معلومات تک رسائی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج نہ جانے کیا ہوا تھا، اسکول کی چھٹی ہوئے گھنٹے سے اوپر ہونے کو آ رہا تھا اور بابا ابھی تک اسے لینے نہیں آئے تھے۔ جیسے جیسے اسکول خالی ہو رہا تھا، وہ خوف کا شکار ہو رہا تھا۔ اس خوف کی کوئی اور وجہ نہیں بلکہ وہ مونچھوں والا چوکیدار تھا، جسے دیکھ کر وہ ڈرتا تھا۔ وہ چوکیدار اسے بالکل اچھا نہیں لگتا تھا۔ کیوں کہ وہ جب بھی گیٹ سے باہر نکلتا تھا، وہ چوکیدار غیر محسوس انداز میں اس کی کمر پر ہاتھ پھیرتا، جو اسے بالکل اچھا نہیں لگتا۔

ایسے واقعات کو معمولی جاننے کے بعد زینب، فرشتہ اور ان جیسی لا تعداد بچے اور بچیاں ریپ کا شکار ہو رہے ہیں۔ ہم جس معاشرے کا حصہ ہیں، وہاں پر والدین اور اولاد کے درمیان کمیونیکیشن گیپ ہر حال میں موجود رہتا ہے۔ کچھ باتیں بچوں سے کرنا مشکل ہو جاتی ہیں اور نا ممکن بھی۔ بچے تو بچے ہوتے ہیں، اگر ہم بچپن سے، ان میں ارد گرد موجود لوگوں کا ڈر بٹھا دیں گے۔ تو ان کے لیے آگے بڑھنا مشکل ہو جائے گا۔

اس لیے آج کے اس ٹیکنالوجی سے بھر پور دور میں یہ ضرور ممکن ہے کہ والدین وہ ویڈیو، جو انٹرنیٹ پر صرف اس لیے مہیا کی جاتی ہیں کہ بچے انھیں دیکھ کر اس بات کو سمجھ سکیں، کہ انھیں اجنبی اور جنسی ہوس سے بھر پور لوگوں سے اپنا بچاؤ کیسے کرنا ہے، ایسی ویڈیو، والدین بچوں کو ضرور دکھائیں۔ ماہرین نے یہ ویڈیو بچوں کے لیے بے حد محنت کر کے بنائی ہیں اور بچوں تک وہ پیغام پہنچاتی ہیں، جن کی انہیں ضرورت ہے۔

کہتے ہیں نا، کچھ باتیں عمر کے مراحل طے کرنے کے ساتھ ہی پتا چلے تو اچھا ہوتا ہے، اس لیے ہو سکتا ہے، والدین ہونے کے ناتے سے آپ کے لیے اس بات کا فیصلہ مشکل ہو، کہ آپ کو اپنے بچے کو کس بات کی کس حد تک آگاہی فراہم کرنی ہے اور کیسے کرنا ہے۔ ایسے میں ویب سائٹس پر موجود بچوں کی حفاظت والی ویڈیو آپ کے لیے آسانی پیدا کرتی ہیں کہ اپنے بچوں کو درندوں سے محفوظ رکھنے کے لیے، آپ ان تک وہ پیغام ضرور پہنچائیں جس سے وہ خود کو نا پاک عزائم والے افراد سے بچا سکے۔

جذبات اور احساسات زندگی کو خوبصورت بناتے ہیں، مگر کچھ کو ان جذبات کی قدر نہیں ہوتی۔ وہ دوسروں کو اس طرح تکلیف دیتے ہیں کہ جذبات اور احساسات کی خوبصورتی کو جانے بغیر، ان سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔ والدین ہی ہیں، بچے جن پر ہر حال میں اعتبار کرتے ہیں۔ انھیں معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی ہم سے محبت کرتا ہے، کسی کو ہمارا حقیقی خیال ہے، تو وہ ہمارے والدین ہیں۔ اگر وہ داغدار ہو جائیں، تو انھیں والدین پر بھی اعتبار نہیں رہتا۔ ایسے میں ضروری ہے کہ والدین، بچوں کو خود سے قریب کریں۔ ان کے لیے وقت نکالیں۔ ان کے ساتھ بیٹھیں اور ان تک وہ پیغام پہنچائیں، جن کی انہیں ضرورت ہے۔ ایسے وہ خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •