مجھے شرارتی دلہن چاہیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شیطانی دماغ کے ساتھ معصوم چہرہ بھی ایک نعمت ہے۔ میرا ذاتی خیال ہے، جب معصومیت کو کوئی منہ نہ لگاتا تھا، اس نے مجھے گلے لگا لیا۔ شاید یہی وجہ ہے، ہمارا معصوم سا چہرہ تو سب نے سنا تھا، پر ہمیں دیکھ کر تو معصوم ادائیں بھی لوگوں کو نظر آئیں۔ اور یہ معصوم ادائیں ہماری ہر غیر محرم عورت کے سامنے اپنے پورے جوبن پر ہوتی ہیں۔ ویسے بھی کہا جاتا ہے، پاکستانی مرد معصوم ہو نہ ہو، بیوی کے سامنے معصوم بنے ہی نظر آتے ہیں۔ میرے خیال میں مرد معصوم کم اور بھیگی بلی زیادہ بنے نظر آتے ہیں۔

لیکن بات آج میری معصومیت کی ہو رہی ہے۔ تو میں بتاتا چلوں، کبھی کبھی مجھے لگتا ہے، کہ بچپن میں پولیو کے بجائے مجھے معصومیت کے قطرے پلائے گئے تھے۔ تبھی مجھ سے ایسی حرکات سرزد ہوئیں، جن کا ذکر آج میں ڈنکے کی چوٹ پر کرنے جا رہا ہوں۔ لیکن اس سے پہلے سمجھ لیں، مجھے ہمدردی سے نفرت ہے، تسلی سے الجھن ہے، بھرم رکھنے بھی نہیں آتے اور فرشتہ صفت تو بالکل بھی نہیں ہوں، میٹھے جھوٹ کا ہنر سیکھ نہیں پایا اور معصوم سچ نے کئی لوگ چھین لے مجھ سے۔

میں آج تک اپنی معصومیت پر نہیں پچھتایا یا جب بھی پچھتایا اپنی چالاکی پر پچھتایا۔ ان باتوں کے بعد بھی جن مردوں کو ہم معصوم نہیں لگتے، وہ مجھے مشکوک لگتے ہیں اور جن عورتوں کو ہم معصوم نہیں لگتے، وہ مجھے معشوق۔ ویسے بتاتا چلوں، اگر مجھے غور سے دیکھا نہ جائے تو میں بھی ہیرو ہی لگتا ہوں۔ کیوں کہ ایک دن پچاس سیلفیاں لینے اور انھیں ڈیلیٹ کرنے کے بعد مجھے احساس ہوا تھا، تصویروں میں کیا رکھا ہے، بس دل صاف ہونا چاہیے۔

والدہ محترمہ سکول چھوڑنے جاتی تھیں اور روزانہ ہماری سماعت ڈرائیونگ کے دوران میں احمق، ان پڑھ، جاہل، عقل نہ موت اور مردود جیسے الفاظ سے محفوظ ہوتی تھی۔ اور ہم اکثر گلہ بھی کرتے نظر آتے۔ مجھے ایک دن والد صاحب چھوڑنے گئے، تو والدہ نے پوچھا آج سماعت پر کیا اثرات تھے۔ ہم نے بھی بتا دیا کہ کچھ ایسے الفاظ تھے، ما شا اللہ، میں واری جاؤں، سبحان اللہ، نظر نہ لگے، او ہو، چاند کا ٹکڑا ہی لگ رہی ہو، نظر نہ لگے میری۔ اس رات والد نے پوچھا، آپ کو امی پسند ہیں یا ابو؟ میں نے کہا، دونوں ہی پسند ہیں۔ ابو نے کہا کسی ایک کا بتاؤ نا۔

میں : دونوں ہی پسند ہیں۔
ابو: اچھا اگر میں امریکا جاؤں اور امی پیرس، تو آپ کس کے ساتھ جائیں گے۔
میں : پیرس، کیوں کہ مجھے پیرس پسند ہے۔
ابو: اچھا اگر میں پیرس جاؤں اور امی امریکا تو آپ کس کے ساتھ جاؤ گے۔ ؟
میں : امریکا
ابو: پیرس کیوں نہیں؟
میں : پیرس ایک دفعہ دیکھ لیا تھا نا۔ ابا اس دن سے ناراض ہیں۔

اس طرح اسکول کے زمانے میں مجھے فنانشل ایڈوائزر بنا دیا گیا۔ میں نے اپنے دوستوں سے کہا، جو رات کا کھانا نہیں کھائے گا، اسے پچاس روپے ملیں گے۔ سب دوست پچاس پچاس روپے لے کر سو گئے۔ جب صبح اٹھے تو میں نے کہا، ناشتہ اسے ملے گا جو پچاس روپے ادا کرے گا۔ اس دن سے دوست ناراض ہیں۔

پھر کالج میں میری سہیلی نے کہا: فرض کرو تمہارے ایک کروڑ کی لاٹری لگ آئے اور اسی دن مجھے کوئی اغوا کر لے اور ایک کروڑ مانگ لے، تو تم کیا کرو گے؟ میں نے بھی معصوم سا جواب دے دیا۔ کہ یہ نا ممکن ہے میری ایک دن میں دو لاٹریاں لگ ہی نہیں سکتیں۔ اس دن سے دوست بھی ناراض۔ یہ تب سے ہمارا تکیہ کلام ہے، لڑکی کو جان بنانے سے بہتر ہے، بندہ دیسی گھی کھا کے جان بنا لے۔ ویسے بھی ہمیں یقین نہیں کہ محبوبہ کی انگلی چائے میں گھمانے سے چائے میٹھی ہو جائے۔ اگر ایسا ہوتا تو میرا ایک معصوم سا سوال ہے، کہ پوری محبوبہ پانی والی ٹینکی میں ڈال کر روح افزا بنایا جا سکتا ہے؟

یونیورسٹی میں ایک دن آن لائن کلاس ختم ہوئی تو سر نے کہا کوئی سوال ہو تو پوچھوں۔ میں پوچھ بیٹھا سر جو درمیان میں آپ کو چائے دینے آئی تھیں وہ کون تھیں۔ سر بھی ناراض۔ زندگی میں میرا آگے نکل جانے کی وجہ بھی شاید یہ ہے۔ کہ میں نے ہمیشہ ان لوگوں کی غلطیوں سے سبق سیکھا ہے، جو دوسروں نے مجھ سے مشورہ لینے کے بعد کی ہوں۔ ویسے بھی عقل بادام کھانے سے نہیں آتی، بلکہ دھوکا کھانے سے آتی ہے۔ اور میں نے اپنی مختصر سی زندگی میں ہمیشہ دھو کے کھائے ہیں۔ مثال کے طور پر کھجور، سیب، انار، انگور، بادام، آم، ناشپاتی وغیرہ سب دھو کے کھائے ہیں۔ آپ بھی دھو کے کھایا کریں۔

آخر میں، میری دو گزارشات: یا تو ہمیں مکمل چالاکیاں سکھائی جائیں، نہیں تو ہم معصوموں کی الگ بستیاں بنائیں جائیں۔ اور دوسرا میری دولہن شرارتی ہونی چاہیے، کیوں کہ معصوم تو میں خود بھی بہت ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •