عوام کو نگلتے مسائل اور چور سپاہی کا کھیل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پی ٹی آئی کی حکومت کو دو سال سے اوپر ہو گئے ہیں۔ عوام سے جو دعوے اور چاند ستارے توڑ کر لانے کے وعدے کیے گئے تھے، وہ تو پورے نہ ہو سکے، البتہ چور سپاہی والا کھیل جو کہ الیکشن جیتنے کے لیے شروع کیا گیا تھا، اس کا خاتمہ ہوتا نظر ہی نہیں آ رہا۔ الیکشن سے کچھ دن قبل تو یہی لگتا تھا کہ ادھر موجودہ وزیر اعظم نے کرسی سنبھالی نہیں اور ادھر وطن عزیز نے ورلڈ پاور کا عہدہ حاصل کر لینا ہے، کیوں کہ دعوے اور بیان بازیاں ہی کچھ اس طرح کی گئی تھیں کہ کوئی پاکستانی کتنا ہی حقیقت شناس کیوں نہ ہو، کسی نہ کسی حد تک امید کی ڈوری تھام چکا تھا (جس جس کو یقین نہیں وہ 2018ء کے الیکشن سے قبل خان صاحب یا مراد سعید کی کوئی بھی تقریر اٹھا کر سن لے)۔ اب صورت احوال کچھ یوں ہے کہ حکومت کو شاید ابھی تک اپنے عہدے کا ادراک ہوا ہی نہیں، یا پھر جانے کیا بات ہے کہ دو سال سے اوپر ہو جانے کے بعد بھی، حکومت اپنی درست سمت متعین کرنے سے قاصر ہے۔

گزشتہ کچھ دنوں سے حزب اختلاف کا اتحاد اور مختلف شہروں میں جلسے سے موجودہ حکومت کو کافی شکایت ہے۔ وزیر اعظم صاحب فرماتے ہیں کہ اپوزیشن کے اس طرز عمل سے ملکی ترقی میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں، جب کہ یہ وہی جماعت ہے، جو خود سابق حکومت میں 126 دنوں کا دھرنا دے چکی ہے۔ اس وقت بھی پی ٹی آئی کی روش پر تنقید کا جواب ”پٹواری“ یا ”جیالے“ یا پھر ”چور کا ساتھی چور“ کے القابات سے ملتا تھا۔ وہی صورت احوال آج بھی ہے، یعنی ہر تک اور جواز کو ختم کرنے کے لئے بیان بازی، طعنہ زنی اور گڑے مردے اکھاڑنے کی تحریک انصاف کی پرانی روایت برقرار ہے۔

موجودہ حکومت کا ایک بہت بڑا مسئلہ، قول و فعل کا تضاد ہے۔ وزیر اعظم کے حالیہ بیانیے نے، مجھے شدید مایوسی سے دو چار کیا ہے۔ پی ٹی آئی کی سپورٹر نہ ہونے کے با وجود، مجھے کم سے کم حکومت سے اس رویے کی امید نہیں تھی۔ وزیر اعظم حزب اختلاف کو للکارتے ہوئے فرماتے ہیں کہ وہ تین بار جمہوری طور پر منتخب سابق وزیر اعظم نواز شریف کو وطن واپس لائیں گے، ہر سیاسی قیدی کو عام جیل میں رکھا جائے گا۔ مزید یہ کہ اب اپوزیشن ایک نیا عمران خان دیکھے گی۔ وغیرہ۔

کیا اس طرح کی دھمکیاں دے کر حکومت، حزب اختلاف کا آئینی اور قانونی حق چھیننا چاہتی ہے؟ کوئی وزیر اعظم سے پوچھے کہ جناب ایک جمہوری وزیر اعظم ہونے کے ناتے سے، کیا آپ کا اداروں کا دفاع کرنا جائز عمل ہے؟ جس طرح کی پابندیاں روز بروز میڈیا اور عام افراد پر لگا کر، عوام کی آزادی رائے کا حق مسلسل ضبط کیا جا رہا ہے، کیا یہ ایک جمہوری طرز عمل کہلایا جا سکتا ہے؟ آخر یہ کیسی جمہوری ریاست تشکیل دی جا رہی ہے، جہاں ایک ٹیکس دینے والا عام انسان، اپنے بنیادی حقوق (جان، مال، عزت) کے تحفظ کی بابت سوال کرے، تو غداری کے تمغے سے نواز دیا جاتا ہے؟

اب اس ملک میں سچ بولنے سے ہر انسان ڈرتا کیوں ہے؟ اور سب سے اہم سوال یہ کہ جو حکومت وقت اپنے اوپر تنقید برداشت نہیں کر سکتی، وہ باقیوں کے لیے حقارت بھرے الفاظ، دھمکیاں کیسے استعمال کر سکتی ہے؟ کیا وزارت یا کرسی مل جانے کا مطلب اخلاقیات سے مبرا ہو جانا ہوتا ہے؟ ریاست مدینہ کی اخلاقیات تو یہی کہتی ہیں کہ جس رویے کی توقع عوام سے رکھی جائے، اس کا عملی نمونہ حاکم وقت خود بن کر دکھائے، لیکن بہت سارے بکھرے وعدوں کے ساتھ اخلاقیات بھی بکھرتی نظر آ رہی ہیں۔

جب سوال حکومت کی کارکردگی پر ہوتا ہے تو ذمے داری پچھلی حکومتوں پر ڈال دی جاتی ہے۔ یہ سوال حکومت اپنے آپ سے کرے کہ کیا واقعی پچھلی حکومتیں آج بھی اتنی طاقت رکھتی ہیں کہ تحریک انصاف کی تمام تر نیک نیتی کے با وجود، کسی قسم کی ترقی نہیں ہونے دے رہیں؟ ابھی کچھ دن پہلے ہی بلاول بھٹو کے بارش کے متعلق بیان پر ہنسی اڑائی جا رہی تھی اور اب حالات یوں ہیں کہ گندم کی قلت پر کہا جاتا ہے کہ سسٹم ٹھیک نہیں تھا۔ بارش کی وجہ سے فصلیں تباہ ہوئیں، جس سے گندم کی قلت ہو گئی۔ کوئی بتائے گا کہ وزیر اعظم کا بیانیہ بلاول بھٹو کے بیانیے سے کس طرح سے مختلف ہے؟ بات یہی ہے کہ حاکم کے پاس عذر دینے کا جواز نہیں ہوتا۔ سسٹم ٹھیک رکھنا، جانچ پڑتال رکھنا حکومت کی ذمے داری تھی اور ہے اور بحران کی صورت میں سوال کرنا عوام کا حق بنتا ہے۔

پی ٹی آئی کو اپنے موجودہ رویے پر بھرپور نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ یقین جانیے جس طبقے کی تنقید سے موجودہ حکومت نالاں ہے، یہی طبقہ ضرورت پڑنے پر جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لئے حکومت کے ساتھ کھڑا ہو گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ٹک ٹاک اور مخالف سیاست دانوں کو چور، ڈاکو کہہ کر پیچھا چھڑانے کے بجائے، اپنے اصل فرائض کی جانب دھیان دے۔ معیشت، بے روز گاری، کمر توڑ مہنگائی اور انصاف کی عدم فراہمی ایسے سنگین مسائل ہیں جو منہ کھولے ہر فرد کو نگل رہے ہیں۔

جیسا کہ وزیر اعظم نے اپنے بیان میں فرمایا کہ اسٹیبلشمنٹ ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، اور دور دور تک ان کے لیے خطرے والی بات نہیں، پھر کیا وجہ ہے کہ حکومت کا دھیان قومی مسائل حل کرنے کے بجائے، سیاستدانوں سے منہ زوری پر ہے؟ حکومت وقت سے بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ حاکم کا عہدہ بہت پر وقار اور بڑا ہوتا ہے۔ اس عہدے کا استعمال غصے، بدلے اور طعنوں پر مبنی سیاست کے بجائے، عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کریں، ورنہ تمام تر مخالفین کو پھانسی پر بھی لٹکا دیا جائے، تو بھی حکومت اپنے اصل فرائض سے منہ موڑ کر خود کو باقیوں سے الگ یا بہتر ثابت نہیں کر سکتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •