ڈیزاینر اور برانڈ کا جنون، یا منفی ر حجان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وبا کے ان پر آشوب دنوں میں، جب کہ ہر کوئی یہ دہائی دے رہا ہے کہ کاروبار نہ ہونے کے برابر ہے، بے روز گاری میں اضافہ ہو رہا ہے، تا جر بھی چیخ پکار کر رہے ہیں۔ سرکاری اور غیر سرکاری ملازمین سراپا احتجاج ہیں، لیکن ساتھ ہی اگر دوسری طرف دیکھیں، تو ڈیزائنر کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں۔ لاک ڈاؤن میں بھی آن لائن دھڑا دھڑ خریداری ہو رہی ہے۔ 12000 کا جوڑا بھی دو تین دن کے اندر آؤٹ آف سٹاک ہو جاتا ہے۔ سمجھ نہیں آتا، کاروبار بند ہیں، لیکن پیسہ بے تحاشا ہے۔ کیا یہ مثبت ذرائع سے کمایا ہوا پیسہ ہے؟

خواتین کا کہنا ہے کہ ہر مہینے کم از کم دو ڈیزائنر سوٹ تو ہونے چاہیے، کیوں کہ کیٹی پارٹی یا کہیں اور آنا جانا پڑتا ہے۔ لو جی، ان مشکل دنوں میں پارٹیاں بھی جاری و ساری ہیں۔ بس کیا بتائیں، کہ ڈیزائنر اور برانڈ کی دوڑ میں ہر کوئی ایک دوسرے سے آگے جانے کی کوشش میں ہے۔ لوگ برانڈڈ چیزیں خریدتے ہیں اور پھر یہ مشکل کہ اب دوسروں تک کیسے تشہیر کی جائے۔ یہ بتانے کا بھی ایک الگ انداز ہے۔ جیسا کہ، ذرا میرے آگے (برانڈ) کے جوتے تو لانا، میری بربری کی جیکٹ تو دینا، ہائے میرا کوچ کا بیگ نہیں مل رہا، بھئی میں تو برانڈڈ جوتے کے علاوہ کوئی اور پہن ہی نہیں سکتی۔

میرے بیٹے کو تو صرف فلاں برانڈ کے کپڑے اور جوتے پسند ہیں۔ اور بیٹی ہمیشہ برانڈڈ چیزیں ہی استعمال کرتی ہے۔ اس دوڑ میں مرد بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ پینٹ یا جینز وہ لیں گے، جس کی جیب پہ بڑا سا مونو گرام ہو، ایسا ہی، جوتے اور شرٹ پر بھی ہو۔ لو بھئی اتنی مہنگی چیزیں خریدیں اور کسی کو پتا بھی نہ چلے!

کیا بھلا دور تھا، جب کسی بھی اچھی دکان سے بہترین کپڑا مل جاتا تھا۔ اسی طرح بہترین جوتے بھی مل جاتے تھے۔ نہ کوئی نت نئے ڈیزائنر کی دوڑ، نہ برانڈز کے بارے میں کوئی احساس کمتری تھا۔ معاشرے میں پائے جانے والے ان منفی رجحانوں میں آئے دن اضافہ ہو رہا ہے۔ ہر کس و نا کس، اندھا دھند اس کی تقلید میں مصروف ہے، اور جو ان لغویات سے دور ہیں، وہ سکون کی زندگی گزار رہے ہیں۔ بے شک اسی میں آسودگی ہے۔

والدین کے لیے یہ لمحہء فکریہ ہونا چاہیے، کہ بچوں میں احساس برتری کا یہ رویہ ان کے آنے والے کل کے لئے کیا کیا مسائل پیدا کر سکتا ہے۔

یقین کریں، اگر کسی ذی شعور نے آپ سے متاثر ہونا ہے تووہ آپ کا اخلاق اور کردار ہے۔ آپ کے پہناوے یا برانڈز سے کسی کو کوئی لینا دینا نہیں۔ اب دیکھیں آنے والے سالوں میں یہ ڈیزائنر اور برانڈز کا جنون کیا رخ اختیار کرتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •