پاکستان کا بحران: نیا مکالمہ کرنا ہو گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کا حالیہ بحران سنگین بھی ہے اور ایک ادارہ جاتی عمل میں ٹکراو کی کیفیت کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ دو بنیادی نوعیت کے مسائل اس وقت ہمیں در پیش ہیں۔ اول حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان نہ صرف بد اعتمادی بلکہ ایک دوسرے کے سیاسی وجود کو قبول نہ کرنے کی روش سے تلخی کا ماحول، دوئم اسٹیبلیشمنٹ اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے، بد گمانی سمیت، عملی طور پر براۂ راست اداروں اور ان کے سربراہوں پر تنقید اور الزامات کی بوچھاڑ۔ حزب اختلاف کا نیا اتحاد ”پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ“ کا اس وقت خصوصی ٹارگٹ، جہاں عمران خان ہیں، وہیں وہ اسٹیبلیشمنٹ کو بھی متنازع یا فریق بنا کر، اسٹیبلیشمنٹ اور حکومت کے درمیان ٹکراو پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ٹکراو کی کیفیت کسی بھی صورت پاکستان، سیاست، جمہوریت اور ریاست کے مفاد میں نہیں ہے۔

حزب اختلاف کے اتحاد کے تحت ہونے والے جلسوں میں اسٹیبلیشمنٹ یا کسی ادارہ کے سربراہ سمیت، ان کے کردار پر سیاسی گفتگو یقینی طور پر مناسب نہیں اور نا ہی یہ ادارے سمیت ملک کے مفاد میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خود اسٹیبلیشمنٹ کے حلقوں میں بھی حزب اختلاف کے اس کھیل پر تشویش کا پہلو نمایاں نظر آتا ہے۔ نواز شریف، مریم نواز، مولانا فضل الرحمن، محمود خان اچکزئی، عبدالمالک، سردار اختر مینگل سمیت کئی لوگوں کے لہجے میں تلخی کا پہلو نمایاں ہے۔

وہ براہ راست اسٹیبلیشمنٹ کو فریق سمجھتے ہیں اور ان کے بقول عمران خان کی حکومت کی حقیقی حمایت عوام نہیں بلکہ اسٹیبلیشمنٹ ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ عمران خان کی حکومت کو اسٹیبلیشمنٹ ہی چلتا کرے اور ملک میں نئے منصفانہ اور شفاف انتخابات کو یقینی بنائے۔ یہ شفاف انتخابات کیسے ہوں گے اور ہارنے والا کیوں کر انتخابی نتائج کو قبول کرے گا اور کیسے اسے مداخلت سے پاک انتخاب بنایا جائے گا، خود ایک بڑا سوال ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ ایک طرف حزب اختلاف کی سیاست میں بڑی پر جوش یا جذباتیت کا پہلو نمایاں ہے تو دوسری جانب حکومت بھی معاملات کو ٹھنڈا کرنے یا حزب اختلاف کو سیاسی مکالمہ میں لانے کی بجائے خود ایک رد عمل کی سیاست میں الجھی نظر آتی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان جارحانہ حکمت عملی کے تحت حزب اختلاف کو سخت چیلنج کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم اور ان کے وزرا، مشیروں کا لہجہ یا طرز عمل یا الفاظ میں خاصا جارحانہ ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ دونوں یعنی حکومت اور حزب اختلاف ایک دوسرے کو نیچا دکھانے یا گرانے کا ایجنڈا رکھتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ایک طرف حزب اختلاف اسٹیبلیشمنٹ کو ٹارگٹ کر رہی ہے تو دوسری طرف حکومت کے بیانات میں بھی بے وجہ اسٹیبلیشمنٹ کے کردار کو گھسیٹا جاتا ہے۔

اس صورت احوال کے دو امکانی منظر نامے ہوسکتے ہیں۔ اول حکومت اور حزب اختلاف کی لڑائی میں اسٹیبلیشمنٹ کو اور زیادہ متنازع بنا کر ان کی ساکھ پر سوالات اٹھائے جائیں۔ اس کا نتیجہ پہلے سے جاری ٹکراو کی سیاست میں اور زیادہ تلخی یا ٹکراو کو پیدا کرے گا یا اداروں کے درمیان مقابلہ بازی یا تقسیم کا سبب بنے گا۔ یہ عمل یقینی طور پر قومی مفاد میں نہیں ہو گا۔ دوئم طاقت کے تمام مراکز میں موجودہ صورت احوال کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک نیا سنجیدہ مکالمہ کیا جائے۔

اس میں حکومت، حزب اختلاف سمیت تمام اداروں کے اہم افراد بھی بیٹھیں اور معاملات کو افہام تفہیم سے سلجھانے کی کوشش کریں۔ کیوں کہ مسائل کا حل ہم ٹکراو کی بجائے مکالمے میں یا بات چیت کی مدد سے ہی تلاش کر سکتے ہیں۔ طاقت کے مراکز میں اس مکالمے کی بحث نئی نہیں ہے۔ پہلے بھی کئی افراد انفرادی سطح پر اس طرز کے مکالمہ کی حمایت کر چکے ہیں۔ چودھری احسن اقبال، شاہد خاقان عباسی، سابق چیئرمین سینٹ رضا ربانی، سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ، کئی اہل دانش، علمی و فکری راہنما، سابق بیوروکریٹ، سابق فوجی افسر، ایک سے زیادہ مرتبہ بحران کا حل ”طاقت کے مراکز میں ایک نیا مکالمہ“ تجویز کر چکے ہیں۔ لیکن اس تجویز کو کوئی بڑی سیاسی پذیرائی نہیں مل سکی۔

ماضی میں سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے براہ راست صدر مملکت عارف علوی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ذاتی کوشش سے اداروں کے درمیان مکالمے کا اہتمام کریں تا کہ اداروں کے درمیان موجود خرابیوں سمیت ایک نیا چارٹر آف گورننس سامنے آ سکے۔ ان کے بقول اس مکالمے میں پارلیمنٹ کے ارکان، عدلیہ، فوج اور انٹیلی جنس اداروں کے سربراہ بھی شریک ہوں۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ تمام اداروں کو اپنی سیاسی، قانونی، انتظامی یا ادارہ جاتی حدود میں رہنا ہو گا اور اپنے اپنے دائرہ کار سے تجاوز کی پالیسی سے گریز کرنا ہو گا۔

اگر چہ بہت سی حدود اس وقت قانون میں موجود ہیں، لیکن سب جانتے ہیں کہ اس پر عمل در آمد نہ ہونے کہ برابر ہے۔ یہ خرابی کسی ایک فریق کی جانب سے نہیں بلکہ تمام ہی اپنی اپنی سطح پر غلطیوں یا حدود سے تجاوز کر رہے ہیں۔ ایسے میں اس طرز کے ”مکالمہ“ کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے کہ تمام فریق مل بیٹھ کر متبادل حکمت عملی پر اتفاق کر کے آگے بڑھیں۔

کیوں کہ جب یہ منطق دی جاتی ہے کہ تمام ادارے متنازع ہو گئے ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف دست و گریبان ہیں تو ایسی صورت احوال میں مکالمہ واقعی نا گزیر ہوجاتا ہے۔ سیاست اور جمہوریت کے لیے خود ریاست اور اس کے اداروں کا مضبوط ہونا بھی بہت ضروری ہوتا ہے اور ہمیں ایسے طرز عمل سے گریز کرنا چاہیے جو داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر بطور ریاست ہماری مشکلات میں اضافہ کرنے کا سبب بنیں۔ اس سوچ اور فکر سے بھی سب کو آزاد ہونا ہو گا کہ سب خرابیاں محض ایک ہی ادارے میں ہیں اور باقی سب شفافیت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ مسائل سب میں ہیں اور سب نے اپنی اپنی سطح پر ماضی اور حال میں غلطیاں کی ہیں۔ اگر ان غلطیوں کی اصلاح کرنی ہے تو سب کو اپنی اپنی غلطیوں کو تسلیم کر کے ہار یا جیت کی بجائے ریاستی یا ملکی مفاد کے تحت اصلاحاتی عمل کو آگے بڑھانا ہو گا۔

یہ مکالمہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ پاکستان داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر جس مشکل دور سے گزر رہا ہے اور جو ہماری علاقائی سیاست سے جڑے مسائل ہیں یا جو ہمیں معاشی بحران کا سامنا ہے اس کا حل ایک مضبوط سیاسی استحکام سے ہے۔ فوج کا کردار، عدلیہ کا شفاف نظام یا احتساب کا شفافیت پر مبنی نظام، سیاسی مداخلت، شفاف انتخابات، سیکورٹی سے جڑے مسائل یا معاشی استحکام کا روڈ میپ پر واقعی ہمیں نئی سوچ اور فکر یا بیانیہ کی ضرورت ہے۔ اسی طرح جو سیاسی یا ادارہ جاتی تلخی ہے اس کا علاج بھی اسی مکالمہ اور اس کے نتیجے میں بننے والے بڑا اتفاق رائے ہی مسائل کے حل کی کنجی بن سکتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ یہ مکالمہ کیسے ہو گا اور کون اس کی پہل کرے گا۔ اصولی طور پر تو اس پہل کا آغاز خود حکومت کو کرنا چاہیے یا صدر مملکت کو یہ ذمہ داری دینی چاہیے کہ وہ اس پہل کا آغاز کریں اور حکومت سمیت حزب اختلاف اس مکالمہ کی کھل کر حمایت کرے۔ کیوں کہ جو بحران ہے اس کا علاج محض نئے انتخابات یا حکومت کا خاتمہ نہیں۔ طاقت کے زور پر حکومتوں کو گھر بھیجنا یا ماضی کی طرز کے انتخابات کا کھیل بھی مزید نئے انتشار کو جنم دے گا اور صرف کھیل کے فریق بدلیں گے اور تماشا جاری رہے گا، جو ملکی مفاد میں نہیں ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •