چلیں مہنگائی کا حل ہم بتائے دیتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک فلسفی ٹائپ کا کوئی خبطی، تین چار گھنٹوں سے کسی دیوار کے ساتھ کان لگائے کھڑا تھا۔ ایک صاحب بہت ہی دل چسپی کے ساتھ ان کو دیکھنے میں مصروف تھے۔ جب کئی گھنٹے گزر جانے کے با وجود، خبطی فلسفی کی پوزیشن میں کوئی فرق نہیں آیا، تو وہ اپنی جگہ سے اٹھے اور پاس جا کر ان سے پوچھا کہ حضرت کیا کر رہے ہیں؟ کچھ سننے کی کوشش کر رہا ہوں، اپنی پہلی پوزیشن پر سختی کے ساتھ قائم رہتے ہوئے، مختصر سا جواب دیا گیا۔ وہ صاحب بھی دیوار سے کان لگا کر کھڑے ہو گئے، لیکن چار پانچ منٹ تک انھیں اپنے کان میں کسی بھی قسم کی کوئی آواز یا سرگوشی نہیں سنائی دی، تو انھوں نے فلسفی نما خبطی سے کہا کہ حضرت، مجھے تو کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی۔ جواب مل،ا میں تین گھنٹے سے کان لگائے کھڑا ہوں، مجھے ابھی تک خود کچھ سنائی نہیں دیا۔ پھر بھی میں حوصلہ نہیں ہارا اور آپ ہیں کہ پانچ سات منٹ میں ہی پریشان ہو گئے۔

ہمارے ملک میں بھی ایک صاحب ایسے ہیں، جو بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے بے حد پریشان بھی ہیں اور گزشتہ ستائیس مہینوں سے اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ مہنگائی بڑھتی چلی جانے کا سبب معلوم کریں اور اس سیلاب بلا خیز کے آگے کسی طور کوئی بند بھی باندھنے میں کامیاب ہو جائیں، تا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی عوامی بے چینی کا سد باب ہو سکے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ انھیں نہ تو مہنگائی بڑھتی چلی جانے کا سبب معلوم ہو پا رہا ہے اور نا ہی یہ سمجھ میں آ رہا ہے کہ بند کہاں کہاں باندھے جائیں۔ کیوں کہ سیلاب بلا خیز چہار جانب سے پھوٹ بہا ہے اور اس کی سیلابی موجوں کی شدت کے آگے چٹانیں اور پہاڑ بھی ٹھہرتے دکھائی نہیں دے رہے۔

صاحب کے ساتھ ایک مسئلہ ہو تو اس کا کوئی نہ کوئی حل نکالا بھی جا سکتا ہے۔ ظلم تو یہ ہے کہ ان کے ساتھ کچھ ایسے مسائل بھی ہیں، جو خود ان کو نا صرف حیرت میں ڈالے ہوئے ہیں، بلکہ ان مسائل نے ان کو ڈرا کے رکھا ہوا ہے۔ سوچیے کہ جو عینک آپ کو اقتدار میں لانے سے پہلے بہت سارے مسائل سیدھے سیدھے دکھاتی رہی ہو، وہ تخت اقتدار پر بیٹھتے ہی برعکس دکھانے لگے، تو آپ کی کیا حالت ہو گی۔ جو عینک تمام اشیائے ضروریہ کی قیمتیں پہاڑ جیسی بلند و بالا اور سمندروں جیسی وسیع و عریض دکھا رہی تھی، اقتدار کی کرسی سنبھالتے ہی پربت سے رائی میں تبدیل ہو گئی۔

آنکھوں پر چڑھے چشمے کو، ہزار بار کبھی الٹ کر اور کبھی پلٹ کر لگایا، لیکن ذرہ برابر بھی فرق نہیں پڑا، تو مجبوراً ان کو اس قد و قامت تک بلند و وسیع کرنا پڑ گیا، جتنا وہ عینک تختہ اقتدار پر بیٹھنے سے پہلے دکھائی دیا کرتی تھیں۔ جب وہ تمام اشیا، پہلے جیسے دکھائی دینے لگیں، تو اچانک پھر اسی عینک نے نہ جانے کیا جادو کر دیا کہ قیمتوں کا ناپ پھر سے سکڑ گیا۔ مجبوراً اسے مزید بڑا کرنا پڑا۔ لیکن خوف زدہ کر دینے والی بات یہ ہے کہ جب بھی وہ الیکشن سے پہلے والے ناپ تک آتی ہیں، دوبارہ سے سکڑ جاتی ہیں۔

صاحب ہر روز پیرنی سے پھونکیں بھی مرواتے ہیں، تعویذ بھی بندھواتے ہیں۔ سارے کچن کیبنٹ کے دروازہ و درازوں کو جمع کر کے مشاورت بھی کرتے ہیں، لیکن نا تو خود صاحب کو اور نا ہی کچن کیبنٹ کی درازوں اور دروازوں کو یہ معما سمجھ میں آ کر دیتا ہے کہ مہنگائی بے قابو کیوں ہو گئی ہے اور اس پاگل ہو جانے والی مہنگائی کو لگام کس طرح ڈالی جا سکتی ہے۔

بات یہ ہے کہ جب بندہ بہت زیادہ ”انحصار“ کا عادی ہو جاتا ہے تو اس کا اعتماد بہت ہی بری طرح مجروح ہو کر رہ جاتا ہے۔ پھر ”آخر کب بڑے ہو گے“ نے کہیں کا نہ رکھا۔ خود کام کرنے پڑے تو کچھ ایسے مناظر دیکھنے میں آنے لگے کہ:
آنکھ اٹھتی ہے کہیں پاؤں کہیں پڑتا ہے
سب کی ہے ان کو خبر اپنی خبر کچھ بھی نہیں

جن صاحب کو ہر روز گھر والی یہ یاد دلاتی ہو کہ ملک کے والی وارث آپ ہی تو ہیں، استعفوں کا ٹی وی سے معلوم ہوتا ہو، کسی کے مستعفی ہونے کی گزارش قبول کروں، نہ کروں، کے درمیان اٹک جاتی ہو اور ڈانٹ پر قبول کر لی جاتی ہو، جیسے مسائل ہوں، وہ صاحب کئی ہفتوں سے اپنے تمام وزرا، مشیران اور ترجمانوں کو بلا بلا کر مہنگائی کا حل دریافت کرنے کے با وجود، حل نکالنے میں ابھی تک صرف اتنا کر پائے ہیں کہ پورے پاکستان کی انتظامیہ کو چھوڑ کر اپنی ذاتی ٹائیگر فورس کو اس بات کا سروے کرنے کے لئے میدان میں اتار رہے ہیں کہ شاید وہ مہنگائی کا کوئی سبب ڈھونڈ لائیں۔

جب ہم نے صاحب کی پریشانی کو اس سطح تک آتے دیکھا، تو سوچا، ہمی ان کو مہنگائی سے نمٹنے کا حل بتا دیں۔ بات بہت سیدھی سی ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ 2018ء والی پوزیشن پر واپس آ جائیں۔ سارے بے روزگار ہو جانے والوں کو روزگار پر واپس لیں، مسمار کیے گئے سارے بازار، دکانیں اور گھر پہلے والی حالت میں لے آئیں، بڑھائی گئی قیمتیں اور لگائے گئے ہر قسم کے زائد ٹیکس پرانی سطح پر لے آئیں، ڈالر 95 روپے کا کر دیں، سونا 50 ہزار تولہ پر لے آئیں اور تمام لئے گئے قرضے خاموشی کے ساتھ لوٹا کر چوروں، ڈاکوؤں، لٹیروں اور بد معاشوں کی حکومت والی پوزیشن پر لے آئیں۔

جس دن آپ نے ایسا کر لیا، ہوش رُبا مہنگائی کا چڑھتا سیلاب، سمندر کے جھاگ کی طرح بیٹھ جائے گا۔ موٹر وے بننا شروع ہو جائیں گی۔ لوڈ شیڈنگ ختم ہو جائے گی۔ اورنج ٹرینیں پورے ملک میں دوڑنا شروع ہو جائیں گی اور وہی ترقی کرتا پاکستان، آپ کو آپ کی عینک دکھانا شروع کر دے گی، جو آپ کی نا اہلی کی وجہ سے تباہی و بربادی کی جانب بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •