قلعہ روہتاس اور قلم کی آوارہ گردی

لاہور میں سموگ اس سال ایسے وارد ہوئی کہ منہ میں مٹی کا ذائقہ محسوس ہونے لگا۔ بد سلیقہ اور پھوہڑ گھرانوں میں ’ویلا لنگانے‘ (وقت گزارنے) کے لئے جو عارضی اقدامات کیے جاتے ہیں، ویسی ملی فرصت کے عوض جان چھڑا کر قلعہ رہتاس جا پہنچے جہاں تاریخ فراموشی کی چادر اوڑھے سو رہی ہے۔ ذہن سوال کرتا ہے کہ کیسا ہو گا وہ وقت جب شیر شاہ سوری نے مغلوں کے وفادار گکھڑوں کی سر زمین پر روہتاس

Read more

بجلی کا بل دماغ کو ”چڑھ“ گیا ہے

خوش اور شادمان قوموں کی عالمی درجہ بندی میں پاکستان کا نمبر 103 ہے۔ درجہ بندی کے معیار پر بے شمار سوالات کے باوجود بے یقینی اس قدر ہے کہ خیال آتا ہے کہیں اگلے سال ہم فہرست میں آخری نمبر پر نہ ہوں۔ ہم تو وہ قناعت پسند قوم ہیں کہ خوشی کا معیار بھی کبھی بہت بلند نہیں رکھا تھا۔ بنیادی سہولیات کچھ حد تک میسر تھیں اور اس کی آخری حد یہ تھی کہ تین وقت کا

Read more

موسم سرما: راحت یا امتحان؟

سردیوں میں دھند کا آغاز ہوتے ہی دل چاہتا ہے کہ کسی پہاڑی علاقے کی خواہش تو کیا کرنی، یہیں اپنے لاہور کے کسی پارک کی دھند بھری صبح میں گم ہو جائیں۔ یا پھر نماز فجر کے بعد نیند میں گم سارے گھر کی خاموشی کو محسوس کرتے ہوئے چائے کا ایک کپ۔ اور اگر یہی چائے کا کپ کسی اور کے ہاتھوں سے مل جائے تو دنیا جنت محسوس ہونے لگتی ہے۔ ہیٹر کے آگے پڑے رہیں اور

Read more

ریٹائرڈ مرد حضرات کے نام

دھول مٹی سے اٹا ہوا گھر، ادھر ادھر بکھری ہوئی چیزیں، برآمدے میں پڑے تخت پر میلی سی رضائی، ایک طرف پلاسٹک کی دو کرسیاں اور ایک میز۔ ان میں سے ایک کرسی پر بیٹھے چچا جان رات کی روٹی جو ان کی بیٹی نے بھیجی تھی اسے ناشتے کے وقت چائے میں بھگو کر کھا رہے تھے۔ یہ تھے چند سال پہلے ہمارے مالک مکان جو بیوی کی وفات اور بچوں کی شادیوں کے بعد زندگی گزار رہے تھے

Read more

سرما کی راتوں کے ساتھ جڑی رومانویت

سرما کی راتوں کے ساتھ جڑی رومانویت ہر موسم سرما کے آغاز میں جکڑ لیتی ہے۔ وہ آدھی رات تک جاگنا، ناولز پڑھنا اور صبح سے پہلے ختم کر کے ہی سکون لینا، لکڑیوں کے چولہے کی آگ بجھنے کے بعد دہکتے کوئلوں کے سامنے دیر تک بیٹھنا، سردیوں کی بوندا باندی جو اگر جمعرات کو شروع ہوتی تو بزرگوں کے بقول

Read more

کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں

گزشتہ سال اسی مہینے ایم۔ اے۔ او کالج کے ایک جواں سال لیکچرر کی خودکشی کا واقعہ پیش آیا تھا جس کے نتیجے میں کالج پرنسپل کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ اس کے بعد اس حوالے سے کچھ بھی سننے میں نہیں آیا۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ تعلیمی ادارے چاہے وہ سکولز ہوں یا کالجز ان میں تدریسی عملہ کو سربراہان ادارہ اور محکمے کی جانب سے درپیش مسائل اور بے جا دباؤ کا جائزہ لیا جاتا۔ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی غیر سنجیدگی، اپنی ذمہ داریوں کو ایمانداری سے ادا نہ کرنے اور سربراہ ادارہ سے تعاون نہ کرنے کے حوالے سے اکثر بات کی جاتی ہے لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی خاصا بھیانک ہے۔

Read more

کیا آپ کرائے کے مکان میں رہتے ہیں؟

کیا آپ کرائے کے مکان میں رہتے ہیں؟ اگر اس سوال کا جواب ہاں میں ہے تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ آپ کی زندگی کس قدر مشکل ہے۔ نہیں آپ کی زندگی مشکل اس لئے نہیں ہے کہ آپ کو ہر ماہ ایک معقول رقم مالک مکان کو ادا کرنی ہے بلکہ زندگی مشکل ادھر ادھر والوں کے تبصروں نے کر دی ہے کہ آپ کا ذاتی گھر کیوں نہیں ہے۔

Read more

ساہیوال میں ایک اور سانحہ

عمر عزیز کی دوسری دہائی تھی اور اکیسویں صدی کے ابتدائی سال۔ گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین ساہیوال میں سال اول میں داخلہ ہوا، تو ساہیوال کے ایک نواحی گاؤں سے وین کے ذریعے کالج پہنچتے۔ اس وقت تو کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا، لیکن آج کبھی فرصت میں ماضی کے ورق پلٹوں تو محسوس ہوتا ہے، کہ وہ بہت مشکل وقت تھا۔ سردی، گرمی ہر موسم میں گاؤں کے چوک میں وین جب پہنچتی، تو مسجد سے نمازی فجر کی نماز ادا کر کے نکل رہے ہوتے۔

وین ڈرائیور ہمارے گاؤں کے علاوہ راستے میں مزید دو گاؤں سے بھی طالبات لے کر ہمیں کالج پہنچاتا۔ واپسی پر یہی مشق پھر دُہرائی جاتی۔ سال اول میں پہلے دن اور وین میں سفر کے بھی پہلے دن، جب اگلے گاؤں سے طالبات وین میں بیٹھیں، تو سال چہارم کی صوفیہ نام کی طالبہ سے بھی تعارف ہوا۔ وین صوفیہ کے گھر کے باہر کھڑی ہوتی، کیوں کہ یہ گاؤں کا چوک تھا۔ عام اور سادہ سا گھر مکینوں کی سفید پوشی کا گواہ تھا۔ گریجوایشن کے بعد صوفیہ نے ساہیوال سے ہی ایم کام بھی کیا۔ ایم۔ کام کرنے کے فوراً بعد اسے ساہیوال پوسٹ آفس میں ملازمت مل گئی۔ اوقات ملازمت مختلف ہونے کی وجہ سے صوفیہ نے وین چھوڑ دی تھی۔ اسی عرصے میں ایک دفعہ ملاقات ہوئی تو معلوم ہوا کہ اس نے ملازمت کے پہلے ایک، ڈیڑھ سال ہی میں محکمانہ امتحان پاس کر کے مزید ترقی کر لی ہے۔ پھر وقت کی گرد میں جیسے زندگی میں ملنے والے کچھ کردار دھندلا جاتے ہیں ایسے ہی صوفیہ بھی کبھی یاد نہیں آئی۔ کچھ یہ کہ بہت قریبی تعلق بھی نہیں تھا۔

Read more

وبا کے دنوں کے بعد

وبا کے دنوں میں ملی فرصت میں کتابیں پڑھیے، پودے لگایے، فلمیں اور ڈرامے دیکھیے، فطرت کو محسوس کیجیے وغیرہ وغیرہ۔ یہ وہ مشورے ہیں جو لاک ڈاؤن کے دوران وقت گزاری کے حوالے سے پڑھنے کو ملے۔ یعنی جس فرصت کو ترستے تھے وہ ملی تو اس سے لطف اندوز ہونا بھول گئے۔ ایک اور دلچسپ پہلو کے حوالے سے خبریں پڑھنے کو ملیں کہ مردوں کی اکثریت کی فراغت کی وجہ سے کنڈوم کی ڈیمانڈ بڑھ گئی۔ دنیا کی آبادی میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا۔ دوسری طرف میاں بیوی کے زیادہ وقت گھر میں گزارنے سے گھریلو تشدد اور طلاق کی شرح بڑھنے کی رپورٹس بھی سامنے آئیں۔

Read more