انڈیا کا آٹو سیکٹر: کیا انڈیا میں کاروں کی فروخت میں واقعی تیزی آ رہی ہے؟

ندھی رائے - بی بی سی نامہ نگار، ممبئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈیا کی وسطی ریاست مدھیہ پردیش کے بیتول شہر میں رہنے والے اشون آریا نے حال ہی میں اپنے گھر والوں کے لیے ایک نئی ٹویوٹا گلینزا کار خریدی ہے۔

30 سالہ اشون نے رواں سال جون میں یہ گاڑی اس وقت خریدی تھی جب ملک کے بہت سے علاقوں میں لاک ڈاؤن نافذ تھا۔

بی بی سی سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے بتایا: ’میرے والد کے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا اور ہمیں کار کی اشد ضرورت محسوس ہوئی۔‘

اشون کا تعلق متوسط طبقے سے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے اہل خانہ نے وبا کے پھیلنے سے پہلے ہی ایک نئی کار خریدنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ والد کے ساتھ ہونے والے حادثے کے بعد یہ زیادہ ضروری ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیے

ہارلے ڈیوڈسن دنیا کی سب سے بڑی موٹر سائیکل مارکیٹ کیوں چھوڑ رہی ہے؟

انڈیا میں گاڑیاں بنانے کا شعبہ بحران کا شکار

انڈیا: ایمبیسیڈر گاڑی کا برانڈ معمولی قیمت میں فروخت

انڈیا میں برقی گاڑیوں کے لیے چیلنجز اور امکانات

وہ کہتے ہیں: ’میرے والد کو ہر روز کام پر جانا پڑتا ہے۔ میری والدہ اور بہن بھی روزمرہ کے کاموں میں اس کا استعمال کرتی ہیں۔ بیتول میں پبلک ٹرانسپورٹ بہت اچھی نہیں ہے اور اس وجہ سے ہمیں اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے کار کی ضرورت تھی۔‘

اشون جیسے خریداروں کی وجہ سے اگست کا مہینہ انڈین آٹوموبائل شعبے کے لیے اچھا رہا اور یہ انڈیا کی معیشت کے لیے امید کی کرن ہے کیونکہ انڈیا کی ترقی کی شرح پہلی سہ ماہی میں منفی تھی۔

لاک ڈاؤن کے وقت ضرورت پڑی

انڈین ریٹنگ ایجنسی ‘کیئر ریٹنگز’ کے مطابق ٹریکٹر، ٹو وہیلر اور مسافر گاڑیوں کے شعبے آٹو سیکٹر کے لیے امید افزا ہیں۔ یہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اس شعبے کا انڈیا کی جی ڈی پی میں سات فیصد حصہ رہتا ہے۔

اشون کار

BBC
اشون نے رواں سال جون میں یہ کار خریدی تھی

لیکن آٹو سیکٹر میں جاری سست روی کے لیے صرف کورونا وائرس کو ہی ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ معیشت کے دوسرے شعبوں کی طرح، کاربن اخراج کے معیاروں کے متعلق پالیسی میں تبدیلی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، بینکوں کے ذریعے وصول کی جانے والی سود کی زیادہ شرح اور پوری معیشت میں سست روی جیسی وجوہات نے آٹوموبائل کے شعبہ کو گذشتہ سال سے ہی متاثر کر رکھا ہے۔

فیڈریشن آف آٹوموبائل ڈیلرز ایسوسی ایشن (فاٹا) کے صدر ونکیش گلاٹی کا کہنا ہے کہ ’جولائی اور اگست کے مہینے ہماری توقعات سے بہتر تھے۔‘

ماہرین کا خیال ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران پبلک ٹرانسپورٹ پر مکمل پابندی سے نجی گاڑیوں کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ یہاں اس بات کا بھی امکان ہے کہ جہاں پبلک ٹرانسپورٹ بحال ہو گئی ہے وہاں بھی لوگ انفیکشن کے خوف سے اس کا استعمال کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ لہٰذا نجی گاڑیوں کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ریاست جھارکھنڈ کے شہر جمشید پور میں نربھرام موٹرز پرائیویٹ لمیٹڈ کے جنرل مینیجر پی کمار راؤ نے کہا: ‘ہم نے ٹو وہیلرز اور کم بجٹ والی کاروں کی فروخت میں اضافہ دیکھا ہے۔ بینک بھی فوری طور پر قرض دے کر لوگوں کی مدد کر رہے ہیں۔’

کمرشل گاڑیوں کے ڈیلرز پر دباؤ

ممبئی میں پرانی گاڑیوں کے بیچنے والے ابھیشیک جین کا بھی کہنا ہے کہ طلب میں اضافہ ہوا ہے۔ وہ کہتے ہیں: ‘مجھے لگتا ہے کہ ہر ایک اپنی حفاظت کے بارے میں فکرمند ہے۔ اسی لیے وہ ذاتی کار خریدنا چاہتے ہیں۔’

ریٹنگ ایجنسی آئی سی آر اے کے حالیہ سروے میں کہا گیا ہے کہ ‘کمرشل گاڑیوں کے ڈیلرز پر دباؤ ہے۔ نجی گاڑیوں کے ڈیلرز کو کچھ حد تک امید نظر آ رہی ہے۔’

ٹویوٹا کرلوسکر موٹرز کے وائس چیئرمین وکرم کرلوسکر بھی اس سے متفق ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ‘مجھے نہیں معلوم کہ ہم اپنے پاؤں پر کھڑے ہو چکے ہیں یا نہیں۔ ہم اس صورتحال کا ماہوار جائزہ لے رہے ہیں۔’

وکرم کرلوسکر نے بی بی سی کو بتایا: ’ہماری آرڈر بک اچھی لگ رہی ہے، لیکن ہم آنے والے تین ماہ تک کوئی منصوبہ بندی نہیں کر سکتے۔‘

کچھ عرصے قبل یہ خبریں آئیں تھیں کہ ٹویوٹا کرلوسکر انڈیا میں اپنے توسیع کے منصوبوں کو روک رہا ہے۔ تاہم وکرم کرلوسکر نے واضح کیا ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے کے لیے موجودہ پلانٹ میں 2000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

‘کیا موٹرز انڈیا’ میں سیلز اینڈ مارکیٹنگ کے نائب صدر منوہر بھٹ کا خیال ہے کہ آٹو سیکٹر کی ترقی کا براہ راست جی ڈی پی کی ترقی سے تعلق ہے۔ اگر معیشت ترقی کرتی ہے تو لوگوں کا اعتماد بڑھتا ہے اور وہ پیسہ خرچ کرتے ہیں۔

بھٹ نے کہا: ‘اگر لوگوں کو لگے کہ ان کے پاس پیسے ہیں تو وہ گاڑیاں خریدیں گے۔ مستقبل پر تبصرہ کرنا مشکل ہے کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ معیشت کی حالت بہتر نہیں ہے اور اگلے سال بھی اچھی نہیں رہے گی۔’

ماہرین کا خیال ہے کہ ابھی جو مانگ ہے وہ ان گاہکوں کی طرف سے ہے جو گاڑیاں خریدنے کے منتظر تھے اور اب اپنے منصوبے کے مطابق کاریں خرید رہے ہیں۔

شو رومز کے بند ہونے کی وجہ سے رواں مالی سال کے آغاز پر مانگ میں جو کمی آئی تھی، توقع ہے کہ اگلے چھ مہینوں تک پوری ہو جائے گی۔ ونکیش گلاٹی نے کہا: ‘ہم آگے بہتری کی توقع کر رہے ہیں کیونکہ صرف سنجیدہ گاہک ہی سامان خریدنے کے لیے سامنے آئے ہیں۔’

تہوار کے موسم سے توقعات

کیئر ریٹنگز کی رپورٹ کے مطابق اگست سنہ 2020 سے آٹوموبائل کے بنیادی سازوسامان بنانے والوں نے بھی شادیوں اور تہواروں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پیداوار میں اضافہ کیا ہے۔

ایم جی موٹر انڈیا کے صدر راجیو چھابا نے بی بی سی کو بتایا: ‘ان صارفین کے لیے استعمال کا پیٹرن بدل گیا ہے جن کے پاس بہت پیسہ ہے وہ اپنا پیسہ خرچ کر سکتے ہیں، ہم تہوار کے موسم کے منتظر ہیں۔ عام طور پر ہمارے لیے یہ سیزن پورے سال سے بہتر ہوتا ہے اور اس بار طلب میں اضافہ ہوا ہے، لہذا ہم مزید فروخت کی توقع کر رہے ہیں۔’

انڈیا میں تہوار کا سیزن جنوبی ہند میں اگست میں اونم سے شروع ہوتا ہے اور اپریل میں شمالی ہندوستان میں بیساکھی کے ساتھ ختم ہوتا ہے۔

صنعت کے تخمینے کے مطابق عام طور پر پورے سال کی 35 سے 40 فیصد فروخت تہوار کے موسم میں ہوتی ہے۔ ماہرین اور مارکیٹ کے لوگوں کا خیال ہے کہ دسمبر کے بعد اس شعبے کی اصل تصویر واضح ہوجائے گی۔

غیر یقینی صورت حال کے پیش نظر کروزر بائیک بنانے والی کمپنی ہارلے ڈیوڈسن نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ ‘ہریانہ کے بوال شہر میں اپنی سہولیات بند کر رہی ہے اور گڑگاؤں میں اپنے سیل آفس کو بھی کم کر دے گی۔’

ماہرین کا خیال ہے کہ اس شعبے میں ہارلے ڈیوڈسن کے اعلان سے زیادہ تبدیلی نہیں آئے گی۔ کیئر ریٹنگز کے ریسرچ تجزیہ کار وشسٹ انوالا نے بی بی سی کو بتایا: ‘وہ کروز بائیک کے سیکٹر میں ہیں اور یہ ملک کا بڑا حصہ نہیں ہے۔’

تاہم ایف اے ڈی اے کا خیال ہے کہ ہارلے ڈیوڈسن کے جانے سے 130 کروڑ روپے کا نقصان ہوگا اور 2000 افراد اپنی ملازمت سے محروم ہو سکتے ہیں۔

ہارلے ڈیوڈسن کے انڈین بازار سے نکلنے کی وجہ مالی بوجھ اور فروخت میں کمی ہے۔ وہ ایک انڈین کمپنی کے ساتھ شراکت کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔

کیئر ریٹنگ کے مطابق آٹوموبائل شعبے سے تقریبا ساڑھے تین کروڑ افراد کا روزگار منسلک ہے۔

اس شعبے کی بڑی کمپنیوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صارفین میں مانگ بڑھانے کے لیے اقدامات کرے۔

فیڈریشن آف آٹوموبائل ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر ونکیش گلاٹی نے بی بی سی کو بتایا: ‘مالی عدم استحکام ایک بڑا چیلنج ہے، حکومت کو اس ضمن میں کام کرنا چاہیے اور وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ صارفین کو پیسہ خرچ کرنے میں زیادہ اعتماد ہو۔

انڈیا میں آٹوموبائل کو ‘لگژری آئٹم’ سمجھا جاتا ہے، لہذا بیشتر گاڑیوں پر جی ایس ٹی کی سب سے زیادہ شرح 28 فیصد وصول کی جاتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت اس شعبے میں ٹیکس کو مناسب بنانے کی سمت کام کر سکتی ہے۔ مرکزی وزیر پرکاش جاوڑیکر نے حال ہی میں یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ حکومت جی ایس ٹی کی شرح پر غور کر رہی ہے۔

اس شعبے سے سکریپنگ پالیسی کے حوالے سے بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ سکریپنگ پالیسی کار مالکان کو 15 سال سے زیادہ پرانی گاڑیوں کو ہٹانے کے لیے ترغیب دے گی۔ اس کے لیے حکومت نئی گاڑیوں کی خریداری پر مالی یا ٹیکس پر مبنی فوائد دے سکتی ہے۔

خبر رساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق روڈ ٹرانسپورٹ اینڈ ہائی ویز کے وزیر نتن گڈکری نے کہا ہے کہ سکریپنگ پالیسی آخری مراحل میں ہے اور بہت جلد اس پر عمل درآمد کیا جاسکتا ہے۔ گڈکری نے یہ بھی تجویز پیش کی کہ صنعت کو اپنے ‘درآمدی انحصار’ کو کم کرنا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16689 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp