حکمران اشرافیہ کی باہمی چپقلش میں نیا کیا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایم کیو ایم 1988ء تک کراچی کے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے جن محرومیوں کا ذکر تواتر سے کرتی رہی، ان میں محکمہ پولیس کی طرف سے شہریوں پر کی جانے والی زیادتی نمایاں تھی۔ ایم کیو ایم کا وعدہ تھا کہ وہ برسر اقتدار آ کر پولیس میں کراچی کے اردو بولنے والوں کا تناسب بڑھا کر اس کا ازالہ کرے گی۔

پھر ہوا بھی ایسا کہ 1988ء میں شہری علاقوں میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے کے بعد، ایم کیو ایم پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر وفاق اور صوبے میں حکومت کا حصہ بن گئی، تو اس نے اپنے لوگوں کو پولیس میں بھرتی کیا۔ حالات بدل گئے 1992ء میں ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن شروع ہوا، جس میں انہی پولیس والوں نے حصہ لیا، جو اس دور میں بھرتی ہوئے تھے۔

حالات ایک بار پلٹ گئے ایم کیو ایم ایک بار پھر سیاسی مجبوری بن گئی۔ جب حالات پھر بے قابو ہونے لگے، تو کراچی میں ایک اور آپریشن ہوا اور پھر ملک میں جمہوریت کی بساط بھی لپیٹ دی گئی۔ وردی میں ملبوس ملک کے خود ساختہ حکمران نے ایم کیو ایم کو پھر گود میں بٹھا لیا۔ اس دوران میں ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن میں حصہ لینے والے پولیس افسر اور جوان سب ایک ایک کر کے مار دیے گئے، جن کے قاتلوں کا آج تک پتا نہ چل سکا۔

آپریشن کے بعد کراچی میں پولیس کے ساتھ رینجر کو بھی مستقل طور پر رکھا گیا ہے۔ رینجر پہلے دیہی سندھ کے کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کیا کرتی تھی، مگر اب شہری علاقوں کا بھی نظم و نسق سنبھالنے کی ذمہ داری دی گئی، تو ایک میان میں دو تلواروں والی بات شروع ہوئی ہے۔ رینجر شہری علاقوں میں اپنے لئے پولیس کے اختیارات کا تقاضا کرتی ہے، جو ایک معینہ مدت کے لئے دیے بھی جاتے رہے ہیں۔ کچھ ایسے ہی حالات بلوچستان میں ایف سی کی تعیناتی کے ساتھ بھی ہیں۔ اختیارات کے ساتھ بد عنوانی کا آ جانا بھی ایک فطری عمل ہے، جو دیگر برائیوں کی بنیاد بن جاتی ہے۔

پولیس پنجاب کی ہو یا سندھ کی اس کا طرز عمل ایک جیسا ہے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے گورے مالکان کی بنائی پولیس کا کام تحفظ عامہ نہیں بلکہ اشرافیہ کو عامتہ الناس سے بچائے رکھنا ہے۔ اسلام آباد کے کانسٹی ٹیوشن ایونیو میں جتنے پولیس والے دن بھر کھڑے رہتے ہیں، اتنے پورے شہر کے تھانوں میں نہیں ہوتے۔ یہی کچھ کراچی کے ساتھ بھی ہے، جہاں پولیس صرف گورنر اور وزیر اعلیٰ کے گھروں، اسمبلی کی بلڈنگ اور چند دیگر عمارتوں اور ان کے مکینوں کے تحفظ ہی کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھتی ہے۔ اگر کہیں کسی جگہ دو لوگوں یا دو گروہوں میں کوئی جھگڑا بھی ہو جائے، تو داد رسی کے لئے پولیس وہ نہیں بلاتا، جو خود کو حق بجانب سمجھتا ہے، بلکہ وہ بلاتا ہے جس کی پہنچ اوپر تک ہے، یعنی جو طبقہ اشرافیہ میں شامل ہے، یا اس کے قریب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ملک کے عام آدمی نے پولیس پر کبھی بھروسا نہیں کیا۔

جب بھی عام لوگوں اور اشرافیہ میں تنازع ہو تو یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ پولیس ہمیشہ طبقہ اشرافیہ کے ساتھ کھڑی ہو گی اور شاباشی لے گی۔ مگر دل چسپ صورت احوال اس وقت پیش آتی ہے، جب جھگڑا اشرافیہ کے درمیان ہو۔ پولیس کبھی ایک کا کبھی دوسرے کا ساتھ دے کر ہمیشہ نقصان اٹھاتی ہے۔ پنجاب میں گزشتہ دو سالوں میں جتنے پولیس سربراہ اور سینیئر افسر تبدیل کر دیے گئے یا گھر بٹھا دیے ہیں، وہ مفاد عامہ میں نہیں بلکہ طبقہء اشرافیہ کے باہمی چپقلش اور ذاتی مفادات کی جنگ کا نتیجہ ہے۔

کراچی میں مزار قائد کی بے حرمتی کے جرم میں ملک کے سب سے طاقتور سیاستدان اور تین دفعہ کے وزیر اعظم کے داماد کو جس انداز میں چادر اور چار دیواری کے احترام کا آئین میں دیے گئے حق کو پامال کر کے گرفتار کیا گیا، اس کا مقصد بادی النظر میں مزار قائد کی تقدیس سے زیادہ اس شخص کی تذلیل ہے۔ وگرنہ قائد اعظم کے مزار ہر جو کچھ ہوتا رہا ہے، اس کی خبریں جس انداز میں ’سرعام‘ چلتی رہی ہیں، اس کا ذکر تو ایک طرف اس کے بارے میں سوچتے ہوئے بھی سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ مگر کسی کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی ہو، یہ کبھی نہیں سنا۔ مگر جنرل یحییٰ کا آرڈینینس صرف سیاسی نعروں ہی کو توہین قرار دیتا ہے۔ کوئی اور بد اخلاقی اور بے حیائی نظر ہی نہیں آتی۔

یہ واقعہ ایک طرف، طبقہء اشرافیہ کی آپس کی چپقلش کا آئینہ دار ہے، تو دوسری طرف ریاستی اداروں کے درمیان طاقت اور اختیارات کی کشمکش کا مظہر بھی ہے۔ چادر اور چار دیواری اور عفت کی پامالی کا یہ واقعہ سب پہلی بار نہیں ہوا اور نہ ہی آخری بار ہے۔ اس سے پہلے ان گنہگار آنکھوں نے سی آئی اے سینٹر سے سٹی کورٹ میں پیشی پر لائی گئی شہلا رضا اور راحیلہ ٹوانہ کے لڑکھڑاتے قدموں کو بھی دیکھا ہے اور وینا حیات کی چیخیں بھی لوگوں نے سنی ہیں۔ ان واقعات میں ملک کے طاقتور ترین صدر غلام اسحٰق خان کا داماد کا ہاتھ تھا، جو نواز شریف کی بنائی صوبائی حکومت میں وزیر بھی تھا۔ جیسی کرنی ویسی بھرنی، آج نواز شریف یہ ضرور سوچتے ہوں گے کہ کبھی وہ بھی اس گھناونے کھیل کا حصہ رہے ہیں، جس کا آج وہ خود شکار ہیں۔

مخالفین پر بھینس چوری کے پرچے کروانے کی اس ملک کے اشرافیہ کی روایت بھی پرانی ہے۔ مگر اس بار رانا ثنا اللہ پر ہیروئن، وہ بھی 35 کلو گرام کا جو پرچا ہوا، وہ عام لوگوں کے لئے بڑی تفریح کا باعث بنا۔ ایک با ریش وزیر کا قسمیں کھا کر جھوٹ بولنا اور دوسرے کا صلواۃ پڑھ کر غلط بیانی کرنا ایسا مذاق تھا، جس نے تبدیلی سرکار سے وابستہ سنجیدہ امیدوں کو بھی دیوانے کا خواب بنا دیا۔ رانا ثنا اللہ کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہ بھی ایسے کارناموں میں یکتائے روزگار ہیں، مگر اس واقعے نے ان کو گنگا نہلا دیا۔ اب وہ بھی مونچھوں کو تاؤ دے کر اپنی بات کا آغاز ہی اس کیس سے کرتے ہیں، جس میں ان پر جھوٹا الزام لگا کر گرفتار تو کیا، مگر کچھ ثابت نہ ہو سکا۔

اشرافیہ کی چپقلش میں پولیس کا استعمال نا ہی نیا ہے، نہ اچنبھے کی بات، مگر اس بار جو نیا ہو رہا ہے، وہ اس جنگ میں قومی سلامتی کے اداروں کا دخل ہے۔ رانا ثنا اللہ پر ہیروئن کا الزام ہو یا کیپٹن صفدر پر مزار قائد کی توہین کا کیس، اس میں ان پردہ نشینوں کا نام براہء راست آیا، جو پہلے اشارے کنایوں میں لیا جاتا تھا۔ بد قسمتی سے دونوں واقعات میں جو چیز سب کو نظر آ رہی ہے، وہ جھوٹا الزام ہے، جس کی پاداش میں گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔ جھوٹے الزام میں گرفتار ہونا کسی سیاستدان کے لئے جتنا فائدہ مند ہے، اتنا ہی کسی بے گناہ کو گرفتار کرنے کا الزام قومی سلامتی کے اداروں کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ کیوں کہ سیاست کا تقاضا ہے کہ اس کا ذکر بار بار ہوتا رہے اور ادارے ہمیشہ پس چلمن رہ کر اپنا کام کرتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 234 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan