نیو خان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان اور بالخصوص پنجاب کے رہنے والے کسی اور سے واقف ہوں یا نہ ہوں، ”نیو خان“ سے ضرور واقف ہوتے ہیں۔ ویسے تو پاکستان میں بندو خان سمیت کئی دیگر خانوں کو بھی لوگ جانتے ہیں لیکن جو شہرت پاکستان میں نیو خان کو نصیب ہوئی، دیگر خان اس کے قریب قریب بھی نہیں پہنچ سکے۔

نیو خان بنیادی طور پر ایک ٹرانسپورٹ کمپنی ہے جو مسافر بسیں چلاتی ہے۔ ویسے تو پاکستان میں کئی سیاست دان بھی یہ کام کرتے ہیں لیکن نیو خان صرف بسیں چلاتا ہے۔

پاکستان میں کئی ٹرانسپورٹ کمپنیاں مسافروں کو ادھر ادھر کرنے کا کام کرتی ہیں۔ کچھ کمپنیاں یہ کام مسافروں کی شرط کے بغیر بھی کر دیتی ہیں۔ ایسی کمپنیوں کے بارے میں اب کہا جانے لگا ہے کہ یہ کمپنیاں نہیں چلیں گی۔ بہرحال ایسی کمپنیاں چلیں یا نہ چلیں وہ تو ایک الگ معاملہ ہے فی الحال ہمارا موضوع ”نیو خان“ ہے۔

نیو خان پچاس کی دہائی میں معرض وجود میں آیا۔ ایک دو سال ادھر ادھر ہو سکتے ہیں لیکن اس کی بھی خیر ہے، دراصل اہمیت اس کے وجود میں آ جانے کی ہے۔ نیو خان کی تاریخ پیدائش کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ایک طویل عرصے تک دنیا جس کو نیو خان کی تاریخ پیدائش سمجھتی رہی کچھ عرصہ پہلے معلوم ہوا کہ دراصل وہ اس کی تاریخ پیدائش نہیں ہے بلکہ وہ اپنی تاریخ پیدائش سے پونے دو ماہ پہلے ہی دنیا میں آ گیا تھا۔

نیو خان کا بچپن ویسا ہی تھا جیسا سب کا ہوتا ہے اس لیے ہم اس کے بچپن کو ایک طرف رکھتے ہوئے اس کی جوانی کی طرف چلتے ہیں۔ جوانی میں کمائی کرنا ہر ایک کا خواب ہوتا ہے، نیو خان کا بھی یہی خواب تھا۔

کچھ لوگ کمائی کے لیے نوکری کو ترجیح دیتے ہیں اور کچھ کاروبار کو۔ کچھ عرصہ سے ایک ٹرم ”سیلف ایمپلائیڈ پروفیشنل“ بہت معروف ہوئی یعنی وہ لوگ جو اپنی خدمات مہیا کرنے کے عوض کمائی کرتے ہیں۔ نیو خان بھی ایک سیلف ایمپلائیڈ پروفیشنل بنا اور کمانا شروع کر دیا۔

نیو خان نے اپنا دھندا ایک بس سے شروع کیا۔ اور کافی عرصہ تک ایک ہی بس سے دھندا چلاتا رہا۔ آپ کو شاید اس پر یقین نہ آئے مگر یہ سچ ہے اور یہ جاننا یقیناً دلچسپ ہوگا کہ نیو خان کے دھندے کی ابتدا میں برطانیہ یعنی یو کے کی ایک کمپنی کا تعاون شامل تھا۔

یو کے کی کمپنی کے تعاون سے دھندا چل نکلا اور نیو خان نے پہلی بس سڑک پر ڈال لی۔ نیو خان نے اپنے دھندے کا بنیادی اصول محفوظ، آرام دہ اور سستا سفر رکھا۔ چونکہ اس بنیادی اصول میں تیزرفتاری اور منزل تک جلد پہنچنے کے اہداف شامل نہیں تھے اس لیے شروع میں نیو خان کو مسافروں کی زیادہ توجہ نہ مل سکی اور نیو خان ایک ہی سیٹ والی بس چلاتا رہا۔

نیو خان کے دھندے میں نیا موڑ اس وقت آیا جب نیو خان نے لاہور میں اپنا دفتر کھولا۔ لاہور میں دفتر کھولنے کی دیر تھی کہ مسافروں کا رش بڑھ گیا اور نیو خان کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔

کمپنیاں وقت کے ساتھ ساتھ اپنا کارپوریٹ برانڈ بھی تبدیل کرتی رہتی ہیں نیو خان نے بھی وقت کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے اپنا کارپوریٹ برانڈ ”نیو خان روڈ رنرز“ منتخب کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے سڑکوں پر بادشاہی قائم کر لی۔

دیگر کمپنیوں کے اکتائے ہوئے مسافر اس نئے برانڈ میں دلچسپی لینے لگے اور نیو خان کی بسوں میں اضافہ ہونے لگا۔ پاکستان میں اے سی بسوں کو متعارف کروانے والا بھی نیو خان ہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نیو خان وہ پہلا برانڈ تھا جس نے نائٹ سروس بھی اپنے دھندے میں متعارف کروائی۔ نوجوان نسل دن میں اپنے دیگر مشاغل میں مصروف رہنے کی وجہ سے نائٹ سروس کو ترجیح دیتی ہے چنانچہ نیو خان کی یہ نئی سروس نوجوان نسل کو بھا گئی اور دیکھتے ہی دیکھے نیو خان کی مقبولیت کو چار چاند لگ گئے۔

نیو خان کو پاکستان کی تاریخ کے طویل ترین ٹور مینیجر کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ ٹور 126 دن جاری رہا تھا اور اس ٹور نے مقبولیت کے ریکارڈ توڑ ڈالے تھے۔

نیو خان اس وقت بس کمپنیوں میں سرفہرست ہے۔ نیو خان کے ساتھ چند دیگر چھوٹی موٹی بس کمپنیاں بھی مل گئی ہیں اور اس وقت نیو خان لگ بھگ ایک سو اسی بسوں کے ساتھ پاکستان کے ٹرانسپورٹ بزنس پر چھایا ہوا ہے۔

نیو خان کے دھندے میں عوامی ہینو بسوں کے علاوہ لگژری مرسڈیز بسیں اور ویگنیں بھی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ تکنیکی طور پر مضبوط امپورٹڈ ڈائیوو بسیں بھی نیو خان کے دھندے میں شامل ہیں۔ اور نیو خان اس وقت پاکستان کے ہر صوبے میں اپنی بسیں چلا رہا ہے۔

نیو خان کے کاروباری حریفوں میں بلوچ طیارہ اور اسکائی ویز وغیرہ شامل ہیں۔ بلوچ طیارہ ماضی میں نیو خان اور اسکائی ویز پر حاوی رہا مگر اب پرانی بسوں اور صرف ایک صوبے میں دھندا کرنے کی وجہ سے مسافر اسے کم ترجیح دیتے ہیں۔

اسکائی ویز والے نیو خان کے مضبوط حریف ہیں اور نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک بھی اپنی دھندا جاری رکھے ہوئے ہیں اور گاہے بگاہے نیو خان کو للکارتے رہتے ہیں۔

اسکائی ویز والے اپنے سنہرے ماضی کی وجہ سے آج کل نیو خان اور محکمہ ٹرانسپورٹ کو بھی للکار رہے ہیں لیکن ایک بات ظاہر ہے اور وہ یہ کہ ٹرانسپورٹ کے دھندے میں جس کی بسیں زیادہ ہوتی ہیں وہی دھندے پر راج کرتا ہے اور فی الوقت نیو خان کے پاس بسوں کی تعداد زیادہ ہے اور اس کا ایکسیڈنٹ ریٹ بھی اپنے حریفوں کے مقابلے میں کم ہے اس لیے مستقبل قریب میں نیو خان کے دھندے کو بلوچ طیارے اور اسکائی ویز سے کوئی قابل ذکر خطرہ دکھائی نہیں دیتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اویس احمد

پڑھنے کا چھتیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔ اب لکھنے کا تجربہ حاصل کر رہے ہیں۔ کسی فن میں کسی قدر طاق بھی نہیں لیکن فنون "لطیفہ" سے شغف ضرور ہے۔

awais-ahmad has 118 posts and counting.See all posts by awais-ahmad