مغلظات اور الزام تراشی کی بجائے قومی مفاہمت کا اہتمام کیا جائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان جمہوری تحریک کے نام سے اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج گوجرانوالہ سے کراچی پہنچ چکا ہے جہاں مختلف جماعتوں کے لیڈر خطاب کر رہے ہیں۔ جلسہ کے آغاز میں پشتون تحفظ موومنٹ کے لیڈر محسن داوڑ نے مطالبہ کیا ہے کہ سیاست میں فوج کے کردار کے حوالے سے الزامات سننے میں آئے ہیں لیکن حکومت نے ابھی تک حقیقت جاننے کے لئے کوئی اقدام نہیں کیا۔ مناسب ہوگا کہ اس بارے میں ’ٹروتھ کمیشن‘ بنایا جائے تاکہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے۔

محسن داوڑ نے یہ بات مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی طرف سے جنرل قمر جاوید باجوہ اور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید پر اس الزام کے تناظر میں کہی ہے کہ ان دونوں نے نواز شریف کو اقتدار سے علیحدہ کرنے اور تحریک انصاف کو اقتدار تک پہنچانے میں کردار ادا کیا تھا۔ اس الزام کے جواب میں وزیر اعظم عمران خان نے نواز شریف پر الزام لگایا تھا کہ وہ ’یہ وہ شخص ہے جو ضیا الحق کے جوتے پالش کرتے وزیراعلیٰ بنا تھا‘ ۔ محسن داوڑ کا کہنا ہے کہ دونوں طرف سے سیاست میں فوج کی مداخلت کے بارے میں الزامات کی حقیقت جاننے اور قیام پاکستان سے اب تک یہ معلوم کرنے کے لئے کہ سیاست میں فوج کا کیا کردار رہا ہے، ایک ایسا کمیشن بنایا جائے جو سارا سچ سامنے لا سکے۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے لیڈر کو یہ مطالبہ کرتے ہوئے یقیناً اس بات کا پوری طرح احساس ہوگا کہ اس ملک میں کسی بھی معاملہ پر بننے والے کمیشن یا تحقیقاتی کمیٹی کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔ اول تو ایسا کوئی بھی کمیشن سچ سامنے لانے کی بجائے اسے چھپانے اور جھوٹ کا پردہ برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اور اگر کسی کمیشن کی رپورٹ سامنے آ بھی جائے تو اسے دبا لیا جاتا ہے۔ عمران خان نے چند ماہ پہلے چینی اور گندم کی قیمتوں میں اچانک اضافہ کے بارے میں بنائی گئی سرکاری کمیٹیوں کی رپورٹس جاری کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے ضرور اپنے سر یہ سہرا باندھا تھا کہ ان کی حکومت نے تاریخ میں پہلی بار تحقیقاتی رپورٹوں کو جاری کیا ہے۔ ایک طویل ٹویٹ پیغام میں انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ اس اسکینڈل میں ملوث ہر شخص کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔

اس وعدے کے بعد جو صورت حال سامنے آئی ہے اس کا خلاصہ یوں پیش کیا جاسکتا ہے : اول) عمران خان کے قریب ترین کہلانے والے جہانگیر ترین، ان رپورٹوں میں نامزد ہونے کے بعد تحریک انصاف کی داخلی ریشہ دوانیوں سے بچنے کے لئے بیرون ملک روانہ ہو گئے لیکن حکومت اس وقت اپنا سارا زور نواز شریف کو لندن سے واپس لانے پر صرف کر رہی ہے۔ دوئم) جس وزیر کا خاندان چینی اسکینڈل میں ملوث پایا گیا تھا اس کا محکمہ تبدیل کر کے ’مناسب سزا‘ دے دی گئی۔ اور حکومتی ترجمانوں نے زور بیان اس بات پر صرف کرنا شروع کر دیا کہ شریف خاندان اور آصف زرداری چینی اسکینڈل سے استفادہ کرنے والے اصل مجرم تھے۔ سوئم) تحقیقات، عمران خان کے وعدوں اور سرکاری اقدامات کے نتیجہ میں گزشتہ سال کے شروع میں جس بھاؤ سے چینی دستیاب تھی اب اس قیمت پر آٹا بھی نہیں ملتا۔ چینی کی قیمتیں ایک سو روپے کلو سے بڑھ چکی ہیں۔

کمیشن یا تحقیقاتی کمیٹیوں کی کارکردگی اور ان کے افشا ہونے یا مخفی رکھنے کے اگر ایسے ہی نتائج سامنے آتے ہوں تو یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ اگر عمران خان نے کسی طور محسن داوڑ کی بات سن بھی لی اور ان کے مطالبے یا تجویز کے عین مطابق کوئی ایسا ٹروتھ کمیشن بنا دیا جسے قیام پاکستان سے لے کر اب تک سیاست میں فوجی مداخلت کے سارے حقائق سامنے لانے کا کام دیا جائے تو اس کی کارکردگی اور اس پر ایک ایسی حکومت کا ردعمل کیا ہوگا جو اس وقت پوری طاقت سے اپوزیشن لیڈروں کو گمراہ اور دشمن کے ایجنڈے پر گامزن قرار دینے کے مشن پر متعین ہے۔ تمام تجزیہ نگار متفق ہیں کہ اپوزیشن کی موجودہ تحریک کو اصل قوت تحریک انصاف کی ناقص کارکردگی، بے مہار مہنگائی اور بیروزگاری کی وجہ سے ملی ہے۔ اگرچہ سیاسی زبان میں گفتگو کرتے ہوئے یہ مطالبہ سامنے آ رہا کہ ملک میں شفاف انتخابات کی روایت قائم کی جائے اور فوجی ادارے انتخابی نتائج میں مداخلت کے ذریعے پہلے سے طے شدہ پارٹی یا لیڈر کو اقتدار میں لانے سے تائب ہوں۔ تاکہ ملک میں ووٹ کو عزت و تکریم نصیب ہو سکے۔ عوام کے مسائل وہ لوگ حل کرسکیں جنہیں عوام اپنے ووٹوں سے منتخب کر کے اسمبلیوں میں بھیجتے ہیں۔

وزیر اعظم اور حکومت کے نمائندے اس قضیہ میں یہ سادہ بات سمجھنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں کہ جس تحریک کو وہ اپنی تقریروں اور دھمکیوں سے تباہ کردینے کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں، اسے روکنے کے لئے عوام کو مطمئن اور خوش کرنا ضروری ہے۔ عوام کو خوش کرنا کوئی خاص مشکل نہیں ہوتا بشرطیکہ حکومت ان کی بنیادی ضرورتوں کے حوالے سے اپنی ذمہ داری سمجھنے کی کوشش کرے۔ حکومت میں دو سال سے زائد گزار لینے والی حکومت اگر اب بھی اپنی کوتاہیوں کا ذمہ دار سابقہ حکمرانوں اور ان کی لوٹ مار کو قرار دے گی، مارکیٹ میں اجناس کی قیمتیں عام شہری کی دسترس سے باہر ہوں گی اور نوجوانوں کو روزگار ملنے کا کوئی امکان نہیں ہوگا تو بھوکے اور بیکار لوگ حکومت کی ہر بات کو جھوٹ اور اس پر انگلی اٹھانے والے ہر لیڈر کو درست مانیں گے۔

اپوزیشن اتحاد پاکستان جمہوری تحریک کے قیام اور احتجاج کے اعلان کے ساتھ ہی عمران خان دھؤاں دار تقریروں میں اپوزیشن لیڈروں کو دھمکانے اور ان کے ساتھی وزیر روزانہ کی بنیاد پر اپوزیشن رہنماؤں کو گمراہ اور جھوٹا ثابت کرنے کی بجائے اگر عوامی مسائل پر توجہ دیتے، قیمتوں کو کنٹرول اور مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق اجناس کی سپلائی کو ممکن بنانے میں تمام صلاحیتیں صرف کرتے تو اس احتجاج کا جوش اور اثر از خود کم ہو سکتا تھا۔ سوچ لیجیے اگر حکومت پورا زور لگا کر آٹے اور چینی کی کی قیمتیں ایک آدھ روپیہ بھی کم کروانے میں کامیاب رہتی تو اپوزیشن لیڈروں کا سب سے موثر ہتھیار ناکارہ ہو سکتا تھا۔ بدنصیبی سے جو صلاحیت مسائل حل کرنے پر صرف ہونی چاہیے تھی، اسے بیان بازی اور نعروں پر ضائع کیا جا رہا ہے۔

عمران خان دو سال تک وزیر اعظم رہنے کے باوجود یہ یقین نہیں کر پا رہے کہ وہ اب برسراقتدار ہیں۔ اس صورت میں کیا یہ سوال جائز نہیں ہوجاتا کہ کیا اس کی وجہ یہ تو نہیں کہ وہ بے اختیار اور فیصلوں سے معذور ہیں۔ ان سے بہتر تو صدر عارف علوی ہیں جو اگر ’بے اختیار‘ ہیں تو اس سچائی کے ساتھ مسکرا تو سکتے ہیں اور خود کو ملنے والے پروٹوکول پر راضی ہیں۔ عمران خان کے عہدے کی مجبوری و تقاضا ہے کہ وہ کچھ کر کے دکھائیں لیکن وزیر اعظم باتیں بنانے کے سوا کچھ کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ یہ مشکل اگر ان کی ذہنی کیفیت کی وجہ سے درپیش نہیں ہے تو انہیں کھل کر بتانا چاہیے کہ کس مجبوری نے انہیں ناکارہ اور غیر موثر وزیر اعظم بنا دیا ہے۔ وہ یہ مجبوری بیان نہ بھی کرسکیں بلکہ صرف اسے جان بھی لیتے تو وہ نواز شریف پر گرجنے برسنے کی بجائے اپنی بے بسی پر آنسو بہانے کا اہتمام کرتے۔

اپوزیشن کی احتجاجی تحریک سے عمران خان کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن حقائق سے آنکھیں چرا کر وزیر اعظم خود اپنی حکومت کے لئے سب سے بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔ کوئی بھی شخص اپنی ناکامی اور مجبوری کا الزام کسی دوسرے پر عائد نہیں کر سکتا۔ ملک میں آئینی حکومت کے دائرہ اختیار کا معاملہ تمام سیاسی قوتوں کا اہم ترین مسئلہ رہا ہے۔ یہ مسئلہ عمران خان کو بھی درپیش ہے۔ فوج کے ساتھ ایک پیج پر ہونے کا اعلان کر کے اپوزیشن کا منہ تو بند کیا جاسکتا ہے لیکن یہ اعلان حکومت کو درپیش چیلنجز کو ختم نہیں کر سکتا۔ بہت لوگ یہ بات بار بار مختلف طریقوں سے گوش گزار کرواتے رہے ہیں کہ کسی بھی معیشت کو متحرک رکھنے اور سرمایہ کاری کا ماحول پیدا کرنے کے لئے کسی بھی ملک میں سیاسی یک جہتی یا کم از کم ’سیز فائر‘ کی صورت حال ہونا ضروری ہے۔ اگر ملک میں تصادم اور جھگڑے کا ماحول ہو گا تو نہ کاروبار کام کریں گے، نہ سرمایہ کار اس معاشرے میں سرمایہ لگانے کا رسک لے گا اور نہ ہی معیشت کا پہیہ چلے گا۔ اس کا نتیجہ مہنگائی اور بیروزگاری میں اضافہ کی صورت میں سامنے آئے گا۔

حکومت یہ سمجھنے پر بھی آمادہ نہیں ہے کہ اپوزیشن حکومت پر تنقید نہیں کرے گی تو کیا کرے گی؟ کیا 2013 کے انتخابات میں قابل ذکر کامیابی کے باوجود عمران خان نے مسلسل یہی طریقہ اختیار نہیں کیا تھا۔ اگر وہ واقعی نیا پاکستان بنانے کی آرزو کے ساتھ اقتدار تک پہنچے تھے تو وہ اپوزیشن کو چور اچکے قرار دینے کی بجائے ان کے ساتھ بھائی بندوں کا سلوک کرتے۔ سیاسی ماحول میں آسودگی پیدا کرتے۔ اپوزیشن کی بات نہ مانتے لیکن انہیں دیوار سے لگا کر سڑکوں پر نکلنے پر مجبور بھی نہ کرتے۔ جس آئینی پارلیمانی نظام نے تحریک انصاف کو اقتدار تک پہنچایا تھا، اسی کی جڑیں کاٹنے کے نعرے بلند نہ کیے جاتے۔ کوئی نہیں کہتا کہ احتساب نہ کیا جائے۔ چوری کا حساب نہ مانگا جائے اور عدالتیں قصور واروں کو سماجی یا سیاسی حیثیت سے قطع نظر سزائیں نہ دیں۔ لیکن جب ایک مشتبہ جج کے فیصلہ پر ملک کے نمایاں لیڈر کو ملنے والی سزا کو موقوف کرنے کی بجائے عدالتیں قانونی موشگافیوں میں مصروف ہوجائیں اور حکومت اسے سیاسی نعرہ بنا کر اپنے حامیوں کی جذباتی تشفی کا اہتمام کرنے لگے تو احتساب، انصاف نہیں سیاسی انتقام کا نام بن جاتا ہے۔

محمود اچکزئی اور اختر مینگل کے الفاظ میں کراچی کے جلسے کا پیغام یہ ہے کہ چھوٹے صوبوں کے عوام کی مشکلات کو سمجھا جائے اور علاقائی خود مختاری کے اصول سے چھیڑ چھاڑ سے گریز کیا جائے۔ حکومت کو ایک پیج والی دوسری قوت کے ساتھ مل کر ایسے سیاسی و سماجی بیانیہ کی بنیاد رکھنی چاہیے جس میں سب خود کو عزت دار اور محفوظ محسوس کریں۔ نواز شریف کے جارحانہ طرز تخاطب سے خوف زدہ ہونے کی بجائے اس سے سبق سیکھنے کی کوشش کی جائے۔ ایسا ماحول پیدا کیا جائے کہ کسی سیاسی لیڈر کو پھر کبھی کسی فوجی لیڈر کا نام لے کر شکوہ شکایت کرنے کی ضرورت محسوس نہ ہو۔

عمران خان فراست کا مظاہرہ کریں تو وہ خود ایسے قومی ڈائیلاگ کی قیادت کر سکتے ہیں۔ اگر انہوں نے میڈیا پر قدغن لگانے اور ٹائیگر فورس سے خطاب والا لب و لہجہ اختیار کرنے پر ہی سارا زور صرف کر دیا تو کسی دوسرے کو یہ کام کرنا پڑے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1687 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali