اٹھارہ اکتوبر کی ادھوری کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صاحب بڑا کنفیوژن ہے اور کہنا یہ ہے کہ شور کیوں مچا ہے۔ کچھ تو شاید اک معیشت پہ پڑنے والا دباو ہے جس نے کرونا وائرس کے ازسرنو پھیلاو کے بعد دو ہزار بیس میں ایک بڑی پریشانی اور تفکر کو جنم دیا جس کا دائرہ کار ہر ایک طبقے جس کا تاثر ہر شعبہ ہائے زندگی کو اک نئے بدلاو کی جانب بہائے لیے جا رہا ہے۔

اور دیکھیے کہ اسی دو ہزار بیس جسے بیس بیس بھی کہا جاتا ہے اور جو اس صدی کا ایک وبائی یا مہا ماری والا سال بھی کہلا رہا ہے، اسی سال میں سیارہ زمین میں ہر سو اک پریشانی اور فکر کا دور دورہ ہے۔ اور مشکلوں میں ہم بسا اوقات بھول جاتے ہیں کہ تاریخ جو رقم ہوئی تھی اس کا اس ساری پریشانی اور فکر سے کیا براہ راست رشتہ ہے؟

مگر جیسا بھی ہے، کم یا زیادہ، چاہے بہت سرخ سا یا سبزی مائل ہو یا سیاہی کی جانب جاتا ہوا۔ رنگ بولتا ہے اور خاموشی سے۔ تو بولنے سے روک دو پھر اپنی چمک سے بات کرے گا۔ منظر میں ڈھل جائے گا۔ تصویر بن کر اخبار اور اسکرین پر پکارے گا۔

تو تاریخ میں کم یا زیادہ، ادھورا یا مکمل، سطحی سا یا گہرائی لیا ہوا اور مختصر یا تفصیل کے ساتھ بیان کیے ہوئے۔ واقعات کا ایک لگاتارسلسلہ ہے جو یاد اور فراموشی کے مابین اپنا وجود رکھتا ہے۔ اور اگر اور کہا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ ان کو دیکھنے یا سمجھنے کا نظریہ یادآوری اور فراموشی کے مابین سفر کرتا ہے کیوں کہ واقعات برپا ہوئے اور پھر تاریخ کا حصہ بنے چاہے وہ تاریخ ہمیں معلوم ہے یا نہیں۔ اور یہ بھی کہنا واجب ہوگا کہ اگر تاریخ لکھی گئی تو تشبیہا لکھنے والا قلم یا واقعہ کو محفوظ کرنے والا آلہ (ایکیوپمنٹ) کس کے ہاتھ یا سوچ کے زیراثر تھا۔ وہ سوچ اور نظریہ کیا تھا جو محفوظ کرنے والے ذہن کو متاثر یا رہنمائی کر رہا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ جسم مر سکتا ہے ہے ذہن نہیں اور اس کا کچھ ترجمہ کیا جاسکتا ہے کہ چہرہ ختم ہو سکتا ہے خیال (نظریہ یا وچار) نہیں۔ تو واقعہ زندہ رہتا ہے مگر اپنے راوی کے لہجے میں اور ایک ہی وقت میں اس واقعے کے کئی روپ بن جاتے ہیں۔ ہم روپ یاد کرنے لگتے ہیں اور شاید واقعہ اس روپ میں گم ہوجاتا ہے مگر مرتا نہیں۔

واقعہ بہت مضبوط، طاقت ور اور متاثرکن ہوتا ہے جو زیادہ تر وقت کی قید سے آزاد ہو کر اپنا سفر جاری رکھتا ہے اور روپ بدلتا رہتا ہے مگر کتنے ہی روپ دھار لے اس کا اصل اپنا وجود قائم رکھتا ہے اور یہی اس کی اصل طاقت اور اثر ہے۔

اٹھارہ اکتوبر بھی ایک ادھوری کہانی کے طور پر زندہ ہے اور جیسا کہ ہوتا آیا ہے ادھوری کہانی سوالوں پر ختم سی ہوتی نظر آتی ہے مگر وہ سوال اس کہانی کو ایک نئی زندگی دے دیتے ہیں اور بہت سے سوال بہت سی متعلقہ اور بظاہر غیرمتعلقہ کہانیوں کو جنم دیتے ہیں۔

سوال مگر تنگ بھی کرتے ہیں اور اگر کسی موسمی دباو یا وقتی شدت کے زیراثر ان کا کہنا رواج میں نہ رہے تو بھی خیال میں اٹکھلیاں کرتے ہیں یا خواب بن کر سامنے آ جاتے ہیں۔

اٹھارہ اکتوبر دو ہزار سات کی ادھوری کہانی مگر اکثریت کے لیے ایک ایسی کہانی ہے جو ابھی تک سوال کرتی ہے۔ وہاں لاڑکانہ کی کچی زمین پر بنی بہت سی قبریں ہیں جن کے کتبے ان کی شناخت کا سوال بنے ہوئے ہیں۔ اگر وہ کتبے وقت کے ہاتھوں اپنا وجود کھو بھی بیٹھیں تو ان کے لفظ شاید پوری طرح نہ مٹائے جاسکیں گے کہ وہ خیال، یاد اور تاثر بن چکے ہیں بوڑھے سپاہیوں کی طرح جو مرتے نہیں مگر دھیمے پڑنے لگتے ہیں اور پھر کسی دن ایک تصویر، ایک سوال، ایک کہانی کے روپ میں زندہ ہو جاتے ہیں۔

ایک کسک کی مانند جو یاد نہیں رہتی، مگر کبھی کبھی اپنا وجود محسوس کرانے کے لیے یک دم زندہ ہوتی ہے اور پورے وجود میں لہر کی صورت سفر کرتی ہے اور ہلا کر رکھ دیتی ہے۔

کسی نے کہا کہ جان بوجھ کر ادھوری رکھی جانے والی کہانی ایک خاموشی سے انے والے طوفان کا سندیسہ بھی بن جانے کا امکان رکھتی ہے۔ کسی نے کہا کہ کہانی کا آخری حصہ بسا اوقات بالکل الگ اور انوکھا سا ہونے کی روش پر گامزن ہوجاتا ہے کہ پانی راستہ ڈھونڈھ ہی لیتا ہے۔

بارش سے پہلے اک گھٹن کا ماحول تو روایت ہے مگر سوچنا یہ ہے کہ بارش کے نام پر پھوار ہو یا کڑکتی چمکتی بجلیوں کے ہم راہ پانی مسلسل برسے گا۔

لایعنی سے الفاظ اور مبہم سے اشارے شاید سب کے لیے نہیں ہوتے مگر جو سمجھنے کے لیے کچھ لمحے رائیگاں سے جانے دیں اور فائدے یا نقصان کے پیمانوں کو اک طرف رکھ دیں۔

اٹھارہ اکتوبر کی نہ مرنے والی اور اک یاد کا روپ دھارنے والی کہانی اپنے سوالوں کے ساتھ زندہ ہے اور ہر سال بارش کی مانند آجاتی ہے کہ گویا اک موسم بن گئی ہو اور ہر موسم کے اپنے رنگ و ڈھنگ ہوتے ہیں جو کبھی کبھی حیران کرنے پر اتر آتے ہیں اور توقعات کے برعکس اپنی شدت اور انداز سے اچنبھے میں بھی ڈال دیتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •