جبار آزاد منگی کی سندھی میں ریڈیو اسکرپٹس کی کتاب: ”ایٔ عشق جو آواز“ (یہ عشق کی آواز)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مختلف زبانوں کے نثر میں ایسے قلم کاروں نے، جن کا تعلق ریڈیو یا ٹیلی وژن سے رہا ہے، اپنے لکھے ہوئے اسکرپٹس کو کتابوں کی صورت میں ترتیب دے کر طبع کروایا ہے، تا کہ وہ گفتگو، جو ایک بار نشر ہو کر ہوا میں اڑ گئی، وہ محفوظ ہو سکے اور اس میں شامل تحقیق، مستقبل کے محققین کے لئے حوالے کے طور پر بھی کام آ سکے۔ ورنہ ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن کے پاس خود اپنے یادگار ترین پروگراموں کی نہ ریکارڈنگز محفوظ ہیں، نا ہی ان کے اسکرپٹ۔

کہنے کو تو پاکستان ٹیلی وژن کے تمام مراکز کے اندر اسکرپٹ لائبریری موجود ہیں، مگر ان کا احوال یہ ہے کہ مجھے جب کبھی جس کسی ٹیلی وژن پروگرام کا اسکرپٹ درکار ہوتا ہے، تو وہاں دستیاب نہیں ہوتا۔ ریڈیو پاکستان کے آرکائیوز کا احوال تو نا ہی پوچھیں! جہاں کہنے کو تو تمام صوبائی دار الحکومتوں کے ریڈیو اسٹیشن پر ”سنٹرل پروڈکشن یونٹ“ (مرکزی ادارۂ پیش کش) قائم ہیں، جن کا کام، نا صرف ریڈیو پاکستان کے تمام اسٹیشنوں کے لئے موسیقی اور گفتگو کے پروگرام، خواہ فیچرز بنا کر انہیں فراہم کرنا ہے، بلکہ اپنے اپنے خطے کے صوتی اثاثے کو محفوظ کرنا بھی ہے۔

میں نے متعدد بار ریڈیو پاکستان کے کراچی میں قائم ”سنٹرل پروڈکشن یونٹ“ سے مختلف ریکارڈنگز کے حصول کے لئے رابطہ کیا۔ اپنا ادارہ ہونے کی وجہ سے مجھے اس کے آرکائیوز تک رسائی بھی ملی، لیکن مجھے کبھی بھی مطلوبہ ریکارڈنگز نہ مل سکیں۔ خود ریڈیو پاکستان کی نایاب پیش کش کی ریکارڈنگز کوئی خدا کا بندۂ نیک، کبھی یو ٹیوب پر اپ لوڈ کر دیتا ہے، تو مل جاتی ہیں، ورنہ وہ ریکارڈنگز خود ریڈیو پاکستان کے پاس نہیں ملتیں۔ ایسی گمبھیر صورت احوال میں اگر اشفاق احمد صاحب کے ”توتا کہانی“ اور ”تلقین شاہ“ جیسے شہرہ آفاق سلسلوں کے اسکرپٹس شائع ہو کر ہمیں نہ ملتے، تو وہ ہمیں ریڈیو پاکستان کی آرکائیوز میں کبھی نہ مل پاتے۔

اردو میں ریڈیو اور ٹیلی وژن کی متعدد کتب، نثر کی اس صنف کے حوالے سے ہمیں ملتی ہیں، مگر سندھی جیسی زرخیز زبان میں ہمیں اس صنف پر زیادہ کتابیں نہیں ملتیں۔ جب عظیم قلم کاروں کی جانب سے کی گئی تقاریر، خطوط اور انٹرویوز کی کتابیں ترتیب دی جاتی ہیں، تو ان میں کہیں ان کا ریڈیو یا ٹیلی وژن کے لئے لکھا ہوا ایک آدھ اسکرپٹ بھی شامل کر لیا جاتا ہے، ورنہ خیر!

ماضیٔ قریب میں اس حوالے سے سینیئر براڈ کاسٹر کوثر برڑو اور ریاضت برڑو کی کتابیں سندھی میں ریڈیو اسکرپٹس کے حوالے سے نثر میں ایک اچھا اضافہ ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک اور کڑی، ہمارے دوست، سینیئر کالم نگار، افسانہ نویس اور ریڈیو کمپیئر جبار ”آزاد“ منگی کی اسی برس (جنوری 2020ء میں) شائع ہونے والی، سندھی میں ریڈیو اسکرپٹس کی کتاب، بعنوان: ”ایٔ عشق جو آواز“ بھی ہے، جس کے نام کا ترجمہ ہو گا ”یہ عشق کی آواز“۔

یاد رہے کہ یہ مصنف کی اسی صنف (ریڈیو اسکرپٹس) پر لکھی ہوئی، دوسری کتاب ہے۔ اس سے پہلے ان کی اولین کتاب ”لفظ ہوا میں خوشبو“ بھی ریڈیو اسکرپٹس ہی پر مشتمل کتاب تھی۔ چوں کہ جبار آزاد، لگ بھگ 1997ء سے ریڈیو پاکستان لاڑکانے سے کمپیئر کی حیثیت سے وابستہ ہیں، اور اس کے ڈسک جوکی پروگرام ”روح رہانڑ“ (قیل و قال) سمیت مختلف پروگراموں کی مسلسل میزبانی کر رہے ہیں۔ اس لئے روزانہ کی بنیاد پر ان کا قلم ان ریڈیو شوز کے لئے اسکرپٹس تحریر کرتا رہتا ہے۔ جس وجہ سے یہ تخلیق کا ایک ایسا مسلسل عمل ہے، جو ان کے یہاں تواتر کے ساتھ جاری رہتا ہے۔

اس سے پہلے جبار ”آزاد“ کی مندرجہ بالا دو کتب کے علاوہ چار اور کتب بھی شائع ہو چکی ہیں، جن میں، ان کے افسانوں کا مجموعہ ”اندر کارو کاں“ (اندر سے میں کالے کوے کی مثال)، بچوں کے لئے کالم کہانیوں پر مشتمل کتاب ”ٹموں شرارتی“، اپنے شہر اور علاقے (سندھ کے ضلع قنبر شہداد کوٹ اور اس کے تعلقہ نصیر آباد) کی جغرافیائی ہیئت کے حوالے سے لکھی ہوئی کتاب ”جاگرافی“ (جغرافیہ) اور مقامی صوفی شاعر، نور فقیر بادانڑی کا ترتیب دیا ہوا سندھی کلام، ”انت بحر عمیق جو“ (ذات کا گہرا سمندر) شامل ہیں۔

مذکورہ کتاب ”ایٔ عشق جو آواز“ کو جبار آزاد نے معروف براڈ کاسٹر اور اس شعبے میں اپنے رہنما، جہانگیر قریشی کے ساتھ ساتھ اپنی پانچ بچیوں، سنجیدہ آزاد منگی، کائنات آزاد منگی، فضیلہ آزاد منگی، عذرا جبیں آزاد منگی اور فخر النساء آزاد منگی کے نام منسوب کیا ہے۔

کتاب میں 6 عدد چیدہ موضوعات پر مضامین شامل ہیں۔ جن کے تحت مزید کئی ذیلی موضوعات پر اسکرپٹس دیے گئے ہیں۔ ان خاص موضوعات میں (1) ایٔ عشق جو آواز ”(یہ عشق کی آواز) (2) جیکی منجھ جہاں (جو کچھ دنیا میں موجود ہے) (3) لطیفی لات (پیغام حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی) (4) معلومات جے جہان میں جھاتی (جہان معلومات پر ایک نظر) (5) ڈاہپ بھریا ڈاہن جا ڈس (نقیبان شعور کے دانش سے بھر پور مشورے ) اور (6) عالمی ڈینہں (عالمی دن)، جس میں مصنف نے سال بھر کے دوران میں منائے جانے والے عالمی دنوں کی تفصیلات درج کی ہیں، کہ کون سا دن کیوں اور کب منایا جاتا ہے۔ کب سے منایا جا رہا ہے۔ اور اس کے منائے جانے کی افادیت کیا ہے)

اس کتاب کا پبلشر نوٹ واحد کاندھڑو نے تحریر کیا ہے، جب کہ دیباچہ، سینیئر براڈ کاسٹر کوثر برڑو نے لکھا ہے۔ صفحہ پشت (بیک ٹائٹل)، مصنف کے دیرینہ دوست، ساتھی اور ہم پیشہ ہونے کی حیثیت سے راقم نے تحریر کیا ہے۔ ”عرض مصنف“ کے طور پر صاحب کتاب نے بھی گزارش احوال واقعی رقم کیا ہے۔ جس کے بعد کتاب میں تقریباً چھے نگارشات ایسی شامل کی گئی ہیں، جو تمام کی تمام، مصنف کے ادارے (ریڈیو پاکستان لاڑکانہ) کے ساتھیوں کے ان کے بارے میں تعریفی کلمات پر مشتمل ہیں۔

اس کتاب کو ”ایلسا پبلیکیشن حیدر آباد، سندھ“ نے شائع کیا ہے۔ جس کی کمپیوٹر کمپوزنگ محمد فہد آزاد منگی نے انجام دی اور سرورق، قمر الزمان آزاد منگی نے ڈیزائن کیا ہے۔ 176 صفحات پر مشتمل ریڈیو اسکرپٹس کی اس کتاب کی قیمت 300 روپے سکہ رائج الوقت ہے۔

امید کی جاتی ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے جبار آزاد، نئے نئے ریڈیو پروگرام کرتے رہیں گے، تو اور کئی متنوع موضوعات پر اسکرپٹ کرتے رہیں گے۔ اور سندھی ادب کو اس صنف پر اور بھی کتابوں کا تحفہ دیتے رہیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •