حکومتیں تقریر کا جواب تقریر سے نہیں کارکردگی سے دیتی ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم سمیت حکومت کے ترجمان خوش بیان و شیریں دہن کو جب سپہ اور سپہ سالار کا اور سپہ کے ریٹائرڈ افسروں اور محکمہ تعلقات عامہ کے نقیبوں کو اس لولی لنگڑی اور پرلے درجے کی نادان اور نخرے والی حکومت کا دفاع کرتے ہوئے دیکھتا ہوں، تو اپنی بے بصیرتی اور کم مائیگی پر رونا آتا ہے اور اپنا ہی سر پیٹ لینے کو جی چاہتا ہے۔

حکومت پہلے کہتی تھی کہ پی ڈی ایم بھان متی کا کنبہ ہے، جو اپنی کرپشن کو بچانے اور مقدمات کو ختم کروانے کے لیے عدالتی صادق و امین حکومت کے خلاف سیاسی مہم جوئی پر اتر آئی ہے۔ یہ پاکستان کے ٹھگوں اور ڈاکووٴں کا گروہ ہے، جسے پاکستانی عوام اچھی طرح جان چکے ہیں۔ لہٰذا اب یہ ان کے جھانسے میں نہیں آئیں گے۔ ان کی ”جلسیوں“ سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا، نہ ہم گھبرانے والے ہیں۔ حکومتی ترجمان ببانگ دہل اعلان فرما رہے تھے کہ اگر پی ڈی ایم نے جلسے جلوسوں کی کوشش کی تو یہ خود ہی ایکسپوز ہو جائیں گے۔ وغیرہ۔

مگر لگتا ہے کہ حکومت اندرون خانہ گھبرائی ہوئی تھی، کیوں کہ اس حکومت میں مہنگائی نہ صرف یہ کہ پاکستان کی تاریخ میں بلند ترین سطح تک پہنچ چکی ہے بلکہ پورے جنوبی ایشیا میں ہمارا ملک مہنگائی کے حوالے سے نمبر ون ہے۔ ادھر ڈی چوک پر لیڈی ہیلتھ ورکر، آل پاکستان کلرک ایسوسی ایشن اور اساتذہ اور ینگ ڈاکٹرز سمیت چھے محکموں کے ہزاروں ملازمین کئی روز سے دھرنا باز حکومت کے خلاف دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ ہماری جدید ریاست مدینہ کے ”امیر الموٴمنین“ کی اس حوالے سے سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ وہ دھرنے میں جانے کے بجائے پناہ گاہوں کے افتتاح کے موقع پر مجبور اور بے سہارا ”پناہ گزینوں“ کے ہمراہ کھانا کھانے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے تصویریں وائرل کروانا زیادہ مستحسن خیال کرتے ہیں۔

بعد میں پتا چلتا ہے جن ”پناہ گزینوں“ کے ساتھ وہ تصویریں بنا رہے تھے، وہ تو ایجنسیوں کے اہل کار تھے۔ خیر حکومت میں یہ سب ڈراما بازیاں کرنا پڑتی ہیں۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ دو ہزار دس کے سیلاب زدگان کی امداد کے لیے جو ماڈل کیمپ لگائے جاتے تھے، وزیر اعظم کے وہاں سے رخصت ہوتے ہی ان کی بساط لپیٹ دی جاتی تھی۔ اب اگر دھرنا باز حکومت یہی کارروائی پناہ گاہوں کے حوالے سے دہرا رہی ہے تو حیرت کیسی؟

بات چلی تھی حکمرانوں کے خوش بیان و خوش خصال ترجمانوں کی شگفتہ بیانی سے جن کا دعوٰی تھا کہ پی ڈی ایم کا جلسہ بری طرح فلاپ ہو گا۔ بلکہ خود اعتمادی میں ڈوبے ایک وزیر اطلاع نے یہ چیلنج بھی دے دیا تھا کہ اگر پی ڈی ایم کے مکس اچار والے جناح اسٹیڈیم بھر دیں، تو وہ مستعفی ہو جائیں گے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے جلسہ نا کام بنانے کے لیے ٹھوس اور سخت اقدامات اٹھائے گئے۔ کورونا سے ڈرایا گیا، کینٹینر لگا کے اسٹیڈیم کو سیل کر دیا گیا، صوبے کی تمام فورس جلسہ روکنے کے لیے جھونک دی گئی، گاڑیوں اور ڈرائیوروں کی پکڑ دھکڑ ہوئی، کارکنان اور قائدین کی گرفتاریاں ہوئیں، دھونس، دھمکی اور دھماکوں سے ڈرایا گیا مگر ان سب کے با وجود پی ڈی ایم نے بہت عظیم الشان جلسہ کر ڈالا۔ استعفے کا چیلنج دینے والے وزیر موصوف اب استعفٰی نہ دینے کے لیے یہ عذر لنگ تراش رہے ہیں کہ کرسیوں کے نیچے جگہ خالی تھی۔

پی ڈی ایم کے قائدین نے بڑی شاندار اور جاندار تقریریں کیں۔ جلسہ اس لیے توقعات سے زیادہ کامیاب ہوا کہ دو روز قبل مافیا کے خلاف بر سر پیکار ریاست مدینہ کے امیر الموٴمنین نے کوئی اٹھارہویں بار مہنگائی کے خلاف نوٹس لے کر اشیائے خورد و نوش میں ہوش ربا اضافہ کر دیا تھا اور اب جلسے میں سیاسی پارٹیوں کے کارکنان کے علاوہ غربت، افلاس اور بے روز گاری کے ہاتھوں مارے بد حال عوام بھی بڑی تعداد میں شامل تھے۔

سنا ہے اس جلسے کا حاصل کلام نواز شریف کی تقریر تھی۔ راقم نے نواز شریف ”غدار“ کی دھواں دار اور ولولہ انگیز تقریر اس لیے نہیں سنی کہ شنید ہے کہ آج کل ان کی تقریریں سننے والوں پر بھی غداری اور بغاوت کے مقدمات درج ہو رہے ہیں۔ البتہ نواز شریف کی تقریر کے جواب میں ریاست مدینہ کے امیر کی طرف سے جذبۂ حب الوطنی اور حب سپہ و سپہ سالار میں ڈوبی ایمان افروز اور روح پرور تقریر سننے کی سعادت ہم نے ضرور حاصل کی۔

ہمارے امیر نے نواز شریف کے بیانیے ووٹ کو عزت دو کا تیا پائنچہ کر کے رکھ دیا۔ انہوں نے واضح طور پر فرما دیا کہ نواز شریف بھارتی ایجنڈے پر ہیں۔ نواز شریف مودی کے پسندیدہ لیڈر ہیں، جب کہ میں تو مودی کو ایک آنکھ نہیں بھاتا، اس لیے کہ میں نے مودی کو دنیا میں ایکسپوز کیا ہے۔ میں نے الیکشن سے پہلے مودی کے الیکشن جیتنے کی دعا کی تھی تا کہ مودی مسئلۂ کشمیر حل کر سکیں۔ اور ساری دنیا نے دیکھا کہ الیکشن جیتنے کے بعد مودی نے کس مہارت، خوش اسلوبی اور ایک بھی گولی چلائے بغیر مسئلہ کشمیر چٹکیوں میں حل کر دیا۔

آخر میں ہم اپنے پیارے کپتان اور اسے لانے والوں سے ملتمس ہیں کہ حکومتیں اپوزیشن والوں کی تقریروں کے جواب میں تقریریں نہیں کیا کرتیں، کارکردگی دکھایا کرتی ہیں۔ مگر کارکردگی کا یہ عالم ہے کہ کپتان کے مہنگائی کے خلاف نوٹس لینے کے دوسرے ہی دن آٹا آج 76 روپے کلو سے 80 روپے کلو تک پہنچ چکا ہے اور ادھر پی ڈی ایم کے جلسوں میں ٹائیگر فورس کے نو جوان گرم انڈے بیچنے پر مجبور ہیں۔ نواز شریف کو غدار اور باغی ثابت کر نے کے لیے تقریریں ضرور کیجیے، مگر کارکردگی دکھانے کے بعد۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •