سائنس کی دنیا سے (21 سے 27 ستمبر 2020)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1۔ ہیلسنکی ایئر پورٹ پر متعین کتے صد فی صد درستی کے ساتھ کووڈ ۔ 19 کی شناخت کر سکتے ہیں۔

ہیلسنکی ایئر پورٹ پر مسافروں کو اب ایک عجیب لیکن تیز تر طریقے سے ‏کووڈ۔ 19 کے لیے ٹیسٹ کیا جائے گا۔ ایئر پورٹ پر موجود کتے، مسافروں کو سونگھ کر بتا سکیں گے کہ آیا وہ وائرس سے متاثر ہیں یا نہیں۔ لیکن کتوں سے خوف زدہ مسافروں کو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں، کیوں کہ مسافروں سے مس شدہ ایک ٹشو پیپر کتوں کو سونگھایا جائے گا۔ محققین کے مطابق، کتوں کے ذریعے کرونا وائرس کی شناخت کے نتائج ان کی توقع سے زیادہ اچھے آئے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے کتوں کو کینسر اور دوسری بیماریوں کی تشخیص کے لیے استعمال کیا جا چکا ہے۔

2۔ کووڈ۔ 19 لاک ڈاؤن کے سناٹے میں سان فرانسسکو کے پرندوں نے مختلف طریقے سے چہچہانا شروع کر دیا

ایک تحقیق کے مطابق، وبا کے پہلے مہینے میں سان فرانسسکو کی سنسان گلیوں میں نر پرندوں نے اپنی مادہ کو راغب کرنے کے لیے زیادہ نرماہٹ اور متاثر کن طریقے سے چہچہانا شروع کر دیا۔ محققین کے مطابق، یہ انسانوں کے اپنے گھروں تک محدود ہونے سے ماحول میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کا پرندوں اور دوسرے جانوروں پر پڑھنے والا اثر ہے جسے اینتھرو پاز کہا جاتا ہے۔ شور شرابے میں پرندوں کو زیادہ کرختگی سے چہچہانا پڑتا تھا۔ سائنسدانوں نے اپریل اور مئی میں حاصل کردہ پرندوں کی چہچہاہٹ کے ڈیٹا کا، وبا سے پہلے حاصل کردہ ڈیٹا سے موازنہ کیا، تو انہیں یہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ نرم اور متاثر کن محسوس ہوئی۔ جس سے پرندوں کی اپنے ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں سے مطابقت پیدا کرنے کی صلاحیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

3۔ کوے کی نسل کے پرندوں نے سائنسدانوں کو ہمیشہ اپنی ذہانت سے متاثر کیا ہے۔ ایک نئی تحقیق نے یہ بات ثابت کی ہے کہ کوے اپنے علم کے بارے میں جانتے اور اپنے ذہن میں چل رہے خیالات پر غور کر سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ خصوصیت صرف انسانوں اور کچھ بڑے ممالیہ جانوروں تک محدود سمجھی جاتی تھیں۔ ایک دوسری تحقیق نے کبوتروں اور الوؤں میں بھی اسی طرح کی ذہانت کی نشان دہی کی ہے۔

4۔ پیرس کے ماحولیاتی معاہدے میں موجود اہداف حاصل کرنے کے با وجود، انٹارکٹیکا کی برف پگھلنے سے سمندر کی سطح میں 2.5 میٹر کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ سائنسدانوں کے اندازے کے مطابق، برف کے اس پگھلاؤ میں بہت عرصہ لگ سکتا ہے تاہم پیرس معاہدے کے اہداف حاصل کرنے کے با وجود، یہ ایک نا قابل واپسی امر ہو گا۔ انٹارکٹیکا کے بارے میں جتنی زیادہ معلومات سامنے آ رہی ہیں، ماحول پر پڑنے والے اثرات کی پیش گوئیاں بھیانک تر ہوتی جا رہی ہیں۔ انٹارکٹیکا کی برف کی موجودہ ہیئت تقریباً 34 ملین سال سے برقرار ہے، لیکن اس کی مستقبل کی ہیئت ہماری زندگیوں ہی میں تبدیل ہونے کا امکان ہے۔ مستقبل کے انسان، شاید ہمیں ایسے انسانوں کی حیثیت سے یاد کریں جنہوں نے نیویارک جیسے شہروں کو ڈبو دیا۔

5۔ 233 ملین سال پہلے کرہ ارض پر آتش فشانوں کے پھٹنے سے بہت بڑی مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین اور پانی کے بخارات ہوا میں پھیلے، جن کی وجہ سے اس وقت عالمی حدت میں اضافہ ہوا۔ اس سے جہاں اس زمانے میں غالب ٹیٹرا پاڈز کا خاتمہ ہوا، وہیں پر ڈائنوسار کے زمانے کا آغاز ہوا۔ یاد رہے کہ حیات کی نا بودگی کا سب سے بڑا واقعہ 66 ملین سال پہلے ہوا، جب زمین پر شہابیوں کے تصادم نے ڈائنو سار، پیٹرو سار اور رینگنے والے جانوروں کا خاتمہ کر دیا۔ سائنسدانوں کے خیال میں اب تک عالمی نا بودگی کے پانچ بڑے واقعات ہو چکے ہیں۔

6۔ اپنی طرز کی ایک نئی تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ فربہ افراد، دماغی فرسودگی کو ٹھیک کرنے میں نا کام رہتے ہیں۔ اس سے فالج اور ذہنی بیماریوں سے جلد صحت یابی کی امید کم ہو جاتی ہے۔ علاوہ ازیں انہیں کوئی نیا کام سیکھنے یا چیزوں کو یاد رکھنے میں بھی مشکلات پیش آتی ہیں۔ یاد رہے کہ دل کی بیماریوں اور ڈیمنشیا سے موٹاپے کا تعلق پہلے ہی ثابت شدہ ہے۔

7۔ ایتھرو سکلیروسس دل کی ایک بیماری ہے، جس میں خون کے لوتھڑے شریانوں میں جم جاتے ہیں۔ یہ لوتھڑے خون کے سفید ذرات، چربی، کولیسٹرول اور کیلشیم سے مل کر بنتے ہیں۔ یہ لوتھڑا سخت اور بڑا ہونے کے ساتھ ساتھ خون کی شریان کا قطر تنگ کرتا جاتا ہے اور خطرناک مسائل مثلاً دل کا دورہ، فالج اور موت تک کا باعث بن سکتا ہے۔ اب مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی کے انجینئرز نے میٹر کے ایک ارب حصے جتنے چھوٹے نینو ذرات تیار کیے ہیں، جو اس لوتھڑے کو اندر سے کھا کر ختم کر دیتے ہیں۔ نیچر نینو ٹیکنالوجی جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، ایسے نینو ذرات نے خطرناک لوتھڑوں کا سائز قابل ذکر حد تک کم کر کے ایتھرو سکلیروسس کے ایک نئے علاج کی راہ ہموار کردی ہے۔

8۔ میلبورن میں نا بینا افراد کی بینائی بحال کرنے والا، اپنی طرز کا پہلا آلہ کلینیکل ٹرائل سے گزر رہا ہے۔ موناش یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے نو مربع ملی میٹر کا انتہائی چھوٹا وائرلیس برقیاتی امپلانٹ تیار کیا ہے، جسے دماغ کی سطح پر نصب کر کے بینائی بحال کی جا سکتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی پر تحقیق کر کے سائنسدان ایسے مزید آلات تیار کرنے کے لئے پر امید ہیں، جو نا قابل علاج دماغی بیماریوں، مثلاً: فالج کا علاج بھی کر سکتے ہیں۔

9۔ ناسا نے 2024ء تک چاند پر پہلی خاتون خلا باز کو بھیجنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

10۔ ماہرین فلکیات نے زمین سے 23 ملین نوری سال کے فاصلے پر موجود، Ursa major کانسٹیلیشن کے پاس ایم 51 ورل پول گلیکسی میں ایک سیارہ دریافت کیا ہے۔ یہ ہماری ملکی وے کہکشاں کے باہر کسی Exoplanet کی پہلی دریافت ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر خالد محمود صادق (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •