تسبیح کا دانہ گم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ٹوٹی تسبیح کے دانوں کے مانند بکھر جانا متروک سا محاورہ ہے، مگر جب ڈوری ٹوٹتی ہے تو تسبیح کے دانے بکھرتے تو ہیں ہی۔ یہ محاورہ پانچ، بلکہ ہمارے بیچ کی صورت میں چھے برس باہم رہنے کے بعد فارغ التحصیل ہونے سے ہم پہ کیا سبھی طلبا و طالبات پہ عملی زندگی میں جانے سے منطبق ہوتا ہے۔

کل جب ہماری تب کی کلاس کی ٹوٹی ڈور والی تسبیح کے دانوں کو کونوں کھدروں سے ڈھونڈ ڈھونڈھ کے اکٹھا کرنے والے ہمارے دوست اور ہم جماعت جنرل ریٹائرڈ اسلم نے گروپ میں ممتاز شیخ نام کے کسی ہم جماعت کی فیصل آباد میں رحلت کا لکھا تو میں نے فوری طور پر لکھا کہ یہ کون تھا، میں کلاس میں اس نام کی کسی شخصیت سے آگاہ نہیں ہوں، مگر فیصل آباد اور شیخ کے پیش نظر میں نے اگلے ہی لمحے یہ تاثر مٹا کے پوچھا کہ کہیں ”باجی تاجی“ کی بات تو نہیں کر رہے۔

اس مردانہ نام والا کوئی لڑکا نہیں بلکہ لڑکی ہم جماعت تھی۔ بہت ہی عام شکل صورت کی، ویسے تو ساری کلاس فیلو لڑکیاں ہم سب لڑکوں کی طرح سادہ صورت ہی تھیں، سوائے رخشندہ کے جو خوش شکل بھی تھی اور معصوم صورت بھی، مگر قد اور حجم سے مار کھاتی تھی۔ جب کہ ممتاز نسبتاً طویل قامت، گدلے زرد رنگ اور پرانی طرز کے بڑے سے فریم میں جڑے موٹے شیشوں والی عینک لگائے، جوانی میں ہی چہرے پہ بڑھاپا چڑھائے ہوئے ہوا کرتی تھی۔ اس ممتاز شیخ نے ہمارے میڈیکل کالج کے مجلہ ”نشتر“ میں ایک مضمون لکھا تھا، جس میں خیال ظاہر کیا تھا کہ عینک سے لڑکیوں کا حسن پچاس فی صد ماند پڑ جاتا ہے، لیکن اگر کسی کا حسن پہلے ہی پچاس فی صد ہو تو وہ صفر رہ جاتا ہے۔

خود آگہی کی اس جرات کے بعد میں نے ممتاز سے بات چیت کرنا شروع کی تھی اور اسے با قاعدہ ”باجی تاجی“ کہنے لگا تھا، جس کا وہ بظاہر برا نہیں مانتی تھی، کیوں کہ اسے گیان تھا کہ اس لقب سے میں نے کسی نوع کی پیش رفت کو نفی کر دیا تھا۔ ہاں باجی تاجی کا چھوٹا بھائی، جو ہم سے دو سال جونیئر اور اسی کالج میں تھا، جس میں ہم تھے خوب رُو، چاکلیٹی رنگ والا، جب کہ باجی زرد کھلتی رنگت کی حامل تھی۔ طویل القامت، وحید مراد کی طرح بال بنانے والا، شرمیلا مگر سوشل تھا۔ باجی کی وجہ سے اس سے بھی دعا سلام چل نکلی تھی۔

ہماری کلاس میں کوئی ایسی لڑکی تھی ہی نہیں، جس سے علم و ادب، منطق و فلسفہ پہ گفتگو کی جا سکتی۔ ساری کی ساری ڈاکٹر بننے آئی تھیں اور طب کی کتابوں سے ہی تعلق تھا، مگر ممتاز کا مضمون ظاہر کرتا تھا کہ وہ دوسری کتابوں کا بھی شغف رکھتی ہو گی، مگر بعد کی کسی گفتگو سے اس کے اس شوق کا کوئی تاثر نہیں ملا تھا۔

ہمارے زمانے میں لڑکیاں نہ میک اپ کرتی تھیں، نہ منہ پہ مارے گئے چھپکوں کو کان سے پیچھے اور گردن تک لے جاتی تھیں۔ اس لیے ان کے چہرے پہ منہ دھونے کی آخری لکیریں واضح ہوا کرتی تھیں۔ کچھ کے چہرے تو ان کی کم خوابی یا نیند پوری ہونے کی چغلی بھی کھایا کرتے تھے۔ لڑکیوں کے لیے لڑکی رہنا، دلھن کے مانند سج کے پڑھنے نہ آنا، کالج کی پراسپکٹس میں درج انتباہ تھا، جس پر لڑکیاں کار بند تھیں۔ چناں چہ ممتاز سادہ ہم جماعت لڑکیوں میں سادہ ترین تھی۔

کچھ ہی دنوں پہلے میں نے ایک ہم جماعت سے ممتاز سے متعلق سنا تھا کہ اس کے والد نے یہ کہہ کر ایک بے مایہ کو رشتہ دینے سے انکار کر دیا تھا کہ میری بیٹی ہائی ہیل کا جوتا پہن کر تمہارے گھر کے کھردرے فرش پر کیسے چل پائے گی، تو مجھے حیرت ہوئی تھی۔ ممکن ہے باجی تاجی ڈاکٹر ممتاز شیخ ہونے کے بعد ماڈرن ہو گئی ہو۔

تسبیح کے اس دانے کے گم ہو جانے کا رنج ہے، مگر رنج کی شدت کو پینتالیس برس کی مفارقت نے کم کیا ہوا ہے۔ تاہم رنج تو ہے جو اس تحریر کا سبب بنا۔ اللہ ممتاز کو جوار رحمت میں پناہ دے اور اس کے لواحقین کو جن سے میں آگاہ نہیں، صبر دے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •