ووٹ کو عزت یا غریب کی روٹی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معرکہ کوئی بھی ہو پہلا تیر چلانے والے کی کچھ اپنی اہمیت ہے۔ اس سلسلہ میں پہلی بلند آواز جاوید ہاشمی کی تھی۔ پھر قومی اسمبلی کی سیٹ سے استعفیٰ کوئی معمولی بات نہیں۔ انہیں کا کام ہے جن کے حوصلے ہیں زیاد۔ جاوید ہاشمی کو اس جرات رندانہ کی جاتی عمرہ سے داد بھی نہ ملی۔ انہوں نے چڑیوں ہاتھ سندیسے, کاگوں ہاتھ سلام، سب جتن کر دیکھ لئے۔ ادھر سے کوئی بلاوا نہ آیا۔ ایک مرتبہ جاوید ہاشمی شاعر لاہور شعیب بن عزیز کے کان سے منہ لگا کر کچھ کہہ رہے تھے۔ پیچھے چلتے کالم نگار نے آواز لگائی۔ اتنی رازداری کی ضرورت نہیں، سارا لاہور جانتا ہے کہ آپ کہاں کیا پیغام پہنچانا چاہتے ہیں؟ پھر یوں ہوا کہ زمانہ ابتلا کے اس مسلم لیگی صدر کو ایک انتخابی ٹکٹ بھی نہ ملا۔

اب سول بالا دستی کا یہی نعرہ میاں نواز شریف نے لگایا ہے۔ آپ انہیں جاوید ہاشمی کا مکبر کہہ سکتے ہیں۔ کسی امام کی آواز اگر نمازیوں کی کثرت کے باعث سبھی تک نہ پہنچ پائے تو امام کی آواز دہرانے والے نمازی کو مکبر کہا جاتا ہے۔ پاکستان کسی فوج کی لشکر کشی کا حاصل نہیں۔ یہ ملک اک شاعر کا دیکھا خواب ہے جس کی تعبیر ایک سیاستدان نے ڈھونڈی۔ ابتدائی دنوں میں ہی ہماری فوج کی من مانی کرنے کی خواہشیں ظاہر ہونے لگیں۔ قائد اعظمؒ نے فرمان جاری کیا۔ جو انگریز افسر پاکستان میں رہنا چاہیں، رہ سکتے ہیں۔ بہت سے انگریز افسر رہ گئے۔ اس طرح بہت سے پاکستانی افسروں کو اپنی بے پناہ ترقی کے خواب ٹوٹتے دکھائی دیے۔ ایک فوجی نوجوان قائد اعظمؒ کے روبرو پھٹ پڑا۔ کیا ہم نے یہ ملک اس لئے حاصل کیا تھا کہ یہاں انگریز فوجی افسر بدستور اپنی اعلیٰ پوسٹوں پر فائز رہیں؟ قائد اعظمؒ نے اسے ڈانٹتے ہوئے جواب دیا۔ یہ فیصلہ کرنا ہم سویلین کا کام ہے کہ پالیسی کیا ہوگی؟ آپ کا فرض صرف حکومتی احکامات کی تعمیل ہے۔ لیکن قائد اعظم کے بعد ایسے حالات نہ رہے۔

1953 ء میں امریکی سفیر نے اپنی حکومت کو مراسلہ بھجوایا۔ آج پاکستان کے آرمی چیف سے ملاقات ہوئی۔ اس نے بتایا کہ ہم ملک کو سیاستدانوں کے ہاتھوں تباہ نہیں ہونے دیں گے۔ آخر فوج کی بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں۔ وہ اپنی ذمہ داریاں خوب سمجھتی بھی ہے۔ پھر کہانی آگے یوں چلتی ہے۔ پاکستان کے پہلے عام انتخابات فروری 1959 ءمیں ہونا قرار پائے۔ لیکن اکتوبر 1958 ء میں اسی جنرل ایوب خاں نے ملک میں مارشل لاء لگا دیا۔ جنرل ایوب اپنی وردی کی قدر و قیمت سے خوب آگاہ تھا۔ وزیر دفاع کا حلف اٹھایا لیکن بدستور آرمی چیف بھی رہا۔ گویا وہ خود ہی اپنا افسر تھا اور خود ہی اپنا ماتحت۔ اک نکتے وچ گل مک گئی۔

ایوبی عہد میں جسٹس کیانی کی تقاریر ہماری تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے۔ ان کا یہ جملہ حرف حرف غور سے پڑھیے۔ ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جس نے اقتدار اعلیٰ تفویض فرمایا افواج کو۔ پھر عوام کو افواج کا اور افواج کو اپنے مفاد کا تابع کیا“ ۔ پچھلے دنوں مزدور رہنماؤں کی نایاب نسل سے تعلق رکھنے والے صفدر حسین سندھو نے کالم نگار کو اپنی کتاب ”ہم قانوناً آزاد ہیں مگر“ عنایت فرمائی۔ اس میں انہوں نے چالیس کے قریب ان اداروں کا ذکر کیا ہے جن کا تعلق فوج سے ظاہر کر کے ان میں ٹریڈ یونین کو شجر ممنوعہ قرار دیا جا چکا ہے۔

بھٹو ایک طاقتور سیاسی رہنما تھے۔ جسٹس جاوید اقبال کی خود نوشت میں لکھے گئے ایک واقعے میں ان کے عہد کی پوری کہانی موجود ہے۔ لاہور ہائیکورٹ میں ایک دیوانی مقدمہ میں ایک حاضر سروس کرنل کی سرزنش کی گئی۔ بھٹو تک معاملہ کیسے پہنچا؟ بہر حال انہوں نے چیف جسٹس شمیم حسین قادری کو بلا بھیجا اور سمجھایا۔ ”ہم ابھی جنگل میں رہتے ہیں۔ اپنے جج صاحب کو سنبھالیے“ ۔ جج صاحب بیچارے اتنے خوفزدہ ہوئے کہ وہ سیدھے آرمی چیف ٹکا خاں کے حضور پیش ہو گئے۔ معافی تلافی ملنے پر داتا کے حضور دیگیں بھی چڑھائی گئیں۔ پھر جنرل ضیاءالحق کے آئین اور سیاستدانوں کے بارے بھونڈے ریمارکس تاریخ کا حصہ ہیں۔
یہ بھی پاکستانی تاریخ ہے کہ ہماری فوج نے ہمیشہ طبقاتی غیرت کا مظاہرہ کیا۔ جبکہ سیاستدانوں نے کبھی بھی نہیں۔ اگر سیاستدان بھی طبقاتی غیرت دکھاتے تو بھٹو کو پھانسی ممکن نہ تھی۔ جنہیں سوچنے کا مرض لاحق ہے وہ سوچتے رہتے ہیں کہ اگر بھٹو شیخ مجیب الرحمان سے مفاہمت کر کے شراکت اقتدار پر تیار ہو جاتے اور دوسرے 71 ءکی جنگ میں شکست کے ذمہ داروں کا محاسبہ ہو جاتا تو پاکستان میں ہمیشہ کے لئے سیاسی بالا دستی قائم ہو جاتی۔ پھر تو آج ہمارے آرمی چیف فلاح تحفظ اور خوشحالی کے لئے اپنے کیڈٹوں کو جوابدہ قرار نہ دیتے۔ وہ انہیں ملکی دفاع اور سول حکومت کے احکامات کی تعمیل تک محدود رہنے کا حکم سناتے۔ بہر حال بھٹو نے یہ دونوں مواقع ضائع کر دیے۔ یہ بات بھٹو اور ملک دونوں کے لئے مہلک ثابت ہوئی۔
بھٹو نے انسانی ضروریات کی بات کی اور ریاست کو ان کی فراہمی کا ذمہ دار قرار دیا۔ ان کے بعد ان کے روٹی کپڑا مکان کے نعرے کا خوب تمسخر اڑایا گیا۔ بتایا گیا کہ رازق اللہ کی ذات ہے، بھٹو نہیں۔ نا سمجھ نہ سمجھ سکے کہ اللہ رازق بھی ہے اور عادل و منتظم بھی۔ اس نے آدمؑ کو زمین پر اس کے رزق کا پورا بندوبست کر کے اتارا تھا۔ اللہ کی رزاقی کو ایک یورپی دانشور نوم چومسکی خوب سمجھا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ دنیا میں غریب ملک نام کی کوئی چیز نہیں۔ جب بھی کوئی نظام ملکی وسائل کو صحیح طور پر استعمال کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اسے غربت کہتے ہیں۔ نون لیگی شہر گوجرانوالہ میں نواز شریف نے سول بالا دستی کا نعرہ لگایا ہے۔ انہوں نے ووٹ کی عزت کا سوال اٹھایا ہے۔ نواز شریف قسمت کے دھنی ہیں۔ سیاست کے پرخار راستوں میں ان کے لئے کبھی جدہ اور کبھی لندن آ جاتے ہیں۔ اب وہ ”لندنی مچان“ پر بیٹھ کر اقتدار کے شکار کو نکلے ہیں۔ شیر ان کی جماعت کا انتخابی نشان ضرور سہی لیکن سبھی جانتے ہیں کہ پاکستان میں شیر کون ہے؟ ووٹ کی عزت برحق۔ کیا پاکستان میں سیاسی جماعتوں سمیت سبھی طاقتوں کو غریب کی روٹی یاد بھی ہے؟ عزت شاید اب غریب کا مطالبہ بھی نہیں رہا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •