عمر عزیز کی دوسری دہائی تھی اور اکیسویں صدی کے ابتدائی سال۔ گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین ساہیوال میں سال اول میں داخلہ ہوا، تو ساہیوال کے ایک نواحی گاؤں سے وین کے ذریعے کالج پہنچتے۔ اس وقت تو کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا، لیکن آج کبھی فرصت میں ماضی کے ورق پلٹوں تو محسوس ہوتا ہے، کہ وہ بہت مشکل وقت تھا۔ سردی، گرمی ہر موسم میں گاؤں کے چوک میں وین جب پہنچتی، تو مسجد سے نمازی فجر کی نماز ادا کر کے نکل رہے ہوتے۔
وین ڈرائیور ہمارے گاؤں کے علاوہ راستے میں مزید دو گاؤں سے بھی طالبات لے کر ہمیں کالج پہنچاتا۔ واپسی پر یہی مشق پھر دُہرائی جاتی۔ سال اول میں پہلے دن اور وین میں سفر کے بھی پہلے دن، جب اگلے گاؤں سے طالبات وین میں بیٹھیں، تو سال چہارم کی صوفیہ نام کی طالبہ سے بھی تعارف ہوا۔ وین صوفیہ کے گھر کے باہر کھڑی ہوتی، کیوں کہ یہ گاؤں کا چوک تھا۔ عام اور سادہ سا گھر مکینوں کی سفید پوشی کا گواہ تھا۔ گریجوایشن کے بعد صوفیہ نے ساہیوال سے ہی ایم کام بھی کیا۔ ایم۔ کام کرنے کے فوراً بعد اسے ساہیوال پوسٹ آفس میں ملازمت مل گئی۔ اوقات ملازمت مختلف ہونے کی وجہ سے صوفیہ نے وین چھوڑ دی تھی۔ اسی عرصے میں ایک دفعہ ملاقات ہوئی تو معلوم ہوا کہ اس نے ملازمت کے پہلے ایک، ڈیڑھ سال ہی میں محکمانہ امتحان پاس کر کے مزید ترقی کر لی ہے۔ پھر وقت کی گرد میں جیسے زندگی میں ملنے والے کچھ کردار دھندلا جاتے ہیں ایسے ہی صوفیہ بھی کبھی یاد نہیں آئی۔ کچھ یہ کہ بہت قریبی تعلق بھی نہیں تھا۔
Read more