فون کے ذریعے رابطہ ہوتا۔ ہاسٹل کا فون ہمیشہ مصروف رہتا اور کئی بار تو گھنٹوں اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا۔

اس دوران میں نبیلہ کی جان پہچان ہاسٹل کی ملک شیک کی دکان والے اسلم بھائی سے ہوئی، جنہوں نے نبیلہ کے احساس کم تری کو بھانپتے ہوئے چالاکی سے اس پر بے وجہ نوازشات شروع کر دیں۔ شروع میں ادھار اور پھر بنا پیسوں کے چیزیں ملنا شروع ہوئیں۔ اسلم نے اپنے ایک دوست آصف سے اس کی دوستی کروا دی، جو پھلوں کے امیر آڑھتی کا بیٹا تھا۔ آصف سے اس کی ملاقاتیں شروع ہو گئیں، جو اسے موٹر سائیکل پر گھماتا، ہوٹلوں کا کھانا کھلاتا اور تحائف دلاتا۔ دونوں کا رابطہ ہاسٹل کے فون کے ذریعے ہوتا، جو انتہائی مشکل کام ہوتا۔ عائشہ اور ہاسٹل کی دوسری لڑکیاں اس کی حرکات دیکھ کر اس سے کنارہ کرنے لگیں اور آہستہ آہستہ وہ ایک بد چلن لڑکی مشہور ہو گئی۔

ایک دن عائشہ نہا کر کمرے میں واپس آئی، تو اس کا موبائل غائب تھا۔ اس نے فوراً وارڈن کو بتایا تو وارڈن نے پورے ہاسٹل کی تلاشی کا حکم دے دیا۔ عائشہ اور نبیلہ دو فائنل ایئر کی لڑکیوں کے ہم راہ، ایک ایک کمرے میں جاتی اور تلاشی لیتی رہیں، مگر موبائل نہ ملا۔ عائشہ نے فون بوتھ سے گھر اطلاع کر دی۔ جب وہ تھک ہار کر کمرے میں واپس آئی تو اسے ایک گم نام رقعہ ملا، جس میں ٹوٹی پھوٹی لکھائی میں موبائل چوری کا الزام، ایک فائنل ایئر کی لڑکی پر رکھا گیا تھا اور لکھا تھا کہ موبائل سیڑھیوں کے نیچے پڑا ہے۔ وہ بھاگی گئی مگر وہاں صرف چارجر پڑا ملا، لیکن اس تاریک جگہ پر اسے ایک قلم گرا ہوا ملا، جسے اس نے فوراً پہچان لیا۔ یہ نبیلہ کا تھا۔

عائشہ نے ساری روداد وارڈن کو کہہ سنائی، جس نے غضب ناک ہو کر نبیلہ کو بلا بھیجا اور چھوٹتے ہی اس پر تھپڑوں کی برسات کر دی۔ تھوڑی دیر ہی میں اس نے اقرار کر لیا کہ اسی نے موبائل چرایا تھا، مگر پھر خوف کے مارے رقعہ لکھ دیا اور موبائل جو اس نے آصف کو دیا تھا، وہ اسے تھوڑی دیر میں واپس لانے والا تھا اور اس نے وہ سیڑھیوں کے نیچے رکھ چھوڑنا تھا۔

نبیلہ کو سزا کے طور پر اس ہاسٹل سے نکال کر دوسرے ہال شفٹ کر دیا گیا۔ اس کے والد کو بلا کر خوب ملامت کی گئی اور بڑی بد نامی ہوئی۔ ماہ و سال گزرے اور نبیلہ ڈاکٹر بن گئی، آصف سے اس کا تعلق ختم ہو گیا تھا اور اس نے راولپنڈی کے ایک سرکاری اسپتال میں نوکری لے لی۔

میں جو بہت دیر سے ان سوچوں میں کھویا ہوا تھا، اپنے ساتھی کی آواز پر چونک پڑا۔ ’یار آصف کہاں گم ہو؟ کب سے آوازیں دے رہا ہوں‘۔ خیالات کا سلسلہ ٹوٹا اور میں ماضی سے حال میں واپس لوٹ آیا۔ نبیلہ سے جب تعلق ٹوٹا تو میں نے اپنی تعلیم پر بھر پور توجہ دی اور ایم ایس سی کمپیوٹر سائنس کر لی۔ اب کچھ سال ہوئے انگلینڈ شفٹ ہو گیا تھا، مگر آج اچانک اسے اپنے سامنے پا کر وقت کی دھول چھٹ گئی تھی۔ نبیلہ کو اپنی طرف آتے دیکھ کر میں نے منہ دوسری طرف پھیر لیا، لیکن وہ مجھ پر توجہ کیے بغیر ہی آگے بڑھ گئی۔ اس نے مجھے نہیں پہچانا اور اپنی ساتھی سے اپنے شوہر کا تعارف کروانے لگی۔

کانفرنس سے واپسی پہ گاڑی چلاتے ہوئے میں نے سوچ رہا تھا کہ آدمی کا سفر بھی پاؤں کا ایک چکر ہے۔ وہ کیسے پیچ دار راستوں سے گزرتا ہے اور سفر کی گرد اڑاتا آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ چند لمحے کسی سرائے، کسی درخت کی چھاؤں یا چپ چاپ بنچ پر سانس لینے کو رکتا ہے، مگر ساتھ بیٹھے کسی مسافر کو یہ اندازہ نہیں ہو سکتا کہ اس کا ماضی کن کہانیوں سے اٹا پڑا ہے۔ گاڑی سگنل پہ رکی تو ساتھ والی کار میں وہی شخص بیٹھا گنگنا رہا تھا، جو صبح اسی سگنل پہ اتنے ہی لمحات کے لئے ملا تھا۔ ہماری نظریں چار ہوئیں اور اس اتفاق پر ہم دونوں مسکرا دیے، ہاتھ ہلا کر الوداعی اشارہ کیا اور گاڑی بڑھا کر اپنے اپنے راستوں پر ہو لیے۔

Latest posts by ڈاکٹر کامران عبداللہ (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •