عمران خان عوامی وزیر اعظم کیوں نہ بن پائے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمران خان عوامی وزیر اعظم کیوں نہ بن پائے؟ سوال مشکل بھی ہے اور آسان بھی ہے۔ غریب عوام جو پاکستان کی کل آبادی کا 70 فی صد ہیں۔ کل جو مڈل کلاس تھے، آج وہ بھی ریورس گیئر میں ہیں۔ جواب ہاں یا ناں جاننے کے لئے ہمیں عمران خان کی سیاسی جد و جہد، حکومت بننے سے پہلے اور بعد کا ایک طائرانہ جائزہ لینا ہو گا۔ جہاں سوائے صادق و امین، کرپشن سے پاک نیا پاکستان، چور سپاہی کے کھیل کے خاتمے کے دعووں یا مسلم لیگ پر سیاسی پابندی لگانے اور پیپلز پارٹی کو کچلنے کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔

حکومت کے ڈھائی سال گزر چکے ہیں۔ تا حال عمران خان کیے گئے وعدوں میں سے ایک بھی وعدہ پورا نہیں کر پائے۔ بلکہ عوامی مسائل میں بے بہا اضافہ ہوا ہے۔ پچاس لاکھ نئے گھر بنانے، ایک کروڑ ملازمتیں دینے کا وعدے تا حال پورا نہ ہو سکا۔ آئی ایم ایف سے قرض نہ لینے کا عزم، غلط منصوبہ بندی اور سیاسی کشمکش کی نظر ہو گئے۔ کرکٹ کا میدان ہو یا حکومت، کامیابی کا انحصار بہترین ٹیم پر ہوتا ہے۔ ملک میں جرائم میں اضافہ، افراتفری اور بے روز گاری میں اضافہ، مہنگائی میں ہوشربا اضافے کی وجہ سے کرایہ دار افراد بھی بے گھر ہو چکے ہیں۔

لوگ نان تفتان کو ترس گئے ہیں۔ لوگوں کے چولھے سرد پڑنے لگے ہیں۔ پچھلی حکومت میں جو دھاندلی دھاندلی کا شور الاپتے رہے۔ دھاندلی کو جواز بنا کر دھرنا کے ذریعے اسلام آباد کو یرغمال بنائے رکھا۔ کنٹینر پر چڑھ کر ان کے حواری ملک جلاو گھیراو کے نعرے بلند کرتے رہے۔ پاکستان ٹیلی ویژن اور تھانوں پر حملوں میں قانون کو مطلوب ہیں۔ حیرت ہے، یہ تمام تر جرائم سمیت پھر بھی صادق و امین ہی ٹھہرے۔ کل جو سابق حکومت پر کرپشن اور دھاندلی کے الزامات لگا رہے تھے۔

آج جب ان کی حکومت ہے تو وہی تاریخ اپنا آپ دہرا رہی ہے۔ اب حالات گزشتہ حکومت سے بالکل متضاد ہیں۔ عمران کے جارحانہ رویے کی وجہ سے صوبہ سندھ، جہاں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔ دور دور تک گڈ گورنس نظر نہیں آتی۔ جس کی بنا پر اٹھارہویں ترمیم کی بدولت تمام صوبوں کو خود مختاری حاصل ہے۔ تمام صوبوں کو ان وسائل پر قابض کرنے اور صدارتی نظام بحال کرنے کی غرض سے اٹھارہویں ترمیم کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ نیب جس کو ہمیشہ حکومت مخالف سیاسی پارٹیوں کے قائدین کو قید و بند اور سیاسی دشمنی نبھانے کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

یہی الزام ان پر بھی لگا یا جا رہا ہے۔ نیب کی غیر تسلی بخش کارکردگی اور نا کافی ثبوتوں کے بغیر گرفتاریوں اور حبس بے جا میں رکھنے پر سپریم کورٹ آف پاکستان بھی برہمی کا اظہار کر چکی ہے۔ مگر تا حال نیب اپنی کارروائیوں میں مصروف عمل ہے۔ اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ عمران خان کا رویہ اور ان کا طرز حکومت سے وہ مطلق العنان دکھائی دیتے ہیں۔

جب سے اپوزیشن کا اتحاد متحرک ہوا ہے، اور گوجرانوالہ میں اپوزیشن کے اتحاد کا پہلا جلسہ ہوا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی نیندیں حرام ہو گئی ہیں۔ وہیں پی ٹی آئی کے اخلاق باختہ صوبائی اور وفاقی وزیروں نے اپنے چیئرمین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تمام حدیں پار کر لی ہیں۔ عمران خان کی غیر پارلیمانی و غیر مہذب زبان نے تمام پاکستانی قوم کے سر شرم سے جھکا دیے ہیں۔ جس کا ثبوت گوجرانوالہ میں اپوزیشن کے اتحاد کے جلسے میں بہانہ بنا کر ان پر مقدمات بنا کر انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ انہیں عوام سے کوئی غرض نہیں۔ اس کا اثر یہ ہوا ہے کہ وہ آہستہ آہستہ عوامی مقبولیت کھو رہے ہیں۔

غریبوں نے انہیں ووٹ اس لئے دیے تھے کہ ان کے آنے سے ملک میں خوش حالی آئے گی انہیں انصاف ملے گا۔ ملک سے کرپشن ختم ہو گی۔ مگر انہوں نے تو اپنے ارد گرد کرپٹ وزیروں کا ایسا ٹولہ جمع کر رکھا ہے۔ جو کوئی بھی لمحہ ضائع کیے بغیر شاہ کے اقتدار کو مضبوط کرنے کے لئے بد اخلاقی کی تمام حدیں پار کرتے دیر نہیں لگاتے۔ کیا یہی صادق و امین کی زبان ہے۔ اور وزیر اعظم سارا وقت صرف اپنی دشمنی نبھا نے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ انہیں غریب عام سے قطعی کوئی غرض نہیں۔

ان کے جذبات کا اندازہ اس تقریر سے کیا جا سکتا کہ گوجرانوالہ کے اتحادی جلسے کے فوراً بعد ٹائیگر فورس جو مہنگائی کی مانیٹرنگ اور خاتمے کے لئے بنائی گئی ہے۔ ٹائیگر فورس کنونشن سے خطاب کے دوران میں عمران خان نے زیادہ وقت نواز شریف، اپوزیشن کی قیات پر تنقید کرنے میں ضائع کیا۔ انہوں نے گوجرانوالہ کے جلسے کو ایک سرکس قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ کسی بھی چور اور ڈاکو کو پروڈکشن آرڈر نہیں دیا جائے گا۔ جس کا اختیار صرف اسمبلی سپیکر کو حاصل ہے۔ اس کا یہی مطلب اخذ کیا جا سکتا ہے۔ نواز شریف کی تقریر کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ فوج، عدلیہ اور دوسرے اداروں کے خلاف قرار دیا۔ اور یہ بھی کہ وہ انڈیا کی ایما پر سب کچھ کر رہے ہیں۔ انہیں جلد پاکستان لایا جائے گا۔ منہ پر ہاتھ پھرتے ہوئے فرمایا کہ نواز شریف میں تجھے نہیں چھوڑوں گا اور یہ الفاظ وہ اکثر و بیشتر کہتے نظر آتے ہیں۔ جیل میں عام آدمی جیسی سہولت دی جائے گی۔ حتی کہ ان کے منہ سے یہ بھی نکلا کہ نیب ان کے تابع ہے، جملہ مکمل ہوتے ہوتے رہ گیا۔ وہیں انہوں مریم نواز بلاول بھٹو کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے، انہیں بچے قرار دیا۔

ادھر مریم نواز نے کراچی میں عمران خان کو ان کی غیر اخلاقی زبان کا کمال خوبصورت الفاظ سے جواب دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم کسی پریشر میں نہیں آنے والے بلکہ سچ تو یہ ہے بنا کسی قصور و گناہ کے جیل میں ڈالا گیا مگر اب عدالتوں نے نواز شریف کے مقدمات کو جلد نبٹانے کو کہا ہے۔ عمران خان عوامی وزیر اعظم کم اور کپتان زیادہ نظر آتے ہیں۔ ان کا غصہ سے یہ کہنا کہ وہ اب عمران خان کو پہلے سے مختلف پائیں گے۔ یہ کیا پیغام دیا انہوں نے۔ یہ وقت بتائے گا۔ غریب عوام کو اس وقت اپنے مسائل سے سروکار ہے۔ انصاف دینا عدالتوں کا کام ہے۔ انہیں خود کو پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ سب کا وزیر اعظم ثابت کرنا تھا، جو فی الحال ثابت کرنے میں بری طرح نا کام نظر آتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •