کیا آپ کرائے کے مکان میں رہتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا آپ کرائے کے مکان میں رہتے ہیں؟ اگر اس سوال کا جواب ہاں میں ہے تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ آپ کی زندگی کس قدر مشکل ہے۔ نہیں آپ کی زندگی مشکل اس لئے نہیں ہے کہ آپ کو ہر ماہ ایک معقول رقم مالک مکان کو ادا کرنی ہے بلکہ زندگی مشکل ادھر ادھر والوں کے تبصروں نے کر دی ہے کہ آپ کا ذاتی گھر کیوں نہیں ہے۔

ہمارے معاشرے میں ”ذاتی گھر“ اور ”سر پر اپنی چھت“ کی سوچ نے زندگی کی بہت سی خوشیوں کو ختم کر دیا ہے۔ اس کی خاطر بہت سے سمجھوتے کیے جاتے ہیں۔ متوسط طبقے میں خاص طور پر یہ سوچ غالب ہے۔ خاندان، رشتہ داروں کے علاوہ سماجی دباؤ بھی مجبور کرتا ہے کہ اپنا ذاتی گھر بنایا جائے۔ بچوں کے رشتے ناتے طے کرتے وقت جن کا اپنا ذاتی گھر نہیں ہوتا وہ بھی دوسرے فریق سے یہ سوال کرتے ہیں۔ اور اگر بد قسمتی سے کوئی ساری زندگی اپنا گھر نہ بنا سکے تو ایسے لوگوں کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ ساری زندگی کرائے کے مکانوں میں رلتے گزار دی۔

یہی معاشرتی دباؤ ایک ایسی دوڑ کا حصہ بننے پر مجبور کر دیتا ہے جس میں پھر بہت کچھ داؤ پر لگ جاتا ہے۔ بچوں کی تعلیم اور جملہ افراد خانہ کی صحت، غذائیت اور بہت سی دوسری چھوٹی چھوٹی خوشیاں جن کی قیمت خاندان کی معاشی حیثیت کے مطابق چند سو سے ہزاروں روپوں تک ہو سکتی ہے وہ سب کچھ ”اپنا گھر“ نامی اژدھے کے پیٹ میں اتر جاتا ہے۔ ہمارے ارد گرد بہت سے ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جن کو بچوں کی فیس سے زیادہ پلاٹ کی قسط ادا کرنے کی فکر ہوتی ہے۔

ایک پلاٹ بن گیا ہے تو ایک اور بنا لیں۔ دونوں کو اکٹھا بیچ کر گھر بنا لیں گے۔ دو تین کمیٹیاں ڈال لیں۔ خاتون خانہ کا زیور بیچ لیں تو بھی پلاٹ لینے میں آسانی ہو جائے گی۔ خدا خدا کر کے پلاٹ مل گیا، اس پر گھر بھی بن گیا ہے، اب سامنے، برابر یا پیچھے والا پلاٹ بکنے لگا ہے تو اس کو خرید لیں گھر بڑا ہو جائے گا، بعد میں بچوں کو علیحدہ ہونے میں آسانی ہو گی۔ اس سب میں کتنی خواہشوں، آرزوؤں کا خون ہوتا ہے یہ کوئی نہیں سوچتا۔

کتنی کمزور اور عملی زندگی میں ناکام شخصیات کی بنیاد یہاں سے رکھ ہوتی ہے یہ حساب کوئی نہیں کرتا۔ ماں کے پاس وقت نہیں کیونکہ گھر کا کام کرنا ہے اور یہ جسمانی مضبوطی اور نظم و ضبط کے اعتبار سے پچھلی نسل کی ماؤں جیسی تو ہیں نہیں کہ تہجد کے وقت اٹھیں اور سارا گھر سمیٹ لیں۔ ملازمہ بھی نہیں رکھی جا سکتی کہ اس سے ”گھر بناؤ“ مہم کو خطرہ ہے۔ اچھا پہننے اوڑھنے جیسی عیاشی کا بھی نہیں سوچا جا سکتا۔ بچے احساس کمتری کا کس قدر شکار ہوتے ہیں یہ بھی اپنے گھر کا تمغہ سجانے کے لئے نظر انداز کرنا پڑتا ہے۔ سیر و تفریح اور اس طرح کی دوسری عیاشیوں کا تو سوچا بھی نہیں جا سکتا۔

یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اس خبط کا شکار اکثر لوگ جب چند مرلوں کی کابک حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر دوسروں کا جینا حرام کر دیتے ہیں۔ اور کچھ ایسے بھی ہیں کہ جب وہ بڑھاپے میں جمع تفریق کرتے ہیں تو بچوں کی تعلیم، تربیت اور عملی زندگی کے مختلف پہلوؤں سے نبردآزما ہونے کی صلاحیتوں کے نام پر اولاد کو کیا دیا ہے اس کا خانہ خالی لیے پھرتے ہیں۔ لیکن اپنا گھر بنا لینے کو ایک کارنامے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

اس حوالے سے یہ دلیل بھی دی جاتی ہے کہ کسی مصیبت کی صورت میں کم از کم سر پر چھت تو اپنی ہو اس لئے تنگی ترشی میں بھی گزارہ کر کے گھر بنا لیا جائے۔ اب یہ برا وقت یا مصیبت تو بنا بنایا گھر بھی بکوا سکتی ہے۔ ہاں جس نے اولاد کی تربیت اور تعلیم کو فوقیت دی ہو گی ان کا برا وقت ختم ہونے کی امید برقرار رہتی ہے۔

کرائے کے مکان میں رہتے ہوئے بھی بہت سے مسائل کا سامنا رہتا ہے جو بذات خود ایک وسیع موضوع ہے اور اگر اتنی استطاعت ہو کہ ذاتی گھر آسانی سے بن سکے تو ضرور بنایا جائے لیکن اسے سر پر سوار کرنے سے پرہیز بہتر ہے۔

اس تحریر کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ذاتی گھر بنایا ہی نا جائے بلکہ توجہ اس طرف دلانا مقصود ہے کہ ترجیحات کا تعین ضرور کر لیا جائے۔ ایسا نا ہو کہ یہ مشن ہماری اور ہم سے منسلک لوگوں کی زندگی کی خوشیوں کو ہی نگل جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سعدیہ مظہر عرفان کی دیگر تحریریں