انصاف لائرز فورم کا سیمینار اور انصاف کا تصور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موقع پرست سیاستدانوں کے ملک میں جمہوریت صرف عوامی رائے دہی کے مطالبہ کے معاملے میں ہی نظر آتی ہے۔ جو اس اصطلاح کی ایک محدود اور نامکمل تعریف ہے۔ جمہوریت کو سیاسی عمل میں رائے دہندگان کی شمولیت اور کھلے بحث مباحثے کے ذریعے سیاسی عمل میں ووٹروں کی شرکت کے بغیر سمجھایا نہیں جا سکتا۔ ورنہ شہری محض ووٹ کے ذریعے حکومت سازی کے آلہ کار کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔

بیرسٹر سید علی ظفر نے بھی 9 اکتوبر 2020 کو اسلام آباد میں منعقدہ آل پاکستان انصاف لائرز فورم (آئی ایل ایف) میں اپنی تقریر میں اس نکتے پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومتوں نے کبھی بھی حکمرانی کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ اس مشہور تعریف کا ذکر کرتے ہوئے کہ ”جمہوریت عوام کی، عوام کے ذریعے اور لوگوں کے لئے ہوتی ہے“ ، انہوں نے کہا کہ ملک میں سیاسی اشرافیہ نے تعریف کے تیسرے حصے یعنی ’عوام کے لئے‘ کی پاسداری کو نظرانداز کیا تھا۔ اور صرف ”:لوگوں کی“ اور ’لوگوں کے ذریعہ‘ والے میں دلچسپی دکھائی گئی کیونکہ جمہوریت کی تعریف کا یہ حصہ ان کے اقتدار میں آنے کے لئے موزوں تھا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ سیاسی اشرافیہ اقتدار سنبھالنے کے لئے رائے دہندگان سے کیے گئے فلاح و بہبود کے وعدوں کو فراموش کرتی رہی ہے۔ بیرسٹر علی ظفر آئی ایل ایف کے چیئرمین بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ آمرانہ طریقہ کار برسراقتدار طبقات میں گٹھ جوڑ کا سیاسی کلچر تشکیل دیتا ہے۔

اس کے بعد انہوں نے وزیر اعظم پاکستان سے، جو اس موقع پر مہمان خصوصی تھے، درخواست کی کہ وہ جلد اور سستا انصاف کی فراہمی کو قابل بنائیں۔ نا انصافی کی خرابی کے بارے میں اپنی دلیل کو تقویت دینے کے لئے انہوں نے طاقت کے ناجائز استعمال کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے انتہائی مناسب اور معروف قول کا حوالہ دیا کہ ”کفر کا نظام چل سکتا ہے لیکن جبر اور استحصال کا نظام قائم نہیں رہ سکتا۔“ انہوں نے مزید واضح کیا کہ جمہوریت اور لوگوں کی فلاح و بہبود ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ بیرسٹر نے ایک عام آدمی کی تقدیر سنوارنے کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی پالیسی کے مرکز میں اس عام آدمی کے ہونے کی اہمیت کو تقویت دینے کے لئے، انہوں نے قائداعظم کے اس قول کا حوالہ بھی جس میں انہوں نے ہندو اکثریت کی حکمرانی سے ہندوستان کے مسلمانوں کی آزادی کے لئے اپنی جدوجہد کا خلاصہ بیان کیا تھا۔ جناح نے کہا تھا، ”میری جدوجہد اشرافیہ کے لئے نہیں ہے۔ وہ پہلے سے ہی اچھی زندگی گزار رہے ہیں۔ میری جدوجہد ہندوستان میں عام مسلمانوں کے لئے ہے۔

بیرسٹر ظفر کی تقریر کا لب لباب یہ تھا: (1)، پاکستان میں قانون کی حکمرانی ہونی چاہیے۔ (2)، ملک کے سیاسی اور انتظامی امور کو سمجھداری اور ذمہ داری سے نبھایا جانا چاہیے۔ (3)، طبقہ اشرافیہ کی ثقافت کو معاشرے سے ختم کرنا چاہیے۔ (4)، عوامی پالیسیاں عوام پر مبنی ہونی چاہئیں۔ اور آخری نکتہ یہ کہ عدالتی عمل میں اصلاح اور ڈیجٹلائزیشن کے ذریعہ انصاف کو ہمہ گیر بنایا جائے۔

عدالتی اصلاحات کے لئے کسی اور کمیٹی کے اعلان کی کسی کوشش کو ختم کرنے کے لئے بیرسٹر ظفر نے جلد سے جلد انصاف کی فراہمی میں رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے عمل درآمد کے فریم ورک کے ضمن میں پہلے سے موجود اصلاحاتی رپورٹس اور تفصیلی سفارشات پر عمل درآمد کے لئے ایک کمیشن بنانے کے لئے درخواست کی۔

آئی ایل ایف کے چیئرمین نے جن معاملات پر دو ٹوک اور واضح رائے دینے سے گریز کیا تھا، بعد میں وزیر اعظم عمران خان نے اپنی تقریر میں وہ پہلو بھی اجاگر کر دیے۔ ان کی توجہ احتساب پر مرکوز تھی۔ انہوں نے استدلال کیا، اور ٹھیک ہی کہا کہ اشرافیہ کی ثقافت اس وقت فروغ پذیر ہوتی ہے جہاں طاقت وروں کو ان کے اقتدار کو غلط استعمال کرنے کے لئے کھلی چھٹی دی جاتی ہے اور جہاں احتساب کا نظام بروقت اور پیشہ ورانہ طور پر جواب دہی کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اقتدار میں رہنے والوں کے لئے چیک اینڈ بیلنس کی عدم موجودگی سے عام آدمی کو اضطراب لاحق ہے۔ احتساب کے فریم ورک کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معاشرے کے تمام طبقات میں فرق ختم کرتے ہوئے احتساب کو بے لاگ ہونا چاہیے۔ وزیر اعظم نے افسوس کا اظہار کیا کہ سیاسی جماعتیں احتساب سے بچنے کے لئے حیلے بہانے تراش رہی ہیں۔

لوگوں نے وزیر اعظم کی تقریر پر یہاں تک داد دی ہے کہ وزیر اعظم نے نادانستہ طور پر اس دیرینہ تاثر کو دور کر دیا ہے کہ پاکستان کا اہم ترین خفیہ ادارہ، آئی ایس آئی، سیاستدانوں کی بدعنوانیوں کا ریکارڈ اکٹھا کرنے میں ملوث ہے۔ عمران خان کے ناقدین بھی عمران خان کی جمہوریت کے بارے میں اس بیان پر حیرت زدہ ہیں جس میں انہوں نے کہا کہ ”میں جمہوریت ہوں۔“ دوسری طرف مخالفین مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے طرز زندگی پر عمران کے ٹھوس تبصرے پر بے حد نالاں ہیں۔

اگر عمران خان یہ نکات نہ اٹھاتے تو یہ ان کے ووٹرز کے ساتھ نا انصافی ہوتی جس کے ساتھ انہوں نے حقیقت کو بے نقاب کرنے کے لئے سیاسی گفتگو اور بیانیہ سے ابہام دور کرنے کا عہد کیا ہے۔ اس بارے میں انہوں نے ایک طرف یقین دلایا کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے پاس کو کسی بھی عنصر۔ غیر ملکی یا ملکی۔ جو اس ملک میں عدم استحکام لانے کا باعث بنے والے ملک سے محفوظ رکھنے کا سخت مینڈیٹ ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سی آئی اے نے امریکی کانگرس اور سینیٹرز کی جاسوسی کی تھی۔ صدر رچرڈ نکسن اور لنڈن بی جانسن نے سی آئی اے سے درخواست کی تھی کہ وہ ان کے ادوار میں عوامی تحریکوں کے پس پشت کارفرما وجوہات کی تحقیقات کریں۔ سن 2014 میں سینیٹر ڈیان فین اسٹائن نے سی آئی اے پر الزام لگایا تھا کہ وہ سینیٹ کی انٹلی جنس کمیٹی میں جاسوسی کرتی ہے جو قیدیوں پر تشدد سے متعلق رپورٹ پر کام کر رہی تھی۔ اس الزام کی تحقیقات میں سی آئی اے افسران کی شمولیت کا انکشاف ہوا تھا جنہوں نے امریکی سینیٹ کی اس انٹلی جنس کمیٹی کے زیر استعمال کمپیوٹر نیٹ ورک میں دراندازی کی تھی جسے سی آئی اے کے نظربندی اور تفتیشی پروگرام کی رپورٹ تیار کرنے کا کام سونپا گیا تھا

کیا ہم اپنے ملک کو ایسے سیاستدانوں کے رحم و کرم پر چھوڑ سکتے ہیں جن میں سے آدھے کرپشن کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں؟ یہ قیاس باور نہیں ہوتا کہ حزب اختلاف کی معروف جماعتوں کے خلاف لگائے گئے بدعنوانی کے تمام الزامات من گھڑت ہیں۔ ان میں کچھ نہ کچھ حقیقت تو ہو گی۔ کیا عام آدمی کی مشکلیں ان پچھلی حکومتوں کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ نہیں ہیں جنہوں نے حکومتی وسائل کا رخ ان منصوبوں کی طرف موڑے رکھا جو انتخابات میں نفع پہنچا سکتے تھے؟

جہاں تک عمران خان کے اس بیان کا تعلق ہے کہ ’میں جمہوریت ہوں‘، اسے لوگوں کی طاقت پر ان کے اعتماد اور عوامی فلاح و بہبود کو قومی پالیسیوں کا لازمی حصہ بنانے کی خواہش سے جوڑ کر دیکھنا چاہیے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے طرز زندگی پر وزیر اعظم تبصرے سے گریز کر سکتے تھے، لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ وہ طرز زندگی ہے جو طبق اشرافیہ اور عوام کے درمیان خلیج کا تعین ان کے طرز زندگی میں فرق ہی سے ہوتا ہے۔ اس نظام میں مٹھی بھر افراد کروڑوں عوام سے کچھ زیادہ ہی برابر یعنی مراعات یافتہ ہیں۔

آئی ایل ایف سیمینار میں پیش کیا کیا بیانیہ ’عوام کے لئے‘ تھا۔ اب یہ پارلیمنٹیرینز کی اجتماعی دانشمندی پر منحصر ہے کہ وہ کیسے عام پاکستانی کو پالیسی سازی میں براہ راست اسٹیک ہولڈر بنا کر اس بیانیے کو نتیجہ خیز بناتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
دردانہ نجم کی دیگر تحریریں